
تحریر: #عبدالجبارناصر
عام انتخابات 2002ء کے بعد حکومت سازی کے عمل کے حوالے سے مذہبی جماعتوں بالخصوص جمعیت علماء اسلام پاکستان اور اہلسنت والجماعت حامیوں کے دعوے ایک دوسرے کی نفی میں ہیں، مگر تاریخی طور پر دونوں درست اور اس معاملے پر ہر دو جانب بالخصوص نئی نسل میں کئی غلط فہمیاں نزع کا سبب بنی ہوئی ہیں ،جس کی وجہ سیاسی پس منظر اور حقائق کا ادراک نہ ہونا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے کارکنوں اور حامیوں کا دعویٰ ہے کہ عام انتخابات 2002ء کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر اگر مولانا اعظم طارق سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی کو ووٹ نہ دیتے تو مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں میر ظفراللہ خان جمالی وزیراعظم منتخب نہ ہوتے، یعنی میر ظفر اللہ جمالی مولانا اعظم طارق کے ایک ووٹ کی وجہ سے وزیراعظم بن گئے، یہ دعویٰ اپنی جگہ درست اور ریکارڈ کے مطابق ہے۔
دوسری جانب اہلِ سنت والجماعت اور اس کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ اگر مولانا اعظم طارق مولانا فضل الرحمان کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے ووٹ دیتے بھی، تب بھی میر ظفراللہ خان جمالی ہی وزیراعظم منتخب ہوتے، یہ دعویٰ بھی درست اور ریکارڈ کے مطابق ہے۔ بظاہر یہ دونوں دعوے ایک دوسرے کی رد میں ہیں، مگر تاریخی طور پر دونوں درست اور حقیقت پر مبنی ہیں، تاہم ہر دو اپنے فائدے کی آدھی بات کرتے ہیں۔
عام انتخابات 2002ء کے بعد وزیراعظم کا انتخاب 21 نومبر 2002ء کو ہوا۔ کل 342 ارکانِ اسمبلی میں سے 330 ارکان نے حلف اٹھایا، پولنگ میں 328 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا، قومی اسمبلی کے الیکشن ریکارڈ سے اسکی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے۔
وزارتِ عظمیٰ کے لیے تین امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوا۔ جن میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے میر ظفراللہ خان جمالی کو 172 ووٹ، متحدہ مجلسِ عمل کے مولانا فضل الرحمان کو 86 ووٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے مخدوم شاہ محمود قریشی کو 70 ووٹ ملے۔ مجموعی طور پر 14 نشستیں خالی تھیں یا ووٹ کاسٹ ہوئے مگر فنی غلطی کے باعث شمار نہ ہو سکے یا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ آئینِ پاکستان کے مطابق وزیراعظم کے انتخاب کے لیے سادہ اکثریت یعنی 172 ووٹ حاصل کرنا لازمی تھا۔
یہاں جمعیت علمائے اسلام پاکستان اور مولانا فضل الرحمان کے حامیوں کا یہ مؤقف درست ہے کہ اگر مولانا اعظم طارق میر ظفراللہ خان جمالی کو ووٹ نہ دیتے تو جمالی مولانا فضل الرحمان کو ہرا کر وزیراعظم منتخب نہ ہو سکتے۔ تاہم یہ آدھا سچ ہے۔ پورا سچ یہ ہے کہ اگر مولانا اعظم طارق میر ظفراللہ خان جمالی کے بجائے مولانا فضل الرحمان کو ووٹ دیتے تو بھی میر ظفراللہ خان جمالی ہی وزیراعظم بنتے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 91 (4) کے مطابق اگر مولانا اعظم طارق میر ظفراللہ خان جمالی کو ووٹ نہ دیتے تو وہ پہلی رائے شماری میں وزیراعظم منتخب نہیں ہو سکتے تھے، کیونکہ پہلی رائے شماری میں کامیابی کے لیے امیدوار کو سادہ اکثریت یعنی 172 ووٹ حاصل کرنا لازمی ہے۔ اگر مولانا اعظم طارق ووٹ نہ دیتے تو میر ظفراللہ خان جمالی کے ووٹ 171 رہ جاتے اور وہ اس رائے شماری میں کامیاب نہ ہو پاتے۔
آئین کے اسی آرٹیکل میں یہ وضاحت موجود ہے کہ کل ایوان کی سادہ اکثریت پہلی رائے شماری میں ضروری ہے۔ اگر کوئی امیدوار پہلی رائے شماری میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے اور دو سے زائد امیدوار ہوں تو نمبر 1 اور نمبر 2 کے علاوہ باقی تمام امیدوار مقابلے سے خارج ہو جاتے ہیں۔ اگر صرف دو امیدوار ہوں تو انہی دونوں کے درمیان دوبارہ رائے شماری ہوتی ہے اور یہ عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کسی ایک امیدوار کو ایوان میں موجود ارکان کی سادہ اکثریت حاصل نہ ہو جائے۔
عام انتخابات 2002ء کے نتیجے میں وزیراعظم کے انتخاب کے وقت تین امیدوار میدان میں تھے۔ تیسری پوزیشن پر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے مخدوم شاہ محمود قریشی تھے۔ اگر مولانا اعظم طارق میر ظفراللہ خان جمالی کو ووٹ نہ دیتے تو دوسری رائے شماری ہوتی۔ اس صورت میں اگر پیپلز پارٹی اور مولانا اعظم طارق دونوں کے ووٹ مولانا فضل الرحمان کو مل بھی جاتے تو انکے ووٹ کی مجموعی تعداد 157 بنتی، جبکہ میر ظفراللہ خان جمالی کے پاس 171 ووٹ موجود تھے یعنی جمالی کے مقابلے میں مولانا کے پاس 14 ووٹ کم بنتے۔ یعنی دوسری رائے شماری میں وہ آسانی کے ساتھ وزیراعظم منتخب ہو جاتے۔ تاہم، آئینی تقاضے کے مطابق انہیں چھ ماہ کے اندر اعتماد کے ووٹ میں 172 ووٹ حاصل کرنا لازمی تھا۔
درحقیقت عام انتخابات 2002ء میں پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز نے یہ طے کر لیا تھا کہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے کسی صورت میں بھی مولانا فضل الرحمان کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ اسی وجہ سے کچھ آزاد ارکان اور چھوٹی جماعتوں نے پہلے ہی حکومتی امیدوار میر ظفراللہ خان جمالی کی حمایت کا فیصلہ کیا۔
یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اگر دوسری رائے شماری کا مرحلہ آتا بھی تو پاکستان پیپلز پارٹی مقابلے سے باہر ہونے کے بعد مولانا فضل الرحمان کی حمایت کے بجائے رائے شماری میں حصہ ہی نہ لیتی اور یہی امر تاریخی طور پر درست ہے۔























