ملزم اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر نشہ آور کیپسول فروخت کرتا تھا تاکہ مریض اس کے عادی بن جائیں

فراڈ، چیک ڈس آنر اور جعلی ڈگریوں کے کیس میں ملوث اتائی ڈاکٹر شاہد حسین شیخ کو پولیس نے اقبال ٹاؤن سے گرفتار کر لیا۔ ملزم کے خلاف شادمان تھانے میں چیک ڈس آنر،فراڈ اور پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن لاہور کی جانب سے چار مقدمات درج تھے ۔ملزم خود کو ذہنی امراض کا پروفیسر ڈاکٹر بتاتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا کہ وہ ایک سائنسدان ہے جس نے آٹزم اور دیگر بیماریوں کا علاج دریافت کر لیا ہے ۔ ملزم اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر نشہ آور کیپسول فروخت کرتا تھا تاکہ مریض اس کے عادی بن جائیں ۔ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے ملزم کا کلینک دوبار سیل کیا گیا لیکن اس نے نئے نام سے پھر کام شروع کر دیا اور ذہنی معذور لوگوں کے لواحقین سے لاکھوں روپے بٹور کر فرار ہو گیا۔گذشتہ دنوں ایک مریض کی اطلاع پر ون فائیو نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو ’مڈل ایسٹ ہیلتھ کیئر‘میں مریض دیکھتے ہوئے کالی کوٹھی سٹاپ ،ہمابلاک اقبال ٹاؤن سے گرفتار کرکے تھانہ شادمان منتقل کردیا۔ملزم کے ہاتھوں مالی نقصان اٹھانے والے مریضوں نے حکومت سے استدعا کی ہے کہ اس جعلی ڈاکٹر کے خلاف سخت ترین کاروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں