بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کا ایک سال مکمل ہونے پر اسلام آباد میں تقریب

پاکستان کی جانب سے بھارتی جارحیت کے منہ توڑ جواب کو ایک سال مکمل ہونے پر وزیراعظم ہاؤس میں تقریب کا آغاز ہوگیا۔ گزشتہ سال 27 فروری کو پاکستان کی جانب سے بھارتی جارحیت کے منہ توڑ جواب کا ایک سال مکمل ہونے پر اسلام آباد میں سرکاری سطح پر تقریب شروع ہوگئی ہے، جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، ’’بھارتی جارحیت پر پاکستان کا ذمہ دارانہ جواب‘‘ کے موضوع پر تقریب وزیرِ اعظم آفس میں ہورہی ہے۔ پاک افواج کے جواب پر خصوصی ڈاکیومنٹری بھی پیش کی گئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام پڑوسیوں سےامن چاہتاہے، گزشتہ برس 26 فروری کو ہمسائے ملک نے جارحانہ اقدام کیا، پھر بھی ہماراپہلاپیغام تھاکہ بھارت جارحیت سے بازرہے، لیکن جب بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا تو 27 فروری کو پاکستان نے بھارت کو موثر جواب دیا۔ وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حکومتیں اورسربراہ تبدیل ہوتےرہتےہیں لیکن کشمیرپرہماراموقف کبھی تبدیل نہیں ہوا، مسئلہ کشمیرکےحوالے سے پوری قوم کی ایک ہی آوازہے، مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کے5اگست کااقدام ناقابل قبول ہے، بھارت کے یکطرفہ اقدامات خطے کے امن کیلئے بڑا خطرہ ہیں، مقبوجہ کشمیرعالمی سطح پرایک متنازع علاقہ ہے اور یورپی پارلیمنٹ میں اس پر سیرحاصل بحث کی گئی، کیادو ایٹمی قوتیں متنازع علاقےکےپرامن بارے سوچ سکتی ہیں؟۔ تقریب میں وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزراء سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان بھی شریک ہیں، جب کہ وزیراعظم عمران خان تقریب سے خصوصی خطاب کریں گے۔ تقریب میں 26 فروری 2019ء کو بھارتی جارحیت کے بعد پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کو اجاگر کیا جائے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں