کنزا ہاشمی چھوٹی سکرین کی معروف اداکارہ

کنزا ہاشمی چھوٹی سکرین کی معروف اداکارہ ہیں، کہتی ہیں کہ ’مجھے ایسے کردار پسند ہیں جو چیلنجنگ ہوں، خود کو سکرین پر کافی عرصے تک دیکھنے کے بعد بھی یقین نہیں آ رہا کہ یہ میں ہی ہوں۔‘ اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کنزا ہاشمی نے کہا کہ ’مجھے اداکاری کا ہمیشہ سے بہت شوق تھا اس لیے اسے بطور پروفیشن اپنا لیا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’میرا تعلق لاہور سے ہے اور میں نے باقاعدہ اداکاری نہیں سیکھی لیکن اپنے سینیئرز سے کافی کچھ سیکھا ہے۔ میں اب تک 28 سے زائد ڈراموں میں کام کر چکی ہوں۔ میں نے محبت کی اور مجھے محبت پر یقین بھی ہے، محبت کے بغیر تو دنیا میں سب بے رنگ ہیں۔‘
کنزا ہاشمی کا کہنا ہے کہ ’کام کے دوران بے شمار واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن ڈرامہ سیریل ’سنگسار‘ کا ٹیزر شوٹ کرنے کے لیے مجھے چودہویں منزل کے کارنر پر کھڑا کیا گیا تھا، وہاں کھڑا ہونا بہت ہی خطرناک تھا لیکن میں نے جیسے تیسے کر لیا۔‘’یہ ٹیزر ریکارڈ کروانے کے لیے میرے اندر ہمت کہاں سے آئی تھی مجھے نہیں معلوم لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ میں نے اتنا مشکل کام کر لیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ٹیزر کی شوٹنگ کے دوران لوگ مجھے دیکھ کر رک جاتے تھے۔ ان کو لگتا تھا کہ شاید لڑکی اوپر سے نیچے چھلانگ لگا کر خود کشی کرنے لگی ہے، پھر ہماری ٹیم ان لوگوں کو ہاتھ ہلا کر بتاتی کہ بھئی شوٹنگ ہو رہی ہے۔‘
کنزا ہاشمی نے مزید کہا کہ ’ہر انسان کو اپنی اداکاری اچھی تو لگتی ہی ہے لیکن مجھے اپنے علاوہ سوہائے علی ابڑو، سجل علی اور مہوش حیات کی اداکاری بہت پسند ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے جب بھی کسی پروجیکٹ کی پیش کش ہوتی ہے تو میں سب سے پہلے اس کا سکرپٹ دیکھتی ہوں اور کسی بھی پروجیکٹ کو قبول یا رد کرنے کی وجہ اس کا سکرپٹ ہی ہوتا ہے۔‘
انہوں نےکہا کہ ’ایسے بے شمار ڈرامے ہیں جن میں میں بہت روئی ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں رونے دھونے والے کردار ہی کرتی ہوں۔ میں نے ہمیشہ سٹینڈ لینے والی لڑکی کے کردار کیے ہیں، باقی آنسو حقیقی زندگی اور ڈرامہ دونوں کا حصہ ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ رونے والی لڑکی بیچاری ہے۔‘آج کی عورت کتنی مضبوط ہے اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’دنیا بدل گئی ہے، میں دیکھتی ہوں کہ عورتیں ہر کام میں بڑھ چڑھ کر مردوں کے برابر حصہ لے رہی ہیں، تعلیم حاصل کرکے خود اپنے پاﺅں پر کھڑی ہو رہی ہیں اور مردوں کا سہارا بن کر چل رہی ہیں، یہی ان کی مضبوطی ہے کہ وہ گھبراتی نہیں بلکہ ہر کام حوصلے سے کر رہی ہیں۔‘

کنزا ہاشمی نے کہا کہ ’پاکستان ٹیلی ویژن کے سنہرے دور میں کام کرنے والی تمام اداکارائیں ایک سے بڑھ کر ایک تھیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک اداکارہ کا انتخاب کرنا چاہوں اور خود کو اس کے ساتھ ملانا چاہوں تو ناممکن ہے کیونکہ سب ہی بہت زبردست تھیں، میں چاہ کر بھی کسی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ڈرامے کی ریٹنگ سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ کوئی بھی اداکار کتنا کامیاب یا فلاپ ہے، یہ تو عوام ہیں جو کسی بھی اداکار کو سپر ہٹ کرتے ہیں، ریٹنگ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔‘آن سکرین جوڑی کے حوالے سے کنزا نے کہا کہ ’مجھے اپنی آن سکرین جوڑی ہر ایک کے ساتھ اچھی لگتی ہے اور ویسے بھی جس وقت آپ کسی کردار میں ہوتے ہیں اس وقت برا لگنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اپنے کیریکٹر کو خود پر اچھی طرح سے طاری نہیں کیا ہے۔‘
’سیٹ پر ماحول اچھا ہو تو کام کرنے کا بھی مزا آتا ہے۔ میں نے جن جن کے ساتھ کام کیا ہے وہ سب کے سب سیٹ پر بہت اچھے رہتے ہیں اور سیٹ پر اچھا رہنے کے لیے ضروری ہے کہ سب خوش اخلاقی سے کام لیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’سیمی پاشا، زینب قیوم، واسیہ فاطمہ ،شاہین خان اور فیضان خواجہ سمیت ایسے کئی فنکار ہیں جو سیٹ پر بہت اچھے انداز سے رہتے ہیں۔‘
کنزا ہاشمی نے کہا کہ اداکاروں کے جھوٹے سچے سکینڈلز چھپتے رہتے ہیں، پچھلے دنوں ایک خبر اڑا دی گئی کہ کسی اداکارہ کے بیٹے کے ساتھ میری منگنی ہو گئی ہے۔ اس خبر پر بہت غصہ آیا کیونکہ ایسی کوئی بات تھی ہی نہیں-انہوں ںے بتایا کہ ’مجھے ڈرامہ سیریل ’رانجھا رانجھا کردی‘ کی پیش کش ہوئی تھی لیکن تاریخوں کے علاوہ چند دیگر مسائل کی وجہ سے منع کر دیا اور مجھے یہ ڈرامہ چھوڑنے کا بالکل بھی رنج نہیں۔ اس ڈرامے کے علاوہ بھی کوئی ایسا کردار نہیں جس کو نہ کرنے کا افسوس ہو۔‘
’میں نے آج تک جو بھی کردار کیا ہے دل سے کیا ہے اور سب ڈراموں میں اپنی طرف سے سو فیصد محنت کرتی ہوں۔میری ابھی تک تو ڈراموں پر توجہ ہے لیکن جب فلم کی آفر ہوئی تو ضرور کروں گی۔‘
کنزا ہاشمی کا کہنا تھا کہ ’میں دن میں چودہ پندرہ گھنٹے کام کرتی ہوں، خود کو فِٹ رکھنے کے لئے 20 یا 30 منٹ لگاتی ہوں۔25 سال کی عمر میں شادی کا ارادہ رکھتی ہوں، میں ارینج میرج کرنا پسند کروں گی اور جس سے میری شادی ہو وہ ایک محنتی انسان ہو۔‘ ’کیرئیر کے کسی موڑ پر پروڈکشن کروں گی یا نہیں ابھی اس بارے میں نہیں سوچا۔عورت کی سب سے بڑی طاقت اس کا مثبت ہونا ہے ۔مجھے جھوٹ بولنے والوں پر بہت غصہ آتا ہے۔ میں اپنی امی سے متاثر ہوں اور اگر میں اداکارہ نہ ہوتی تو ڈیزائنر ہوتی۔‘

انہوں ںے کہا کہ ’میں لوگوں سے جلدی گُھلتی مِلتی نہیں، مجھے کسی کے ساتھ بھی گُھلنے مِلنے میں وقت لگتا ہے۔میں ٹوئٹر اور فیس بک کی نسبت انسٹاگرام زیادہ استعمال کرتی ہوں۔میں سیلفیاں لینے کی شوقین نہیں ہوں لیکن جہاں ضروری ہو لے لیا کرتی ہوں۔‘
کنزا ہاشمی نے کہا کہ ’مجھے کامیڈی رول کرنے میں دلچسپی ہے، میری سب سے زیادہ دوستی اذیکا دانیال، واسیہ اور حبیبہ عزیز سے ہے۔‘’آج کل میں ’تو میرا جنون‘ اور ’یہاں تیرا کوئی نہیں‘ کی شوٹنگ کروا رہی ہوں۔ مجھے مارننگ شوز کی میزبانی کرنا اچھا لگتا ہے تاہم ابھی تک ایسا کام کرنے کا موقع میسر تو نہیں آیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ حال ہی وہ ’ہم برائیڈیل کٹیور ویک‘ میں ریمپ پر پہلی بار چلی ہیں۔ ’بلکہ یوں کہیے کہ پہلی بار شو سٹاپر بننے کا احساس بہت ہی خوبصورت تھا۔‘
کنزا ہاشمی نے کہا کہ ابھی تک ڈراموں پر توجہ ہے لیکن جب فلم کی آفر ہوئی تو ضرور کریں گی۔
’میں ارینج میرج کرنا پسند کروں گی اور جس سے میری شادی ہو وہ ایک محنتی انسان ہو۔‘ آمنہ کنولurdunews-report

اپنا تبصرہ بھیجیں