ہندوستانی فلم ایکٹر سلمان خان نے امریکہ میں ایک شو صرف اس لئے منسوخ کر دیا کیونکہ اس کا انتظام ایک پاکستانی امریکن ریحان صدیقی نے کیا تھا

ابھی حال ہی میں ہندوستانی فلم ایکٹر سلمان خان نے امریکہ میں ایک شو صرف اس لئے منسوخ کر دیا کیونکہ اس کا انتظام ایک پاکستانی امریکن ریحان صدیقی نے کیا تھا۔اس سے پہلے بھی ہندوستان میں پاکستانی فنکاروں کے ساتھ جو کچھ ہوتا رہا ہے وہ ہمارے اور آپ کے سامنے ہے۔کوئی پاکستانی فنکار اب ہندوستان میں اپنے فن کا مظاہرہ نہیں کرسکتا اور جو پاکستانی نژاد فنکار ہندوستان میں رہائش اختیار کرچکے ہیں وہ خوف اور بے یقینی کی فضا میں رہ رہے ہیں۔خود حکومت پاکستان نے کشمیر میں ہندوستان کے غاصبانہ اور ظالمانہ اقدامات کے بعد اس ملک سے ہر قسم کے تجارتی اور دوسرے رابطے منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا جس کا ملک کے تمام طبقوں نے خیر مقدم کیا تھا اور بات بھی معقول تھی کہ جو ملک ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے خلاف ظلم کی ہر حد پار کر چکا ہو اس سے کس طرح معمول کے تعلقات قائم رکھے جا سکتے ہیں۔ہندوستان میں نہ صرف کشمیر میںظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں بلکہ ملک کی مکمل مسلمان آبادی کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے جس کی جیتی جاگتی مثال نیا قانون ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کو ہندوستان کی شہریت سے محروم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور نتیجے میں پورے ملک میں فسادات پھوٹ پڑے ہیں اور ریاستی طاقت کے ذریعے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی موجودہ تلخی کی دور دور کوئی مثال نہیں ملتی اور بلا خوف و خطر کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات تاریخ میں کبھی ایسے کسی دور سے نہیں گزرے جہاں ہندوستان کھل کر مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں کررہا ہو اور اسے پاکستان کے جذبات اور احساسات کی کوئی پرواہ نہ ہو۔ خود وزیر اعظم بار بار کہہ چکے ہیں کہ ان کے پاس اطلاعات ہیں کہ ہندوستان اب منہ زبانی پروپیگنڈاسے ایک قدم آگے جاکر کوئی ایسی حرکت کرنے والا ہے کہ اس کی ذمہ داری پاکستان پرڈال کر جارحیت کی کوشش کرے۔قصہ مختصر کہ اس وقت ہندوستان پاکستان دشمنی میں پاگل ہوا جارہا ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے تمام تر اعلانات کے باوجود ہندوستان کے ساتھ وہ رویہ اپنانے سے گریزاں ہیں جس کا وہ مستحق ہے اور جس قسم کے رویئے کا ہم اعلان بھی کرچکے ہیں۔ میرا اشارہ حال ہی میں پاکستان میں شروع ہونے والے پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب کی طرف ہے جس کا انتظام حیران کن طور پر ایک ہندوستانی خاتون شبرھ بھردواج نے ایک خطیر رقم کے عیوض کیا۔ذرا غور کیجئے کہ ملک کی وہ سب سے بڑی تقریب جس کو نہ جانے کتنے ممالک میں لائیو دکھایا گیا اور جس پر پورے پاکستان کی نظریں تھیں اس کا انتظام ایک ہندوستانی کے سپرد کر دیا گیا اور کسی کے کان پر جوں بھی نہ رینگی۔تھوڑی دیر کے لئے تصور کیجئے کہ یہ کام پچھلے وزیر اعظم کی حکومت میں کیا جاتا تو کنٹینر والی سرکار اس پر کس قدر برہم ہوتی اور کس کس طریقے سے پوری حکومت اور متعلقہ لوگوں کی حب الوطنی کو نشانہ بنایا جاتا۔کہا جارہا ہے کہ کوئی بات نہیں ہیں تو محترمہ ہندوستانی مگر ان کی کمپنی تو دبئی میں رجسٹرڈ ہے اور اصل ٹھیکہ تو پاکستانی ایکٹر ندیم جعفری کو دیا گیا تھا اور انہوں نے اس پروگرام کو چلانے کے لئے محترمہ کا انتخاب کیا۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ کیا کوئی پاکستانی کمپنی جو دبئی یا کسی اور ملک میں رجسٹرڈ ہو ہندوستان پریمئیر لیگ کے افتتاحی ایونٹ کا انتظام سنبھال سکتی ہے؟ یہ بات نہیں ہے کہ پاکستان میں ایسی کمپنیاں موجود نہیں۔ میں خود سالہاسال پاکستانی کمپنی رٹز تھیٹر کی خدمات اپنی کمپنی کے لئے حاصل کرتا رہا ہوں جس کے مالک لارنس بھی ایک مقبول اور مشہور شخصیت ہیں جو پوری دنیا میں شو کرانے کے لئے مشہور اور اس کے لئے تمام تر قابلیت اور مہارت بھی رکھتے ہیں۔ان کے علاوہ بھی دوسرے لوگ ہیں اور پاکستان کی کئی بڑی اشتہاری کمپنیاں اس کام میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں ہنر کی کمی نہیں مگر ان لوگوں کو کون سمجھائے جو ذہنی طور پر ہندوستان کے غلام ہوچکے ہیں اور انہیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں کہ اس ملک کی حکومت اپنے دیس میں مسلمانوں پر کس قدر ظلم ڈھارہی ہے اور ہماری اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ حرکت سے کشمیر کے معاملے میں کس قدر نقصان پہنچے گا اور دنیا پر تو یہی تاثرقائم ہوگا کہ پاکستان اس معاملے میں سنجیدہ نہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ سب کچھ دائو پر لگا کر بھی کچھ حاصل نہ ہوا اور یہ تقریب غلطیوں سے بھر پور اور بے جان رہی جس سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ اگر ہم اپنے قومی نوعیت کے پروگرام ایسے ہی دشمن ملکوں کے لوگوں کے ہاتھ میں دیں گے تو وہ پوری قوم کی امیدوں پر اوس ہی ڈالیں گے اور پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی کا سامان پیدا کریں گے۔خان صاحب جو کشمیر کے بارے میں اپنی حکومت کی کاوشوں کو گنواتے نہیں تھکتے انہیں اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیئے اور جو جو لوگ ہماری اس جگ ہنسائی کے ذمہ دار ہیں ان سے باز پرس کرنی چاہیئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیئے کہ مستقبل میں وہ اس قسم کے فیصلے کر نے کی پوزیشن میں نہ ہوں۔کراچی میں پی ایس ایل کا افتتاح ہی اس شہر کو ملکی اور غیر ملکی خبروں میں نمایاں نہیں کرتا رہا بلکہ اس شہر میں پراسرار طور پر پھیلنے والی زہریلی گیس نے بھی اسے ملکی اور غیر ملکی خبروں میں جگہ دی۔ایک رات اعلان ہوا کہ کراچی کے ایک کونے کیماڑی میں کوئی زہریلی گیس پھیل گئی ہے اور لوگ جوق درجوق علاقے کے اسپتالوں میں پہنچ رہے ہیں۔ کچھ دیر کے بعد اموات کی اطلاعات بھی آنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک درجن کے قریب افراد خالق حقیقی سے جا ملے۔کراچی کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ ایک یتیم شہر ہے اور یہ اس لئے کہ یہاں سنگین سے سنگین واقعہ ہوجائے ارباب اقتدار کے کان پر جوں نہیں رینگتی چاہے وہ شہری صوبائی یا وفاقی حکومت ہو سب ذمہ داری کی گیند ایک دوسرے پر اچھالتے رہتے ہیں اور اس معاملے میں بھی یہی ہوا۔واقعہ کراچی پورٹ کے علاقے میں ہوا جو ظاہر ہے وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر متعلقہ وفاقی وزیر نے سمندر میں ایک کشتی کی سیر کرتے ہوئے تصویر کے ساتھ اعلان کردیا کہ فضا صاف ہے اور ہمارے علاقے میں کچھ نہیں ہوا۔ ان صاحب سے اورزیادہ کی توقع بھی نہیں جاسکتی کہ یہ وہی حضرت ہیں جو ایک ہفتے میں کراچی کی صفائی کا اعلان کرچکے ہیں اور پھر ایسے غائب ہوئے کہ اب نظر آئے ہیں۔صوبائی حکومت کی ایک خاتون وزیر نے تو انتہا کردی۔ انہوں نے فرمایا کہ کچھ ہوا نہیں بس لوگوں کا وہم ہے اور میں نے متاثرین سے ملاقات کی تو اندازہ ہوا کہ وہ نفسیاتی مریض ہیں جن کو سانس تو آرہی ہے مگر انہیں لگ رہا ہے کہ انہیں سانس نہیں آرہی۔ اس ظالمانہ تبصرے کے بعد کچھ کہنے کو رہ نہیں جاتا۔مقامی حکومت کو کچھ کہنا بے کار ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ نہ جانے وہ کس آس میں ابھی تک اپنے عہدوں پر بیٹھے ہیں جن کے اختیارات تو بقول ان کے پاس ہی نہیںہیں۔ سب سے زیادہ سنگین اور لرزا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ اب اس واقعے کو ایک ہفتہ ہوگیا اور ایک درجن سے زیادہ اموات بھی ہوگئیں مگر اس جدید دور میں جب سائنس بڑی بڑی گتھیاں سلجھانے کی اہلیت رکھتی ہے پاکستان کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر میںابھی تک یہ بھی پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کونسی گیس تھی اور کہاں سے نکلی جو اس شہر کے ایک درجن سے زیادہ معصوم شہریوں کے لئے پیغام اجل بن گئی۔سویا بین کی خاک سے لے کرمیتھائل برومائیڈ تک کے نام آچکے ہیں مگر حیرت ہے کہ کوئی ایجنسی کوئی ادارہ نشان دہی نہیں کرسکتا کہ کونسی گیس تھی اور کس کی غفلت اور لاپروائی سے انسانی جانوں کازیاںہوا۔اب تو کوئی اس کی بات بھی نہیں کررہا اور نہ کسی قسم کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ شاید سپریم کورٹ ہی اس کا نوٹس لے تو اصل ذمہ داروں کا تعین ہوسکے۔کراچی واقعی ایک یتیم شہر ہے ا ور حالیہ واقعے میں مزید ایک درجن اس کی یتیمی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں-zia-ul-islam-zubairi-nawaiwaqt

اپنا تبصرہ بھیجیں