
اتوار19اکتوبر کو کسانوں کے ساتھ ناانصافیوں کے خلاف سندھ بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان
کسانوں کا معاشی قتل و ناجائز کٹوتی بند کی جائے اور دھان کی امدادی قیمت 4000 روپے فی من مقرر کی جائے، کاشف سعید شیخ
کراچی /کندھ کوٹ(13اکتوبر) جماعت اسلامی کسان بورڈ کے تحت صوبائی امیر کاشف سعید شیخ کی قیادت میں دھان کے کسانوں کے ساتھ ناانصافی، قیمتوں میں کمی اور غیر قانونی کٹوتیوں کے خلاف پیر کو گھنٹہ گھر سے حقوق کسان ریلی نکالی گئی۔ جس میں کسانوں اور سیاسی و سماجی رہنماو ¿ں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی کے شرکاءتپتی دھوپ شدید گرمی کے باوجود ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا دیکر بیٹھ گئے اور ”کسانوں کو ان کا حق دو، دھان کی قیمت دوکسانوں کا معاشی استصال بند کرو“ کے نعرے لگائے۔ امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو کسان کارڈ نہیں بلکہ ان کو دھان سمیت اپنی فصلوں کی مناسب قیمت دی جائے۔ بیوپاریوں اور مل مالکان نے ملی بھگت سے 32سو سے کم کرکے دھان کی قیمت فی من 22سو روپے کردی ہے۔ نمی کا بھانہ بناکر چار سے سات کلو دھان کے فی من پر کٹوتی الگ کی جا رہی ہے جو کہ غریب کسانوں کے ساتھ ظلم ہے۔ کسانوں کا معاشی قتل بند کیا جائے۔صوبائی امیر نے اعلان کیا آئندہ اتوار کو کسانوں کے ساتھ ہونے والی نانصافیوں کے خلاف سندھ بھر میں پریس کلب اورڈی سی آفس کے سامنے دھرنے دیءجائیں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے ساتھ ناانصافی ختم کی جائے اور دھان کی قیمت کم از کم 4 ہزار روپے امدادی قیمت مقرر کرکے حکومت عملدرآمد یقینی اور سرکاری خریداری کے مراکز قائم کئے جائیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ بھر کے کسان اور زمیندار پانی کی قلت، کھاد کی بلیک مارکیٹ میں فروخت، مہنگے بیج اور ادویات کی قلت کے خلاف گزشتہ کئی روز سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں لیکن گونگے بہرے حکمران کوئی دھیان نہیں دے رہے۔ بڑے سرمایہ دار اور مل مالکان کسانوں کی اگائی ہوئی ہر فصل کو کٹائی ہوتے ہی سستے داموں خریدتے ہیں۔ جہاں سرمایہ دار اور صنعت کار اپنی تیار کردہ اشیائ، چاول، چینی، آٹا، گھی، تیل دوگنی قیمتوں پر بیچ کر ارب پتی بن چکے ہیں، وہیں کسان آج بھی بھوک اور افلاس کا شکار ہیں۔ اس وقت سرمایہ داروں، برآمد کنندگان اور رائس ملرز نے مل کر دھان کی قیمتوں میں کمی کی ہے لیکن ایک ماہ بعد جب سرمایہ داروں کے گوداموں میں یہ ذخیرہ ہوں گی تو قیمت چار ہزار سے بھی بڑھ جائے گی۔ کسانوں کو آپ کے کسان کارڈ کی ضرورت نہیں ہے، صرف زراعت سے دشمنی ختم کریں اور انہیں ان کی فصلوں کی صحیح قیمت دیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ زمیندار اپنی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں اور دوا ساز کمپنیاں اے سی گاڑیوں میں گھوم رہی ہیں۔ گزشتہ 15 سالوں سے سندھ کے کسانوں کو گنے، گندم اور ساڑھیوں کی مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ سندھ کے کسانوں اور کاشتکاروں کے خلاف کارخانوں، سیٹھوں اور حکومت کی ملی بھگت سے زراعت تباہ ہو چکی ہے۔ سندھ حکومت بھی اس ظلم میں برابر کی شریک ہے کیونکہ سندھ کے وزیر اور مشیر مافیاز اور سیٹھوں کے ساتھ مل کر ہیں۔ کاشف سعید شیخ نے حکومت سندھ سے پرزور مطالبہ کیا کہ کسانوں اور کاشتکاروں کو گندم، کپاس، گنے، سورج مکھی سمیت نقد آور فصلوں کی منصفانہ قیمتیں دی جائیں اور ٹیکس، لیویز اور قرضوں کے ٹیکس معاف کیے جائیں، ساتھ ہی دیگر چارجز اور زرعی قرضے بھی معاف کیے جائیں۔ بیج، کیمیائی کھاد اور ڈیزل کی قیمتوں میں رعایت دی جائے۔ چھوٹے کسانوں کو ٹریکٹر اور زرعی آلات آدھی قیمت پر دیے جائیں۔ زرعی بیجوں کی بہتر قیمت پر دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ چھوٹے کسان اور کسان دکانداروں سے مہنگے داموں زرعی بیج خریدنے سے بچ سکیں۔ اس موقع پر سندھ کے نائب امیر حافظ نصر اللہ چنا، ڈپٹی جنرل سیکرٹری امداد اللہ بجارانی، ضلعی امیر غلام مصطفی میرانی اور کسان بورڈ کے رہنما استاد حفیظ اللہ بلوچ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ #
Load/Hide Comments























