بھاگم بھاگ ڈاکٹرز اسپتال پہنچا تو دیکھا وہ نیم غنودگی اور تکلیف میں ہے

واہ! کیا آدمی تھا لال خان-کامریڈ لال خان(1956-2020) کے فون سے اُس کے ایک رفیق پال نے گھبرائی ہوئی آواز میں اُس کا آخری پیغام دیا کہ ’’لینن‘‘ سے کہو کہ آکر مل لے، شاید پھر کبھی بات نہ ہو پائے۔ میں بھاگم بھاگ ڈاکٹرز اسپتال پہنچا تو دیکھا وہ نیم غنودگی اور تکلیف میں ہے۔
میں نے اُس کا ہاتھ تھاما اور گرمجوشی سے دبایا تو اُس نے بھی ہلکے سے میرے ہاتھ کو سہلایا۔ ذرا سی آنکھیں کھولیں، مجھے لمحے بھر کو دیکھا جیسے کچھ کہنے کی کوشش میں ہو، لیکن دل کی بات زبان پر نہ لا سکا۔ کینسر آخری اسٹیج میں تھا اور کہی اَن کہی رہ گئی۔ اُس کی ہمت تھی کہ ہارنے کو نہ تھی، وہ موذی مرض سے آخری دم تک نبرد آزما رہا۔ جمعرات (20 فروری) کی شب 7بجے وہ اللہ کو پیارا ہوا۔
مَیں نے پہلی بار اُس کے بارے میں اُس وقت سنا جب ضیا الحق کے دور میں نشتر میڈیکل کالج کے طالب علموں نے اک ہنگامہ بپا کیا اور ڈاکٹر تنویر گوندل کا نام اُن کے لیڈر کے طور پر سامنے آیا۔ مَیں اس وقت مزدور کسان پارٹی سے وابستہ تھا اور قدرتاً مجھے ان نوجوانوں سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ وہ میری اُس سے پہلی ملاقات تھی۔
یہ نوجوان بھٹو کی گرفتاری پر سیخ پا تھے اور ضیاالحق کے مارشل لا سے سخت نالاں، صبح شام جھگڑا چلتا اور سرخ ہے سرخ ہے، ایشیا سرخ ہے اور سوشلزم آوے آوے کے نعرے لگاتے نہ تھکتے۔ پھر ڈاکٹر گوندل کو ایک سال کی سزا ہوئی اور رہائی کے بعد ایسے حالات پیدا کر دیے گئے کہ اُسے ملک سے فرار ہونا پڑا۔ فرار کا قصہ بھی بہت ڈرامائی تھا، اس نے ہالینڈ میں پناہ لی جہاں اور بہت سے سیاسی تارکینِ وطن جمع ہو گئے تھے جو آئے روز ضیا آمریت کے خلاف جلسے کیا کرتے۔
آٹھویں دہائی کا یہ وہ زمانہ تھا جب دُنیا بھر کے مفرور انقلابیوں اور جمہوریت پسندوں کو یورپی ممالک میں پناہ مل جاتی تھی اور وہ اپنے اپنے ملکوں کی مزاحمتی تحریکوں کے سفیر بن کر گھوما کرتے، منصوبے بناتے اور طرح طرح کی پبلیکشنز کرتے، آپس میں بانٹتے اور عالمی پرولتاری یکجہتی کے بندھن باندھا کرتے۔
(میں اس وقت انڈر گرائونڈ رہا اور پھر 5برس قید میں) جلاوطنی میں ڈاکٹر گوندل لال لال کرتے خود بھی لال خان ہو گئے۔ اُس نے وہاں سے ’’جدوجہد‘‘ کے رسالے سے اپنے انقلابی خیالات کا پرچار شروع کیا۔ کامریڈ لال خان سات آٹھ برس کی جلاوطنی سے تنگ آ چکا تھا اور اُس نے پاکستان واپس آ کر جدوجہد گروپ کو منظم کرنا شروع کر دیا۔
آخری برسوں میں وہ کمیٹی فار ورکرز انٹرنیشنل جو خود بحران کا شکار ہو گئی تھی، سے علیحدہ ہو گیا، لیکن اُس نے اپنا کام آخری دم تک جاری رکھا۔ جب ہم اس کے جنازے میں اُس کے گائوں بھون (چکوال) پہنچے تو نہایت رقت آمیز ماحول میں اُس کے سینکڑوں ساتھیوں کو بلبلا کے روتے پایا۔
گائوں کے لوگ بھی حیران تھے کہ کرنل صاحب کے بیٹے کیلئے یہ کون لوگ ہیں جو لال جھنڈے لہراتے آئے ہیں اور کوئی انقلابی گیت (انٹرنیشنل) گاتے ہوئے اُسے آخری ہدیہ تبریک پیش کر رہے ہیں۔ غالباً دادا امیر حیدر کے بعد کسی نے پوٹھوہار میں ایسا منظر دیکھا تھا۔
مزدور کسان پارٹی، کمیونسٹ پارٹی اور پھر قومی انقلابی پارٹی ٹوٹنے کے بعد میں نے لیفٹ کی پارٹی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ایک سماج وادی مبلغ کے طور پر بطور فرد اپنا کردار جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا کہ مین اسٹریم میڈیا میں کام کیا جائے۔ میری لال خان سے دوسری آشنائی کا آغاز بطور ایک لیفٹ کے صحافی کے طور پر ہوا۔
وہ بہت ہی ملنسار، نفیس اور پُرخلوص انسان تھا اور غالباً وہ واحد شخص تھا جس سے میں اپنے دل کے رونے رو سکتا تھا۔ میں اُس سے نظریاتی مباحث کرتا۔ بائیں بازو کے کٹرپن، فرقہ پرستی اور انتہا پسندی کے تباہ کُن نتائج پر بات کرتا اور وہ سنتا جاتا اور کبھی جھگڑا نہ کرتا کیونکہ وہ میرا دُکھ جانتا تھا۔ میرا اصرار رہتا کہ کامریڈ دُنیا بہت آگے جا چکی ہے۔
گلوبلائزیشن، انفارمیشن اور چوتھی پیڑھی کے صنعتی و سائنسی انقلابات نے مقامی و عالمی سماجی تشکیلوں کے نقشے بدل دئیے ہیں اور مارکس وادی ابھی بھی انیسویں صدی کی سیاسی معیشت کے تجزیے میں دھنسے ہیں یا پھر بیسویں صدی کے پہلے نصف کے سوشلسٹ انقلابوں کے سیاسی مباحث میں پھنسے رہ کر ایک دوسرے پر لعنت ملامت میں لگے رہتے ہیں۔ اس سے نہ محنت کش عوام کیلئے کوئی راہِ نجات نکل سکتی ہے اور نہ انقلابی عمل کو کوئی رہنمائی مل سکتی ہے۔
وہ سنتا رہتا اور اس کے باوجود کہ وہ خود بھی کٹر ٹراٹسکی وادی تھا۔ جب وہ اپنی آخری پارٹی کانگریس کی تیاری کر رہا تھا تو میں نے اصرار کیا کہ یار یہ تم کیا ایک نیم خفیہ پارٹی چلائے جا رہے ہو۔
اسے کھولو، وسیع البنیاد بنائو اور محنت کش اور محکوم عوام کو آج جو بڑے چیلنج درپیش ہیں، اُن کا سامنا کرنے کیلئے ایک فکری جست لو۔ لیکن لگتا ہے کہ اُسے کینسر نے اپنی گرفت میں لینا شروع کر دیا تھا اور اپنی پارٹی کی گزشتہ کانگریس میں وہ اسپتال میں تھا، اس غلط فہمی میں کہ شاید ڈی ہائیڈریشن ہو گئی ہے۔
بعد میں پتا چلا کہ یہ تو کینسر تھا جس نے اس کی زندگی کا ڈیڑھ سال کے اندر اندر چراغ گل کر دیا۔ لال خاں نے بے پناہ لکھا، کئی کتابیں لکھیں، ہزاروں مضامین تحریر کئے اور فکری و نظری میدان میں بہت کام کیا۔ انگریزی اور اُردو کا وہ مستقل کالم نویس بن چکا تھا۔
یوں میرا اُس سے ایک اور رشتہ بنا اور سیاسی پژمردگی کے آج کے ماحول میں ہم خوب تبادلہ خیال کرتے اور خود کو تازہ کرتے۔ وہ مجھ سے چھ برس چھوٹا اور انقلابی سیاست میں 14برس جونیئر تھا۔ لیکن وہ آگے بڑھتا گیا اور ہمیں دکھی کرکے چلتا بنا۔ کیا عجب انسان تھا، نہ رہا۔
بس اُس کی یادیں ہیں اور انقلابی روایت۔ دیپ سے دیپ جلتے رہیں گے تاآنکہ استحصالی سماج کی تیرگی کی لمبی رات صبح صادق کیلئے جگہ نہیں چھوڑ دیتی۔ عجب آزاد مرد تھا وہ جو بھلایا نہ جا سکے گا-Imtiaz-Alam-jang

اپنا تبصرہ بھیجیں