مریم نواز ایک وژنری وزیر اعلیٰ
ون پوائنٹ
نوید نقوی
پنجاب نہ صرف پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے بلکہ کم وبیش دنیا کے 180 ممالک سے بھی اس کی آبادی زیادہ ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک پنجاب کی وزارت اعلیٰ نہایت اہم رہی ہے۔ یہ بات طے ہے جس کی پنجاب پر حکومت ہوتی ہے وہ جلد یا بدیر وفاقی حکومت بھی ضرور سنبھالتا ہے۔ یوں ہم کہ سکتے ہیں کہ جس طرح وزیراعظم شہباز شریف پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا وسیع تجربہ رکھنے کے بعد اب پاکستان کی وزارت عظمیٰ پر فائز ہیں۔ آنے والے وقتوں میں مریم نواز صاحبہ بھی پاکستان کی وزیر اعظم بن سکتی ہیں۔ اُنہوں نے 25 فروری 2024 کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ یاد رہے کہ وہ پاکستان کے کسی بھی صوبے کی پہلی وزیر اعلیٰ ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ پاکستان کی سیاست میں حالیہ برسوں کے دوران جو سب سے نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے، وہ نئی قیادت کے ابھرنے کی ہے۔ انہی میں سے ایک نام مریم نواز شریف کا بھی ہے۔ وہ خاتون جو نہ صرف ایک مضبوط سیاسی وراثت کی حامل ہیں بلکہ اپنی محنت، بصیرت اور جدید طرزِ حکمرانی کے باعث ایک مختصر عرصے میں خود کو ایک وژنری وزیرِ اعلیٰ کے طور پر منوا چکی ہیں۔ مریم نواز نے بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب جب 26 فروری 2025 کو ذمہ داریاں سنبھالیں تو بہت سے لوگوں نے یہ سوچا کہ وہ روایتی سیاست کا تسلسل ہوں گی۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ محترمہ مریم نواز نے گورننس کو ایک نئے وژن کے ساتھ اپنایا۔ ان کی ترجیحات میں صرف سیاسی بیانات یا نعرے نہیں بلکہ عملی اقدامات شامل ہیں۔ ان کی سب سے پہلی شناخت نیا طرز سیاست اور نیا انداز حکمرانی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم، صحت، روزگار، خواتین کے حقوق، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی ترقی، یہ وہ میدان ہیں جہاں ان کی پالیسیوں نے حقیقی تبدیلی کی بنیاد رکھی ہے۔ محترمہ چیف منسٹر صاحبہ کا عزم ہے کہ تعلیم اور ٹیکنالوجی مستقبل کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہیں۔ ان کو یہ یقین ہے کہ قوموں کی ترقی تعلیم سے مشروط ہے۔ اس لیے انہوں نے اسمارٹ اسکولز پروگرام، جدید نصاب اور تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی ہے۔ نوجوانوں کے لیے ٹیکنالوجی ہبز اور اسٹارٹ اپ انکیوبیٹرز کا آغاز دراصل اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ مستقبل کی قیادت ہنر مند اور خود مختار ہونی چاہیئے۔ نوجوانوں کے لیے اسکالر شپ پروگرام اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے لاکھوں طلباء وطالبات کو لیپ ٹاپ فراہم کیے ہیں۔ بطور خاتون وزیرِ اعلیٰ، مریم نواز صاحبہ نے خواتین کے حقوق اور ان کے معاشی استحکام کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔ ویمن امپاورمنٹ پالیسی، محفوظ ٹرانسپورٹ سروسز اور کاروباری خواتین کے لیے آسان قرضہ جات کے منصوبے ان کے وژن کی واضح مثالیں ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے انہوں نے پنجاب کے طول و عرض میں گرین بسیں بھی فراہم کی ہیں۔ محترمہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بیوروکریسی کے پرانے نظام کو ڈیجیٹل گورننس سے جوڑنے کی سمت میں ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے جدید شکایتی پورٹل، شفاف ٹینڈرنگ، اور فیلڈ وزٹس ان کے اس عزم کا ثبوت ہیں کہ عوامی خدمت صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی نگرانی سے ممکن ہے۔ حالیہ سیلاب میں انہوں نے جس طرح طوفانی دورے کیے اور مظلوموں کی دادرسی کی، یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد تاریخ ہے۔ نوجوان کسی بھی لیڈر کا سرمایہ ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یوتھ پاور مریم نواز صاحبہ کے وژن کی بنیاد ہے۔ ان کے پروگرامز میں نوجوانوں کے لیے ٹریننگ، اسکل ڈویلپمنٹ اور روزگار کے مواقع شامل ہیں۔ وہ بخوبی سمجھتی ہیں کہ اگر نوجوانوں کو صحیح سمت اور موقع دیا جائے تو وہ پاکستان کا مقدر بدل سکتے ہیں۔ ان مختصر حقائق کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم کہ سکتے ہیں کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ ایک ایسی لیڈر کے طور پر ابھر رہی ہیں جو روایات اور جدیدیت کا حسین امتزاج ہیں۔ ان کی سیاست میں نرمی بھی ہے اور فیصلوں میں مضبوطی بھی، ان کا وژن صرف پنجاب نہیں بلکہ پورے پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو شاید آنے والے وقت میں 52 سالہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نام پاکستان کی پہلی وژنری خاتون وزیراعظم کے طور پر بھی تاریخ میں درج ہو۔
Load/Hide Comments























