
قادر خان یوسف زئی
گزشتہ چند دنوں میں پاک-افغان سرحد پر جو کچھ ہوا ہے وہ محض ایک عام سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی بحران کا حصہ ہے جس کی جڑیں دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی، افغان طالبان کی کالعدم ٹی ٹی پی کو پناہ فراہم کرنے، اور بین الاقوامی سطح پر بدلتے اتحادوں میں پیوست ہیں۔ جب 9 اکتوبر 2025 کو کابل اور پکتیکا میں دھماکے ہوئے اور اس کے بعد 11 اکتوبر کوافغان طالبان نے’’انتقامی‘‘ کارروائی کرتے ہوئے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملہ کیا تو یہ محض ایک تکنیکی واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک نئے دور کی ابتدا تھی۔
اس تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی بھارت کے دورے پر موجود ہ اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان ہو رہا ہے تو پاکستان کے لیے یہ صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اسٹریٹجک تنزلی کا بھی مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں تقریباً 6000 سے 6500 کالعدم انتہا پسندوں کے جنگجو موجود ہیں جو افغان طالبان کیسہولت کے ساتھ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔پکتیکا کے برمل ضلع میں پاکستان کے حملوں نے جن تربیتی کیمپس کو نشانہ بنایا ان میں لامان، مرغہ اور مرگ بازار کے علاقے شامل ہیں جہاں فتنہ الخوارج کے سرغنہ اختر محمد المعروف خلیل کا خودکش حملہ آوروں کا تربیتی مرکز، ابو حمزہ کی بھرتی سہولت، اور شیر زمان المعروف مخلص یار کی فیسیلٹی موجود تھی۔ خاص طور پر خارجیوں کا مرکزی میڈیا شعبہ’’عمر میڈیا‘‘ کا ہیڈ کوارٹر تباہ کیا گیا جس کے سربراہ شعیب اقبال چیمہ المعروف منیب جٹ کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا، اگرچہ یہ دعویٰ بعد میں کالعدم تنظیم کی طرف سے مسترد کر دیا گیا۔
11 اکتوبر کی رات کو افغان طالبان کی’’انتقامی‘‘ کارروائی میں پاکستان کے 19 سرحدی چوکیوں پر قبضہ کیا گیا جن میں ژوب سیکٹر میں افغان پوسٹ، تورکمنزئی ٹاپ پوسٹ، خرچار فورٹ پوسٹ، قلعہ عبداللہ سیکٹر میں لبند پوسٹ، کرم کے سامنے کئی پوسٹس، اور انگور آدہ کے سامنے والی پوسٹ شامل ہیں۔ پاکستانی فوج نے توپ خانے، ٹینکس، اور فضائی اثاثوں کا استعمال کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی جس میں منوجبا کیمپ بٹالین ہیڈ کوارٹرز، جندوسر پوسٹ، اور درانی کیمپ تباہ کیے گئے۔ یہ واقعات اس وقت ہو رہے ہیں جب پاکستان کی آپریشن عزم استحکام پاکستان ،جون 2024 میں شروع کیے جانے کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا، جس کی بنیادی وجہ افغان عبوری حکومت ، فتنہ الہند کا گٹھ جوڑ سرحدی علاقوں میں مبینہ طور پر سہولت کاری کرنے والے قبائل میں موجود ملک دشمن عناصر بتائے جاتے ہیں۔
2020 کے دوحہ معاہدے کے تحت افغان طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ لیکن اقوام متحدہ کی نگرانی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نہ صرف کالعدم تنظیموں کوپناہ فراہم کئے ہوئے بلکہ ان کے لئے سہولت کار بن کر انہیں لاجسٹک، آپریشنل اور مالی مدد بھی فراہم کر رہے ہیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کے خاندان کو افغان طالبان کی طرف سے ماہانہ 43 ہزار ڈالر کی امداد فراہم کی جا رہی ہے جو اس تعاون کی گہرائی اورنور ولی محسود کے خاندان کی سپورٹ افغان عبوری حکومت پر بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے۔
امیر خان متقی کا بھارت کا دورہ اور کابل میں بھارتی سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا اعلان اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ افغان طالبان اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لا رہے ہیں۔ یہ تبدیلی خاص طور پر اس وقت اہم ہے جب پاک-افغان تعلقات اپنے بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔ بھارت کا یہ قدم پاکستان کو اسے دو محاذوں پر لڑنے پر مجبور کرے گا۔چین کا کردار اس پورے بحران میں انتہائی اہم ہے۔ سی پیک کے تحت 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ چین پاکستان میں اپنے اثاثوں کی حفاظت کے لیے پہلی بار اپنے پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیوں کے عملے کو تعینات کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ یہ پاکستان کی خودمختاری کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔
ایران کا کردار بھی اس بحران میں اہم ہے۔ چین، ایران، پاکستان اور روس کے وزرائے خارجہ کے چوتھے چہار فریقی اجلاس میں افغانستان کے بارے میں مشترکہ موقف اپنایا گیا۔ اس میں افغانستان کو دہشت گرد، جنگ اور منشیات سے پاک آزاد، متحد اور پرامن ملک کے طور پر دیکھنے کی حمایت کی گئی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ چاروں ممالک اپنے اپنے مفادات کے لیے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی فوج نے 11 اکتوبر کی رات جوابی کارروائی کی اس میں کم از کم 19 افغان پوسٹس تباہ کیے گئے۔ ان میں جندوسر پوسٹ، تورکمنزئی کیمپ، خرچار فورٹ، لبند پوسٹ، منوجبا کیمپ بٹالین ہیڈ کوارٹرز، اور درانی کیمپ شامل ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق کئی درجن افغان فوجی اور کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گرد مارے گئے۔ افغان فوجیوں نے اپنی پوسٹس چھوڑ کر فرار کا راستہ اختیار کیا اور لاشیں پیچھے چھوڑ گئے۔
بھارت کے ساتھ افغانستان کے سفارتی بحالی پاکستان کے لیے کئی سطحوں پر خطرناک ہیں۔ سب سے پہلے، یہ پاکستان کو علاقائی طور پر الگ تھلگ کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ دوسرے، بھارت کی عالمی میڈیا موجودگی اور کابل کی ’’خودمختاری کی خلاف ورزی‘‘ کی بیانیہ پاکستان کو سفارتی طور پر نقصان پہنچا سکتی ہے اگر پاکستانی حملوں میں شہری ہلاکتیں ہوں۔ تیسرے، بھارت کی انٹیلیجنس سروسز کے لیے افغانستان میں موجودگی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔حالانکہ افغان طالبان اس امر کو بخوبی جانتے ہیں کہ بھارت نے کابل کی دوہری انتظامیہ کے دور میں ان کے خلاف شدید کاروائیوں سمیت مالی اور عسکری ترتیب سمیت ایسے اقدامات کئے جن کا مقصد افغان طالبان کے وجود کو ختم کرنا تھا۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کا علاقائی شاخہ AQIS افغانستان میں کالعدم انتہا پسند تنظیموں کو اہم مدد فراہم کر رہا ہے۔ افغانستان کے 34 صوبوں میں سے 12 میں القاعدہ کے تربیتی کیمپس موجود ہیں۔ یہ کیمپس نہ صرف کالعدم تنظیموں بلکہ دوسرے علاقائی دہشت گرد تنظیموںکو بھی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پوری وسطی ایشیائی خطے کے لیے خطرہ ہے۔
پاکستان کے لیے آگے کا راستہ انتہائی مشکل ہے۔ ایک طرف اسے کالعدم انتہا پسند گروپوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی ہے اور دوسری طرف شہری ہلاکتوں سے بچنا ہے۔ تیسرے، اسے بھارت-افغان اتحاد کا مقابلہ کرنا ہے اور چوتھے، چین کے دباؤ کو سنبھالنا ہے۔ آپریشن عزم استحکام کو زیادہ مؤثر بنانے، بہتر انٹیلیجنس کے ذریعے صحیح اہداف کی تشخیص، اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔























