دورہ ٹرمپ کے موقعے پر حکومت کی جانب سے پارٹی سربراہ سونیا گاندھی نظر انداز

انڈیا کے سابق وزیراعظم اور اپوزیشن کانگریس پارٹی کے رہنما منموہن سنگھ نے انڈیا کے دورے پر آئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں صدر کی جانب سے دی جانے والی سرکاری ضیافت میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔
انڈیا کے ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق منموہن سنگھ نے سرکاری ضیافت میں شرکت کی دعوت قبول کرنے کے چار دن بعد صدر کے آفس کو آگاہ کیا کہ وہ ’خرابی صحت کی وجہ سے‘ پروگرام میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما غلام نبی آزاد اور اور پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ادھیر رجن چودھری نے بھی ضیافت میں شرکت سے انکار کیا ہے دورہ ٹرمپ کے موقعے پر حکومت کی جانب سے پارٹی سربراہ سونیا گاندھی کو نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے کانگریس بی جے پی کے ساتھ ناراض ہے اور ٹرمپ کے اعزاز میں دی جانے والی سرکاری ضیافت میں شریک نہیں ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق کانگریس امریکی صدر ٹرمپ اور سونیا گاندھی کے درمیان ملاقات نہ رکھنے پر ناراض ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ایسے سرکاری دورں کے دوران اپوزیشن رہنما کے ساتھ ملاقات انڈیا کی سیاسی روایات کا حصہ ہے۔


این ڈی ٹی وی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ منموہن سنگھ اور غلام بنی آزاد نے سرکاری دعوت قبول کرنے کے بعد ضیافت میں شرکت سے انکار کیا ہے-کانگریس کے اعتراض کے حوالے سے سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ کو صدر ہاؤس میں سرکاری ضیافت میں بلانے کی کوئی روایت موجود نہیں۔ ان کے مطابق کانگریس کے 10 سالہ دور حکومت میں دو امریکی صدور نے انڈیا کے دورے کیے تاہم بی جے پی کے کسی سربراہ کو صدارتی ضیافت میں مدعو نہیں کیا گیا۔
خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ انڈیا کے دو روزہ دورے پر ہیں اور صدارتی ضیافت کے فوراً بعد وہ انڈیا سے روانہ ہوں گے۔
منگل کو صدر ٹرمپ اور مودی کے درمیاں دہلی میں باضابطہ ملاقات ہوں گے-اسی دوران خاتون اول ملانیا ٹرمپ دہلی میں ایک سرکاری سکول کا دورہ کریں گی جہاں وہ دہلی کی حکمران جماعت عام آدمی پارٹی کی جانب سے شروع کی جانے والی ’ہیپی نس کلاس‘ کا مشاہد کریں گے۔
عام آدمی پارٹی نے بھی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور ان کے نائب منیش سیسوڈیا کو میلانیا ٹرمپ کے پروگرام نہ بلانے پر حکومت کے ساتھ ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
اتوار کو دہلی میں امریکی سفارتخانے نے ایک بیان میں وضاحت کی تھی کہ دہلی کے وزیراعلیٰ کو پراگرام میں اس لیے شامل نہیں کیا گیا تاکہ یہ سیاسی نہ بنے-urdunews-report

اپنا تبصرہ بھیجیں