چین میں واٹر مینجمنٹ اور آبی وسائل کی حفاظت سے پاکستان کیا سیکھ سکتا ہے؟

اعتصام الحق ثاقب
دنیا کے کےکئی ممالک آبی وسائل کی کمی اور اس کی حفاظت کے مسئلے سے دوچار ہیں ۔پاکستان ہی کی بات کریں تو پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 1950 میں تقریباً 5000 مکعب میٹر تھی جو اب کم ہو کر 900 مکعب میٹر سے بھی نیچے آ گئی ہے۔چین میں بھی آبی وسائل کی حفاظت اور اس کی دستیابی کے لئے کئی کوششیں ہوئی ہیں اور کئی کوششوں پر اب بھی کام جاری ہے ۔ایک بڑا مسئلہ پانی کی تقسیم کا تھا کیوں کہ میں چین کے شمالی علاقوں میں پانی کی کمی تھی اور جنوب میں وسائل وافر تھے ۔اس صورتحال میں چین نے منظم واٹر مینجمنٹ پالیسی اختیار کی اور قومی سطح پر پانی کے انتظام کے لیے ایک متحدہ نظام بنایا جس میں وزارتِ آبی وسائل، مقامی حکومتیں، اور سائنسی ادارے شامل ہیں۔
اس چیلنج کے حل میں چین کا نارتھ ساؤتھ واٹر ڈائیورژن پراجیکٹ ہے جسے دنیا کا سب سےبڑا واٹر ٹرانسفر پراجیکٹ کہا جاتا ہے ۔اس منصوبے میں شمالی چین کے خشک علاقوں کو جنوبی دریاؤں سے پانی پہنچایا جاتا ہے۔اس منصوبے سے بیجنگ، تیانجن اور شمالی صوبوں کے 120 ملین سے زیادہ لوگوں کو فائدہ ہوا۔
اپنی منصوبہ بندی کے ساتھ چین نے سائنسی طریقوں کو بھی آزمایا اور ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی واٹر مینجمنٹ کا سہارا لیا ۔اس عمل میں مصنوعی سیاروں، سینسرز، اور ڈیجیٹل میپنگ سے پانی کے بہاؤ اور کوالٹی کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے اور پانی کے بہاؤ سمیت سینسرز کی خدمات کے عوض جدید طریقے سے پانی کی کمی اور اس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔
اس کے علاوہ سمارٹ واٹر سٹی پروگرام بھی متعارف کروائے گئے جہاں پانی کے نظام کوآٹومیٹک طریقے سے کنٹرول کیا جاتا ہے ۔یہ سمارٹ سٹی پروگرام شینزن اور ہانگژو میں کام کر رہے ہیں ۔
پاکستان کے آبی وسائل کی بات کی جائے تو موسمیاتی تبدیلی ،غیر موثر آبپاشی اور گلیشئرز کے پگھلنے سے پانی کے ذخائر متاثر ہو رہے ہیں ۔ایک اور اہم مسئلہ ذرعی شعبے کا ہے جہاں کچھ اندازوں کے مطابق پاکستان کے کل دستیاب پانی کا تقریباً 90 فیصد استعمال ہوتا ہے لیکن اس میں سے نصف کنٹرولنگ نہ ہونے اور ناقص نظام کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے ۔پاکستان کے بڑے شہروں کو زیرِ زمین پانی کی تیزی سے کمی کا سامنا بھی ہے جس میں خاص طور پر لاہور، فیصل آباد، اور کراچی جیسے بڑے شہر شامل ہیں۔تربیلا اور منگلا ڈیم پاکستان کے بڑے آبی ذخائر میں سے ہیں لیکن وہاں بھی مٹی جمع ہونے سے گنجائش کم ہو رہی ہے۔
ایسی صورتحال میؐں ضروری ہے کہ پاکستان چین کے اقدامات سے سیکھے اور ان سے فائدہ اٹھائے ۔سب سے پہلے تو واٹر ری سائکلنگ پر توجہ دینا ہو گی ۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ بیجنگ جیسے دنیا کے بڑے شہر میں بھی 2023 تک کے اعدادو شمار کے مطابق 30 فیصد شہری پانی ری سائیکل کر کے استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ گندے پانی کو فلٹر کر کے صاف شدہ پانی پارکوں، فیکٹریوں، اور تعمیراتی منصوبوں میں دوبارہ استعمال ہوتا ہے۔پاکستان کے صنعتی شہروں جیسے کراچی ،فیصل آباد اور سیالکوٹ میں اس ماڈل کو اپنایا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ پاکستان میں آبی وسائل کا زیادہ استعمال آب پاشی میں ہوتا ہے اور وہاں ناقص نظام کی وجہ سے پانی کا زیادہ تر حصہ ضائع ہو جاتا ہے ایسے میں ضروری ہے کہ نہ صرف کنٹرولنگ کے نظام کو بہتر بنایا جائے بلکہ آب پاشی کے نظام کو بھی تبدیل کیا جائے ۔اس سلسلے میں اب دنیا بھر میں ڈرپ ایریگیشن اور پریسشرائزڈ سپرنکلرز کے استعمال سے فصلوں کو پانی بھی ان کی مناسب مقدار میں مل جاتا ہے اور پانی کی بچت بھی ہو جاتی ہے ۔چین میں بھی اب یہ طریقے بڑے پیمانے پر استعمال کیے جا رہے ہیں ۔یہ طریقے اختیار کر کے چین کے بعض صوبوں میں پانی کی کھپت کو 30 سے 40 فیصد تک کم کیا گیا ہے ۔پاکستان میں یہ نظام کپاس، گنا، اور گندم کی فصلوں میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
کسی بھی مہم اور پالیسی میں اگر عوامی شعور پیدا نہ کیا جائے تو ساری محنت رائیگاں جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ چین نے دیہی علاقوں میں پانی کے استعمال کے اصول متعارف کروائے، جہاں مقامی کمیٹیاں پانی کی تقسیم کی نگرانی کرتی ہیں۔پاکستان کے دیہی علاقوں میں بھی واٹر یوزر ایسوسی ایشنز کو متحرک کیا جا سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر دونوں ممالک کا تعاون بشمول علاقائی تعاون کے کار آمد ثابت ہو سکتا ہے ۔اس تعاون میں ماحولیاتی تحقیق شامل ہو سکتی ہے ،موسمی ڈیٹا کا تبادلہ کیا جا سکتا ہے ،ماحولیاتی ماڈلنگ میں پاکستان چین سے سیکھ سکتا ہے اور چائنا اکیڈمی آف سائنسز اور پاکستان کے موسمیاتی اداروں کے درمیان پہلے سے موجود تعاون کو بھی بڑھایا جا سکتا ہے