احتجاج کرنے پر بولان یونیورسٹی کے طلبہ اور ملازمین گرفتار

کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے والے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے درجنوں ملازمین اور طالب علموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں 17 طالبات بھی شامل ہیں۔ پیر کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر اسمبلی کی عمارت کے باہر یونیورسٹی کے 30 سے زائد ملازمین احتجاج کے لیے پہنچے تو اسمبلی کے باہر تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں احتجاج کی اجازت نہ دی اور فوراً گرفتار کرکے بجلی روڈ تھانے منتقل کر دیا۔بعدازاں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے بھی اسمبلی کے باہر یونیٹی چوک پر احتجاج کیا اور سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ اس دوران پولیس نے احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات کو گرفتار کر کے سول لائن اور سٹی تھانے منتقل کر دیا۔

بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے طالب علم عبدالحئی بلوچ نے بتایا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ بولان میڈیکل کالج کو گذشتہ سال یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا جس کے بعد نہ صرف ایچ ای سی نے سکالرشپس کم کر دیں بلکہ فیسوں میں اضافہ کر دیا جس کی وجہ سے غریب طلبہ کے لیے پڑھنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گورنر کی جانب سے من پسند طلبہ کو فیسوں میں رعایت اور سکالر شپ دی جارہی ہیں۔ گورنر کی جانب سے تعینات کیے گئے وائس چانسلر کو ہٹایا جائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹی کی حیثیت ختم کر کے اسے دوبارہ کالج کا درجہ دیا جائے تاکہ یہ ادارہ صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں رہے ۔ ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق مجموعی طور پر 97 ملازمین اور طلبہ کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔ تاہم انہیں چند ہی گھنٹے بعد رہا کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے اور کوئٹہ میں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔ ان کے مطابق چند روز قبل ہی پریس کلب کے قریب بم دھماکا ہوا جبکہ ایسے مزید واقعات کا خطرہ موجود ہے اس لیے ہم نے طلبہ کو احتجاج کرنے سے منع کیا مگر وہ بضد تھے جس پر انہیں حراست میں لینا پڑا۔-urdunews-report

اپنا تبصرہ بھیجیں