سونیا حسین ابھی اس قابل نہیں کہ میرا اسکرپٹ کرسکیں

پاکستان کے نامور مصنف خلیل الرحمٰن قمر کی شہرت میں ان کے ڈرامے ‘میرے پاس تم ہو’ کی کامیابی کے بعد اور بھی اضافہ ہوگیا تاہم شہرت کے ساتھ ساتھ ان کے نامناسب بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

یاد رہے کہ ‘میرے پاس تم ہو’ میں ہمایوں سعید نے ‘دانش’، عدنان صدیقی نے ‘شہوار’ اور عائزہ خان نے ‘مہوش’ کا کردار نبھایا تھا اور ان تینوں ہی اداکاروں کی اداکاری کو خوب سراہا گیا۔

کچھ عرصہ قبل اداکارہ سونیا حسین نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ عائزہ خان سے قبل انہیں ‘میرے پاس تم ہو’ میں مہوش کا کردار نبھانے کی آفر دی گئی تھی تاہم انہوں نے اس لیے انکار کیا کیوں کہ انہیں خواتین کے لیے یہ کردار صحیح نہیں لگا۔

مزید پڑھیں: ‘جس ڈرامے میں کام نہیں کیا، اس پر بات کرنا صحیح نہیں’

تحریر جاری ہے‎

حال ہی میں سونیا نے ایک اور انٹرویو میں کہا تھا کہ عائزہ خان نے وہ کردار بخوبہ نبھایا تھا۔

تاہم اب اس ڈرامے کے لکھاری خلیل الرحمٰن قمر نے ایک انٹرویو میں سونیا حسین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی اس قابل نہیں ہوئیں کہ ان کے اسکرپٹ پر بنا ڈراما کرسکیں۔

وسیم بادامی کو دیے ایک انٹرویو میں سونیا حسین کے حوالے سے خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا تھا کہ ‘مسئلہ یہ ہے کہ کسی نے اسکرپٹ آفر کیا اور انہوں نے انکار کردیا، لیکن اسکرپٹ میں نے نہیں، ندیم بیگ اور ہمایوں سعید نے آفر کیا تھا، میں یہ بات یہاں واضح کردوں کہ میرا اسکرپٹ اگر آپ کو آفر بھی کیا جائے اور آپ قبول کربھی لیں تو آپ کام نہیں کرسکتے، اگر وہ کام کرنے کی حامی دے بھی دیتی تو آخری فیصلہ میں ہی لیتا ہوں’۔

خلیل الرحمٰن کے مطابق ‘سونیا حسین ‘مہوش’ کے کردار کے لیے کبھی بھی میرا انتخاب نہیں رہیں، وہ ابھی اس لائق نہیں ہوئیں کہ میرا اسکرپٹ کرسکیں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘سونیا مجھ سے لاہور میں ملی، میں نے سوال کیا کہ کیا تم نے ڈرامے میں کام کرنے سے انکار کردیا، تب انہوں نے یہ کہا تھا کہ ابھی ہمایوں سعید بھی ڈرامے میں کاسٹ نہیں تھے اس لیے میں نے انکار کردیا تھا، اب وہی بہتر جانتی ہیں کہ سچ کیا ہے’۔

خلیل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ‘اگر کوئی ایسی اداکارہ یہ بات کرتی جس نے میرے ساتھ کام کیا تو میں سوچتا بھی لیکن جس کو میں نے آفر ہی نہیں کیا تو اس بات کا کوئی فائدہ نہیں’۔

یاد رہے کہ ‘میرے پاس تم ہو’ میں کام کرنے والی اداکارہ رحمت اجمل نے بھی خلیل الرحمٰن قمر کے نظریات سے خود کو الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘میرے پاس تم ہو’ کا حصہ بن کر مایوسی ہوئی، اداکارہ

رحمت اجمل کا کہنا تھا کہ ‘میں خلیل الرحمٰن قمر کے نظریات سے بالکل اتفاق نہیں کرتی، میں نے خلیل الرحمٰن قمر کا انٹرویو سنا اور ڈرامے کے اختتام سے قبل مجھے ان کے پریشان کن خیالات کا اندازہ ہوا، میں ایسے کسی پروجیکٹ کا حصہ بن کر فخر محسوس نہیں کرتی جس کے لکھاری کے نظریات ایسے ہوں’۔

اس پر جب میزبان نے خلیل الرحمٰن کی رائے پوچھی تو انہوں نے رحمت اجمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اداکاروں نے ڈرامے کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔

ایک موقع پر میزبان نے سوال کیا کہ ‘میرے پاس تم ہو’ کی کامیابی کے بعد یہ تاثر بن گیا کہ خلیل الرحمٰن قمر اور بھی زیادہ مغرور ہوگئے؟

اس پر ان کا کہنا تھا کہ ‘میں قسم کھا کر پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ خلیل الرحمٰن کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن مغرور نہیں ہوسکتا، میں صرف بےایمانی کے خلاف رہا ہوں اور ہمیشہ رہوں گا’۔

ڈرامے میں ہمایوں سعید، عائزہ خان اور عدنان صدیقی نے اہم کردار نبھائے — فوٹو: فائل
خلیل الرحمٰن نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے کچھ دن جیل میں بھی گزارے لیکن وجہ بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ ‘وسیم بادامی آپ کے سوالات سے زیادہ معصوم میں تھا’۔

واضح رہے کہ ‘میرے پاس تم ہو’ کی ہدایات ندیم بیگ نے دی جبکہ حرا مانی، سویرا ندیم، انوشے عباسی، مہر بانو، سید محمد احمد اور رحمت اجمل نے اہم کردار نبھائے۔

اس ڈرامے کی کہانی شادی شدہ جوڑوں کے گرد گھومتی ہے، ڈرامے میں ایک شادی شدہ خاتون کو دوسرے شادی شدہ مرد کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہوئے اور اپنے شوہر سے طلاق حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں