یہ سیدھی سیدھی پاکستان کے ساتھ دشمنی ہے

سینئر تجزیہ کار حامد میر نے سوشل میڈیا قانون کو ڈریکونین قانون قراردے دیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے جو ظلم کا ضابطہ لایا گیا ہے، یہ سیدھی سیدھی پاکستان کے ساتھ دشمنی ہے۔ انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت مظلوم حکومت ہے کہ اس کے نام سے ایک ظلم کا ضابطہ جاری ہوگیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہوچکا ہے، نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد پوچھتے ہیں بھئی کہاں سے آیا ، کس نے جاری کیا؟ اس میں ہمارا کردار یہ ہے کہ ہم نے مظلوم حکومت کو سمجھانا ہے کہ اس ضابطے کے پاکستان کو کیا نقصانات ہیں، ہماری سوسائٹی کو کیا نقصان ہے۔
سب سے بڑا نقصان پاکستان کے امیج کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت کہہ رہی ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی ختم ہوگئی ہے، پی ایس ایل آگئی ہے، بہت زیادہ سرمایہ کاری آرہی ہے، سیاحت بڑھ گئی ہے۔ دوسری طرف آپ پاکستان کا امیج برباد کررہے ہیں، یہ ایک ڈریکونین قانون ہے، جس کے ذریعے پاکستان کا امیج برباد کیا جارہا ہے۔اس طرح کے ڈریکونین لاء کے ذریعے حکومت پاکستان میں سرمایہ کاری لا نہیں رہی بلکہ سرمایہ کاروں کو بھگا رہی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ اینٹی سوشل یا اینٹی میڈیا لاء نہیں ہے بلکہ اس وقت جو معروضی حالات ہیں اس میں یہ اینٹی پاکستان لاء ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا سے متعلق مجوزہ حکومتی قوانین اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیے گئے ہیں۔ جمعہ کو شہری راجہ احسن محمود نے وکیل جہانگیر جدون کے ذریعے درخواست دائر کی۔ دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا قوانین دوہزار بیس کو خلاف آئین قرار دینے کی استدعا کی گئی ۔
درخواست میں سوشل میڈیا قوانین دوہزار بیس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ، درخواست میں استدعا کی گئی کہ حکومت کو فوری طور پر سوشل میڈیا قوانین پر عملدرآمد کرنے سے روکا جائے، ٹویٹر، فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا سائٹس موجودہ دور کی اہم ضرورت ہیں۔ درخواست میں سیکرٹری قانون و انصاف، سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی چیئرمین پی ٹی اے درخواست میں فریق بنایا گیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں