بلدیاتی اداروں میں اربوں کی کرپشن اور بدعنوانیوں پر نیب کے بعد اینٹی کرپشن نے تابڑ توڑ کارروائیاں شروع کردیں

کے ایم سی محکمہ انجینئرنگ اور ایجوکیشن ورکس کے افسران کا گٹھ جوڑ بے نقاب۔۔۔۔۔

60 کروڑ لاگت کے ترقیاتی کام بوگس این آئی ٹی کرکے ٹھکانے لگادیئے گئے۔۔۔

کراچی۔۔۔۔۔

بلدیاتی اداروں میں اربوں کی کرپشن اور بدعنوانیوں پر نیب کے بعد اینٹی کرپشن نے تابڑ توڑ کارروائیاں شروع کردیں،کے ایم سی ساﺅتھ زون اور کے ڈی اے میں بوگس ٹینڈرنگ کے سنسنی خیز انکشافات کے بعدبلدیہ عظمی کراچی محکمہ انجینئرنگ کے افسران کی بدعنوانی کا ایک اور بھانڈا پھوٹ گیا، سڑکوں کی تعمیر کے60کروڑ لاگت کے منصوبے اسکولوں کی تعمیر کیلئے مختص محکمہ ایجوکیشن ورکس سے بوگس ٹینڈرز کرائے جانے کا انکشاف،اینٹی کرپشن نے جعلسازی سے ٹھیکوں کی خریدوفروخت پر تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے کے ایم سی افسران اور ایجوکیشن ورکس کے ایکسئن سے تمام ریکارڈ طلب کرلیا، بلدیہ کراچی کے افسران کے ساتھ مل کر مبینہ بوگس ٹینڈرکرنے والے ایکسئن ایجوکیشن ورکس نے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے تمام راز اگل دیئے،افسران کے ساتھ ساتھ منتخب نمائندوں کے بھی ملوث ہونے کا انکشاف،محکمہ انسداد رشوت ستانی نے جلد بڑی کارروائی کی تیاریاں کرلیں۔تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت محکمہ بلدیات کے ماتحت اداروں میں گذشتہ6سالوں سے بوگس ترقیاتی کاموں کے ذریعے کی جانے والی اربوں روپے کی کرپشن اور لوٹ مار کیخلاف صوبائی محکمہ انسداد رشوت ستانی(اینٹی کرپشن) بھی حرکت میں آگیا ہے اور اس سلسلے میں تابڑ توڑ کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے ،واضح رہے کہ صرف بلدیہ عظمی کراچی میں36ارب روپے کی مبینہ کرپشن اور بدعنوانیوں کیخلاف قومی احتساب بیورو (نیب) میں پہلے ہی تحقیقات جاری ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں کے ڈی اے میں بوگس ٹینڈرنگ کے انکشاف پر دو صوبائی سیکریٹریز، کے ایم سی کے ایکسئن سمیت دیگر ملوث افراد کیخلاف اینٹی کرپشن نے ایف آئی آر درج کررکھی ہے ،اسی طرح کے ایم سی ساﺅتھ زون کے80کروڑ لاگت کے کاموں کی بھی مبینہ بوگس ٹینڈرنگ پر این آئی ٹی منسوخ کی جاچکی ہے اور اس کیخلاف محکمہ لوکل گورنمنٹ سندھ کی تحقیقاتی ٹیم تحقیقات کررہی ہے،ابھی مذکورہ تحقیقات جاری تھیں کہ ایک اور انکشاف منظر عام پر آگیا ہے جس میں بلدیہ کراچی کے افسران نے 60کروڑ کا ترقیاتی فنڈ ٹھکانے لگانے کیلئے محکمہ بلدیات سندھ کے بجائے محکمہ تعلیم سندھ کے ماتحت چلنے والے محکمہ ایجوکیشن ورکس سے بوگس ٹینڈرنگ کراکر ٹھیکوں کی خریدوفروخت کی،ذرائع کے مطابق محکمہ ایجوکیشن ورکس کے ایکسئن رضوان حیدر کے ذریعے60کروڑ لاگت کی30ترقیاتی اسکیموں کے بوگس ٹینڈرز کئے گئے جس کیلئے اخبارات میں تشہیر کرنا بھی گوارہ نہیں کیا گیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ بوگس ٹینڈرنگ کی اسکیموں کا بھانڈا اس وقت پھوٹ گیا جب ان کاموں کی ادائیگی کیلئے بل کی تیاری کیلئے کے ایم سی محکمہ انجینئرنگ کے افسران کو ٹاسک دیا گیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن کی جاری تحقیقات کے باعث افسران نے بل بنانے سے صاف انکار کردیا،ذرائع کے مطابق مذکورہ کاموں کی ادائیگی کے ایم سی کو حالیہ ملنے والی اے ڈی پی کی ریلیز سے کی جانی ہے جس کیلئے ماتحت افسران پر شدید دباﺅ ڈالا جارہا ہے، دریں اثناءاینٹی کرپشن ایسٹ زون نے بوگس ٹینڈرنگ اور کروڑوں کے فنڈز کی بندر بانٹ کی شکایات پر مذکورہ60کروڑ لاگت کے کاموں کی تحقیقات تیز کرتے ہوئے ڈی جی ٹیکنیکل سروسز سے محکمہ ایجوکیشن ورکس سے کرائی گئیں بوگس اسکیموں کا ریکارڈ اور ٹینڈرنگ پروسیز سمیت تمام اہم ریکارڈ مانگ لیا ہے جس کے باعث افسران میں سخت بے چینی اور کھلبلی مچی ہوئی ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کے ایم سی افسران کے ساتھ مل کر مبینہ بوگس ٹینڈرنگ کرنے والے ایکسئن ایجوکیشن ورکس کو بھی اینٹی کرپشن میں طلب کیا گیا جس میں مذکورہ ایکسئن سے تحقیقات کے بعد اہم شواہد اینٹی کرپشن کو حاصل ہوگئے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسئن ایجوکیشن ورکس نے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے تمام افسران کے نام اگل دیئے ہیں جس کے بعد اینٹی کرپشن کی جانب سے جلد بڑی کارروائی کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں