مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال: سہولت کے ساتھ توانائی کی بھاری قیمت بھی

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) تیزی سے ہماری روزمرہ زندگیوں میں شامل ہو چکی ہے۔ اس کی مقبولیت کی بڑی وجہ معلومات اور مواد تک فوری رسائی ہے۔ تاہم، جہاں اے آئی نے انسان کی زندگی آسان بنائی ہے، وہیں اس کے استعمال کی ایک بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑ رہی ہے — اور وہ ہے توانائی کا بے تحاشا استعمال۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت صرف انسانی ذہانت کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو خود نئے تصورات اور مفروضے تشکیل دیتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے تحقیقی مقاصد کے ساتھ ساتھ ذاتی یا تجارتی مفادات کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے وسیع ڈیٹا اور پیچیدہ الگورتھمز درکار ہوتے ہیں، جنہیں چلانے کے لیے بھاری توانائی استعمال ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق چیٹ جی پی ٹی پر معلومات تلاش کرنے کے لیے گوگل سرچ کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔

اسی طرح، ماہرین کا کہنا ہے کہ جنریٹو اے آئی سے صرف ایک تصویر تیار کرنے میں اتنی ہی توانائی خرچ ہوتی ہے جتنی ایک موبائل فون کو چارج کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔

یہ ماڈلز طاقتور پروسیسرز پر مبنی ڈیٹا سینٹرز میں کام کرتے ہیں جو کمپیوٹنگ کے ساتھ ساتھ کولنگ سسٹمز کے لیے بھی بہت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق سال 2023 میں مصنوعی ذہانت نے عالمی ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کا تقریباً 8 فیصد استعمال کیا، جو 2028 تک بڑھ کر 20 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ماڈلز کی تربیت اور استعمال کے دوران توانائی کے ضیاع کو کم کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے محققین زیادہ توانائی مؤثر ماڈلز، جیسے ڈیپ سیک (DeepSeek)، پر کام کر رہے ہیں جو مستقبل میں بہتر اور پائیدار متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔