ملینیم ایجوکیشن کے زیر اہتمام پاکستان کی سب سے بڑی ٹیچرز ڈویلپمنٹ کانفرنس (ٹی ڈی سی) 2020ءکا انعقاد

اسلام آباد  :  ملینیم انسٹیٹیوٹ آف پروفیشنل ڈویلپمنٹ (MIPD) کے زیر اہتمام حقیقی زندگی کے ٹھوس موضوع ”35 منٹس“ کے عنوان سے پاکستان کی سب سے بڑی سالانہ ٹیچر ڈویلپمنٹ کانفرنس (TDC) 2020ءکا آغاز پاکستان چائنہ فرینڈ شپ سینٹر اسلام آباد میں ہوا۔ یہ کانفرنس ملینیم ایجوکیشن ٹیچرز ڈویلپمنٹ کے ورثہ کا تسلسل ہے یہ بات ایک پریس ریلیز میں بتائی گئی۔
ملینیم ایجوکیشن پاکستان سمجھتی ہے کہ ایک استاد اور اسکول لیڈر کا کردار انتہائی چیلنجنگ، پیچیدہ اور مسلسل تبدیلی اور جدت کے حامل موجودہ دور کے لحاظ سے مسلسل طلب کا تقاضا کرتا ہے۔ ملک بھر سے دی ملینیم ایجوکیشن نیٹ ورک کے کم و بیش 1000 اساتذہ اور آرگنائزرز سیکھنے کے اقدامات اور تربیت کو اپنی کلاس رومز تک آگے بڑھانے کے لئے پرجوش اور انتہائی متحرک تھے۔ اس سال کانفرنس میں معروف قومی اور بین الاقوامی مقررین بشمول ڈائریکٹر ٹیچرز ڈویلپمنٹ سینٹر عباس حسین، معروف جوہری طبیعات دان ڈاکٹر پرویز ہودبھائی، ڈائریکٹر اور فاﺅنڈر Torque عمیر جالیا والا، آرٹسٹ اور روحانی مقرر یوسف بشیر، او ڈی ٹرینر عاصمہ مصطفی، CAIE کی کنٹری ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف، ریجنل ڈائریکٹر برٹش کونسل شازیہ خاور، ڈائریکٹر برٹش کونسل ڈاکٹر نشاط ریاض، پمز کے ہیڈ آف نفسیات ڈاکٹر رضوان تاج، مائیکرو سافٹ، جے ایس بینک، اے سی سی اے پاکستان کے نمائندے شریک ہوئے اور کانفرنس کے مندوبین میں نئے آئیڈیاز کی تحریک کی۔ دی ملینیم ایجوکیشن کے سی ای او چوہدری فیصل مشتاق TI، ایگزیکٹو ڈائریکٹر انا فیصل، اکیڈمک ڈائریکٹر ارم عاطف، ڈائریکٹر کمیونیکیشن سبینا ذاکر، جنرل منیجرز، ہیڈ مسٹریس، برانچ ہیڈز، اکیڈمک کوآرڈینیٹرز اور پوری ٹیچنگ فیکلٹی بھی اس موقع پر موجود تھی۔
دی ملینیم ایجوکیشن سالانہ ٹیچر ڈویلپمنٹ کانفرنس TD/C اساتذہ کرام، اصلاحات سازوں اور مفکرین کا سب سے بڑا اجتماع ہے جو درس و تدریس کے طریقوں کو تبدیل کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ گزشتہ 11 سالوں سے اس پلیٹ فارم نے تعلیم اور ایکویٹی کی بہتری کے حصول کے لئے خدمات انجام دینے والے تھنک ٹینکس اور کلاس روم پریکٹیشنرز کو طلباءکے لئے سب سے اہم معاملات پر بات چیت اور مکالمے میں شرکت کا غیر معمولی موقع فراہم کیا۔
محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریب کو رونق بخشی۔ انہوں نے اساتذہ کرام میں ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے جنہوں نے کیمبرج پروفیشنل ڈویلپمنٹ کوالیفیکیشن، فاﺅنڈیشن کورسز مکمل کئے اور مائیکرو سافٹ انوویٹو ایجوکیٹر ایکسپرٹ سرٹیفیکیٹس حاصل کئے۔ مجموعی طور پر 600 اساتذہ کو ملینیم ایجوکیشن کے لئے شاندار خدمات انجام دینے پر ایوارڈز سے نوازا گیا۔

MIPD کے بانی اور ملینیم ایجوکیشن کے سی ای او فیصل مشتاق پیشہ ورانہ ترقی کے وژنری ایڈووکیٹ ہیں جو بڑھتے ہوئے نظاموں کا ایک اہم پیرا میٹر ہے۔ ہم عصر تعلیم کی دنیا میں تربیت اور مہارت کی ترقی مستقل طور پر ہے۔ TD/C 2020 نے ”35 منٹ“ کے جادو کو فروغ دیا : یہ منٹس جو سیکھنے کے تجربات کو نئی شکل اور دوبارہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
سوسائٹی آف پاکستان انگلشن لینگوئج ٹیچرز (SPELT) کے بانی عباس حسین نے کانفرنس میں ”اہم مقامات“ کے تصور کے بارے میں مندوبین کو روشناس کیا اور بتایا کہ کس طرح موثر اور پرجوش تعلیم تمام شعبوں کو ”سیکھنے کی جگہ“ میں تبدیل کرتی ہے جو نوجوان ذہنوں اور تیزی سے سیکھنے کے عمل کو فروغ دے سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مثالی طور پر متحرک اساتذہ علم کے نئے باب کھولتے ہیں جو ذہانت کو ایک مرحلے سے دوسرے پیداواری مرحلے میں منتقل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
عمیر جالیا والا نے اپنی گفتگو سے حاضرین کی توجہ حاصل کی۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ ایسی مثبت کلاس رومز تشکیل دیں جو نوجوانوں اور متاثر کن طلباءسے سیکھنے والی جگہوں میں انضمام نہ کرتی ہوں۔
ڈاکٹر پرویز ہودبائی نے 21 ویں صدی کی ان مہارتوں کے بارے میں گفتگو کی جن کے بارے میں طلباءکو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے لیس مستقبل کی دنیا میں کامیابی درکار ہے۔ اس طرح کے ماحول کے لئے محفوظ مقامات کی تشکیل کے حوالے سے ان کے پیغام نے حاضرین کو متاثر کیا۔
یوسف بشیر قریشی نے نوجوان ذہنوں کی روحانی اور دماغی صحت کے اثرات کے بارے میں بات کی۔ اقدار اور اخلاقیات ہر گھر اور کلاس روم میں ضروری بن رہی ہے، آج کے نوجوانوں کی اکثریت اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ زندگی میں کسی مقصد کے بغیر گذار رہی ہے۔
سیشن سے خطاب کرتے ہوئے دی ملینیم ایجوکیشن کے چیف ایگزیکٹو اور MIPD کے بانی چوہدری فیصل مشتاق نے کانفرنس کے مقاصد کے بارے میں گفتگو کی۔ ان کا خطاب عصری روش پر فکر انگیز مباحثہ کو جنم دینے کے لئے تعلیم جیسے اہم امور پر باہمی تعاون پر مبنی سوچ پر مشتمل تھا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس کانفرنس کے انعقاد کی وجہ ٹیچنگ، لرننگ اور علم کی تخلیق کی افسانوی تاریخ کی ادارہ جاتی مدد کرنا تھی۔ شروع سے ٹیچر ڈویلپمنٹ کانفرنس کا وژن اساتذہ کرام کو حوصلہ افزاءماحول میں معروف سکالرز، ماہرین تعلیم اور تعلیمی مفکرین کے ساتھ براہ راست منسلک کرنا تھا۔
آخر میں عباس حسین نے سیکھنے کے عمل کے نتائج پر روشنی ڈالی اور اختتامی کلمات ادا کئے جس کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا۔
ٹیچرز ڈویلپمنٹ کانفرنس 2020ءاساتذہ کو اعلیٰ معیار کے سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے کے بارے میں تھی۔ اس کا مقصد اساتذہ کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیاءکرنا تھا جو کلاس روم کے ہر منٹ کو بروئے کار لائے اور ایک کلاس میں اپنے سیکھنے والوں کی بہتر رہنمائی کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں