جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، تنقید و توصیف

سچ تو یہ ہے

بشیر سدوزئی
============

جب سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی وجود میں آئی، ایک مخصوص طبقہ جو سمجھتا تھا کہ کسی نہ کسی طور اس کے مفادات کو خطرہ ہے اس کا شدید ناقد رہا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ صورت حال بدلتی گئی، حامیوں کی تعداد میں اضافہ اور ناقدین میں کمی آتی گئی، یہاں تک کہ آخری صفِ نقاد بھی خاموش ہو گئی۔ وہی چہرے، جو ’’سائفر‘‘ لہرا کر میدان میں اترے تھے، نعرے بازی شروع کر دی تھی کہ ’’را کے ایجنٹ‘‘ پکڑے گئے، اب سکوت کے پردے میں چھپ گئے۔ کچھ تبصرہ بھی نہیں کر رہے، کہ کیا اچھا ہوا کیا برا۔۔ انسانی جانوں کا ضیاع یقیناً افسوس ناک ہے، زخمیوں کی تکلیف دل کو چیر دیتی ہے۔ مگر تاریخِ عالم گواہ ہے کہ انقلابی تحریکیں ہمیشہ قربانی مانگتی ہیں، کبھی وقت کی، کبھی وسائل کی، کبھی قیادت کی، کبھی سر کی۔ ہم شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔ یہ تو سچ ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی رگوں میں انقلاب دوڑتا ہے، تب ہی 1947ء میں اس خطہ کو حاصل کیا، جس کے لیے کوئی فوج نہیں آئی تھی، آزاد کشمیر دریا جہلم کے ساتھ ایک پٹی ہے اور ان لوگوں کے لیے بہت آسان تھا کہ دریا عبور کر کے پاکستان میں آ جاتے اور بھارت آج کوہالہ کے پاس ہوتا اور مری بھی براہ راست بھارتی فورسز کی زد میں ہوتا، تاہم ماضی میں یہ وصف خاص طور پر پونچھ کے عوام سے منسوب کیا جاتا رہا، اس بار مظفرآباد، میرپور، بھمبر، کوٹلی، باغ، دھرکوٹ اور حویلی سمیت دیگر علاقوں کے عوام نے بہادری جرات اور شعور سے نئی تاریخ رقم کی ہے، اور جانوں کی قربانی دے کر فورسز کو پسپائی پر مجبور کیا، حکومتِ وقت کی حکمتِ عملی کچھ یوں تھی کہ پونچھ کو دیگر ڈویژن سے کاٹ کر مقامی پولیس کے حوالے کر کے وفاقی فورسز کو مظفرآباد اور میرپور میں تعینات کیا جائے۔ وہاں جبر سے حالات کو کنٹرول کر کے پھر پونچھ والوں کو تنہائی میں نمٹا جائے۔ لیکن مظفرآباد اور میرپور ڈویژن کے عوام نے بڑے انقلابی ہونے کا ثبوت دیا،گولی بھی وہیں چلی، اور شہداء و زخمی بھی وہیں سے اٹھے۔ ابھی پونچھ اور ماسیروں کا منظر باقی تھا کہ حکمرانوں کو اندازہ ہو گیا کہ اس قافلے کا قائد گنڈا پور نہیں، بلکہ عوام خود ہیں، اور پہاڑیوں اور سحرائی میں فرق سامنے آ گیا۔۔ معاہدے پر تنقید و توصیف دونوں ہو رہی ہیں۔ مگر تنقید کرنے والوں کی تعداد محدود ہے۔ ایک طبقہ تو ہمیشہ تنقید کے نشتر چلانے میں مصروف رہتا ہے، اس کے پاس دلائل نہیں ان کو شمار میں لانا وقت کا ضیاع ہے۔ محدود تعداد میں صاحبِ رائے افراد کی آراء سامنے آ رہی ہیں، جن میں زیادہ تر تعمیری نوعیت کی ہیں۔ اور غور طلب بھی فوری طور پر ان آرا پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ نتائج سامنے نہیں آتے۔ کچھ حلقے تعلیمی بورڈز اور احتساب بیورو کے معاملات پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں کہ ’’حقِ حاکمیت‘‘ اور ’’حقِ ملکیت‘‘ کے علمبرداروں نے ادارے وفاق کے حوالے کر دیئے۔ مگر شوکت نوز میر کی مدلل وضاحت اور معروف کالم نگار سردار محمد حلیم خان کے وضاحتی کالم کے بعد اس بحث کی گنجائش کم رہ گئی۔ جہاں تک احتساب بیورو کا تعلق ہے، وہ تو پہلے ہی آزاد کشمیر کے نظام میں موجود ہے۔ تجویز صرف یہ ہے کہ اسے مزید مضبوط کیا جائے تاکہ لوٹی ہوئی دولت کا حقیقی احتساب ممکن ہو۔ یہی شوکت نوز میر کی وضاحت ہے۔ البتہ نذیر گیلانی صاحب، جو تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے ممتاز مفکر اور ترجمانِ ریاستی خودداری ہیں، نے اپنے مضمون میں لکھا ہے: “یہ معاہدہ کراچی معاہدے کے بعد دوسرا معاہدہ ہے جس نے حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے نتیجے میں فیڈریشنِ پاکستان کو آزاد کشمیر میں مداخلت اور نگرانی کا نیا کردار حاصل ہو گیا ہے۔” اگرچہ شوکت نوز میر نے وضاحت کی کہ وفاقی وفد صرف مبصر اور ثالث کی حیثیت رکھتا تھا، مگر گیلانی صاحب کے خدشات اپنی جگہ اہم ہیں۔ وقت ہی بتائے گا کہ ان کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔ ہم اس حوالے سے پہلے ہی اپنا موقف پیش کر چکے کہ مہاجرین کی سیٹوں کے خاتمے کے مطالبے کے پیچھے کوئی بڑی سازش لگتی ہے، تاہم اس حوالے سے کمیٹی کا قیام خوش آئند ہے، امید ہے بہتر حل نکلے گا۔ تاہم یہ امر ناقابلِ تردید ہے کہ آزاد کشمیر کے مقامی مسائل کے حل میں وفاقی حکومت کے اس سطح کے وفد کو شامل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ سارا الزام جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو نہیں دیا جا سکتا۔۔ اگر اس میں کوئی خرابی ہوئی ہے تو، اس میں سابق اور موجودہ حکمرانوں کا ہی کردار ہے۔ انہی کی مرعات اور طرز حکمرانی کے خلاف عوام سڑکوں پر نکلے، جب ریاست کے سابق و موجودہ حکمران اپنی مراعات اور مفادات کے دفاع میں عوام کے سامنے بندوقیں لے کر کھڑے ہو جائیں، تو پھر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کس سے بات کرتی؟ اگر وفاق مداخلت نہ کرتا، تو تصادم بڑھ کر خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لیتا۔ جس کا تمام نقصان کشمیری اور پاکستانی عوام کے تعلق اور رشتے کو ہی اٹھانا پڑتا۔ اگر کہیں کوئی غلطی یا کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا بوجھ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر نہیں بلکہ ان طبقات پر عائد ہوتا ہے جنہوں نے دہائیوں تک اقتدار اور وسائل کو اپنی جاگیر سمجھا مگر نہ تحریکِ آزادی کے لیے کچھ کیا، نہ عوام کی فلاح کے لیے۔ یہ ہماری اجتماعی بدبختی ہے کہ عوام کو پلوں، سڑکوں، اسپتالوں اور ایم آر آئی مشینوں کے لیے احتجاج اور قربانی دینا پڑتی ہے۔ مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے ان مطالبات کو ’’بھارتی ایجنڈا‘‘ قرار دینا، احتجاج کو ’’فساد‘‘ کہنا، دراصل ظلم پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام سڑکوں پر تھے اور وزیر اعظم کشمیر ہاؤس، اسلام آباد میں بیٹھے تھے۔ وفاقی وفد نے کھیچ کر کشمیر ہاوس سے نکالا ساتھ لایا اور مظفرآباد میں آکر پھر غائب ہو گئے۔۔ اب اس میں حق حکمرانی اور حق ملکیت کو حکمران ہی نہ بچائیں تو عوام کو کیوں دوش دیں۔۔۔ آزاد کشمیر کے حکمران پہلے ہی کون سے بااختیار تھے جو اب کچھ کمی ہو گئی۔۔ برحال اس معاہدے کے خدوخال سامنے آنے میں وقت لگے گا، فی الحال تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ، پلوں اور سڑکوں کی تعمیر کے معاہدے میں وفاقی وفد کی شمولیت سے حق ملکت اور حق حکمرانی متاثر ہو گی۔ افسوس ناک امر ہے کہ مہاجرین کشمیر نے تحریک آزادی اور آزاد جموں و کشمیر کی بیس کیمپ پر کبھی توجہ ہی نہیں دی۔ 12 نشتوں والوں نے بھی تحریک آزادی کشمیر کے لیے کبھی ایک لفظ نہیں کہا۔ اگر سب کچھ کسی اور نے کرنا ہے تو آپ کی کیا ضرورت، اس سوال کا جواب ہمارے پاس بھی نہیں ہم نے اپنے طور پر بہت کوشش کی کہ ان 12 نشتوں کی دفاع کریں ہمارے پاس تحریک آزادی کے حوالے ان نشستوں کو باقی رکھنے کا کوئی جواز نہیں ملا کیوں کہ تحریک آزادی کے لیے ان کا صفر کام ہے۔۔ تحریک کے لیے جو بھی کچھ کرنا ہے وہ کسی اور نے کرنا ہے تو پھر آپ کو وسائل کس لیے دیئے جائیں، آپ کو وزیر کس لیے بنایا جائے 78 برسوں میں آپ لوگوں نے تحریک آزادی کے لیے کیا، کیا کام کئے خود ہی وضاحت کریں تا کہ ہمیں کچھ کہنے لکھنے میں آسانی ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ تحریک کسی جگہ اسپنسرڈ بھی ہے تب بھی یہ تحریک محض چند مطالبات کا ہجوم نہیں رہی، بلکہ ایک اجتماعی شعور کی بیداری ہے، وہ شعور جو دہائیوں سے مصلحتوں کے نیچے دبا ہوا تھا۔ یہ عوامی اٹھان یاد دلاتی ہے کہ ریاستیں بند کمروں میں نہیں، عوام کے دلوں میں بنتی ہیں۔ آزادی کی تحریکیں کسی دوسرے کے حوالے نہیں قومیں خود چلاتی ہیں۔۔ آزاد کشمیر کے عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کے سینوں میں وفاداری کی حرارت، غیرت کی چمک، اور حق کے لیے ڈٹ جانے کا حوصلہ اب بھی زندہ ہے۔ کسی بھی وقت مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ یہ تحریک ختم نہیں ہوئی، بلکہ ایک نئے عہدِ بیداری کا آغاز ہے۔