فیفا ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائنگ میچز کا سلسلہ جاری ہے جہاں اتوار کو ناروے کی فٹبال ٹیم اسرائیل کے مدمقابل آئی جس میں ناروے کے اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ نے شاندار ہیٹ ٹرک اسکور کرکے اسرائیل سے 0-5 کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق میچ سے قبل ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں سیکڑوں افراد نے فلسطین کی حمایت میں مظاہرے میں شرکت کی جو غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے اور ’فلسطین کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگاتے رہے۔
ناروے کی پولیس نے فلسطینی حامی مظاہرین کے ایک اجتماع کو آنسو گیس کے ذریعے منتشر کیا اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
اوسلو کے اولیوال اسٹیڈیم میں چند اسرائیلی شائقین نے اپنے ملک کا جھنڈا اور ساتھ ہی ایک بینر لہرایا جس پر لکھا تھا ’گیند سے جواب دو!‘
میچ کے دوران اسٹیڈیم میں فلسطین کے حامیوں اور فلسطینی جھنڈوں کی بہتات تھی جو مسلسل فلسطین کی آزادی کے نعرے لگا رہے تھے۔
دی گارجین کے مطابق ناروے کے ایک تماشائی نے کہا کہ ’یہ بہت پریشان کن تھا، ہمیں اسرائیل کی ٹیم کو یہاں (ناروے) آنے ہی نہیں دینا چاہیے تھا، یہ میچ ہونا ہی نہیں چاہیے تھا لیکن ہم اس میچ کو روک نہیں سکتے‘۔
ایک اور تماشائی نے کہا کہ ’اسرائیل پر پہلے ہی فیفا سے پابندی عائد کردی جانی چاہیے تھی لیکن اب ہم کچھ نہیں کرسکتے‘۔
تاہم مانچسٹر سٹی کے اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ نے ناورے کی قومی ٹیم کی جانب سے کھیلتے ہوئے اسرائیل کی جیت کے خواب کو چکناچور کردیا جبکہ وہ بین الاقوامی فٹبال میں تیز ترین 50 گولز کرنے والے کھلاڑی بن چکے ہیں جو کہ صرف 46 گیمز میں ناروے کے لیے 51 گول کرنے والے کھلاڑی ہیں۔
ناروے سے شکست نے اسرائیل کے 2026 کے ورلڈ کپ میں شرکت کے امکانات کو مزید کم کردیا ہے جس کے اب صرف دو میچز باقی ہیں جن میں اس کے لیے جیت ضروری ہے جبکہ اس کا اگلا میچ اٹلی کی قومی ٹیم کے خلاف منگل ہوگا۔
ناروے کی فٹبال ایسوسی ایشن نے میچ فیس غزہ میں سرگرم ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کو عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔























