امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی تازہ ترین اسپیس لائن کرنٹ آگاہی لسٹ 1169 جاری کر دی ہے، جس میں خلا میں انسانی جسم، خلیات، جینیات اور حیاتیاتی نظام پر اثرات سے متعلق اہم سائنسی نتائج پیش کئے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ناسا نے اپنی حالیہ تحقیقات میں مختصر 4 سے 21 دن اور طویل 5 سے 12 ماہ دورانیے کے خلائی مشنز میں شریک خلابازوں کے جسمانی اور حیاتیاتی ردعمل کا تفصیلی تجزیہ کیا۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خلا میں کم کششِ ثقل انسانی جسم کے خلیاتی عمل، مدافعتی نظام اور دل کی کارکردگی پر نمایاں اثر ڈالتی ہے، ناسا کے سائنسدانوں نے خلا میں اسٹیم سیلز کی افزائش، ٹشوز کے رویے اور انسانی جینیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی گہری تحقیق بھی کی ہے۔
تحقیق میں خلائی جہازوں کے اندر پانی اور بایوفلم کے کنٹرول سسٹمز کا مطالعہ کیا گیا، تاکہ مستقبل میں خلائی مشنز کے دوران پانی کی صفائی اور حیاتیاتی آلودگی کو مؤثر طریقے سے قابو کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیقی نتائج مستقبل میں انسانی خلائی زندگی کو محفوظ بنانے اور طویل المدتی مشنز کے دوران صحت سے متعلق خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔























