
ون پوائنٹ
نوید نقوی
===========

جب میں بچہ تھا بالی ووڈ فلمیں شوق سے دیکھتا تھا اور بھارت کے بارے میں میرے دماغ میں ہمیشہ یہ خیال آتا تھا کہ کاش میں وہاں جا سکتا اور ایک انصاف سے بھرپور معاشرے کو اپنی آنکھوں سے نہ صرف دیکھ سکوں بلکہ بالی ووڈ کے ہیروز اور ہیروئنوں کو بھی ملوں۔ لیکن جوں جوں میچوریٹی آتی گئی اور بھارتی نیوز چینلز کے علاؤہ وہاں کے اخبارات وغیرہ کا مطالعہ کیا تو جو بالی ووڈ فلموں کے ذریعے امیج بلڈنگ ہوئی تھی، وہ دھڑام سے گر گئی۔ بھارتی سیاستدان ہوں یا صحافی ان کے دلوں میں پاکستان کے متعلق بغض بھرا ہوا ہے اور وہ اس کو چھپاتے بھی نہیں ، میں نے بھارت پر کئی کالم اور تجزیے لکھے ہیں۔ وہاں اب سیکیولر ازم کی جگہ ہندو توا لے چکی ہے۔ میں نے منموہن سنگھ اور نریندر مودی کے دور کو ایک ریسرچر اور صحافی کی نگاہوں سے دیکھنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ مشرقی ہمسایوں کے دلوں میں آر ایس ایس کے نظریے نے پاکستان کے بارے میں نفرت بھر دی ہے اور ان کا تعصب اب ان کو چین سے بیٹھنے نہیں دے گا۔ اب ہم پر فرض ہے کہ ایک خطرناک جنگ کے لیے مکمل تیاری کرنا۔ کشمیر ہم چھوڑیں گے نہیں اور وہ کشمیر سے آگے آنے کے خوابوں میں ہیں، اس لیے ایک مکمل اور شدید جنگ ناگزیر ہے۔ پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشن کے بعد مودی نے جس طرح بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا اور اس واقعے کی آڑ میں حملہ آور ہوا، اس کے عزائم یقیناً بزدلانہ اور ناپاک تھے ، الحمدللہ ہم نے اس کو بتا دیا کہ نہ صرف تیار ہیں بلکہ اس کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ مئی 2025 میں تین روزہ جنگ کے بعد جس طرح مودی اور اس کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ، اب وہ کسی بھی قیمت پر داغ دھونا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انڈین آرمی چیف ہو یا وزیراعظم اشتعال انگیز بیانات دے کر اپنی عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔
گزشتہ چند ماہ میں جنوبی ایشیا کی فضا میں جو کشیدگی دیکھنے میں آئی، اس نے عام شہری کے ذہن میں ایک سادہ مگر خوفناک سوال پیدا کیا ہے، کیا بھارت دوبارہ جنگ شروع کر سکتا ہے؟ مئی 2025 میں دونوں فریقین کے درمیان فوجی محاذ آرائی نے خطے میں سب سے سنگین کشیدگی پیدا کی، جس سے پوری دنیا کو فکر مندی لاحق ہوئی کیونکہ دونوں نہ صرف ایٹمی طاقتیں ہیں بلکہ روایتی ہتھیاروں سے بھی مکمل طور پر لیس ہیں۔ میزائل حملے، فضائی کارروائیاں اور کثیر تعداد میں ایک دوسرے پر ڈرون حملے ، تین دن میں دنیا نے ایک جدید اور منفرد جنگ دیکھی، جس میں پاکستان کو بلاشبہ برتری حاصل ہوئی ، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت اور جنگ رُکنے تک پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی شدت برقرار رہی۔ اگرچہ امریکی صدر کے ٹویٹ کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا، مگر تلخی اور عدم اعتماد ابھی تک برقرار ہے۔ جس کی ایک جھلک ایشیا کرکٹ کپ میں بھی دیکھنے کو ملی جب کھیل میں بھی جنگ اور نفرت دیکھنے کو ملی، یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑا ایشو یقیناً کشمیر ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیاچن ، سر کریک جیسے تنازعات بھی کسی جنگ کا باعث بن سکتے ہیں۔ فتنہ الخوارج اور بی ایل اے جیسی دہشت گرد تنظیموں کو بھارت کھلے عام سپورٹ کر رہا ہے اور گزشتہ جنگ کی سبکی مٹانے کے لیے پہلگام کی طرح کوئی فالس فلیگ آپریشن کر کے اس کا الزام پاکستان پر لگا سکتا ہے۔ الحمدللہ پاکستانی مسلح افواج پوری طرح چوکس ہیں اور دفاع وطن کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مودی اور اس کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے غیر سنجیدہ رویے کو دیکھ کر لگتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں بھارت کوئی مس ایڈونچر کر سکتا ہے۔ پاکستان کو نہ صرف فوجی تیاری کرنی چاہیئے بلکہ عالمی سطح پر مودی کے مکروہ چہرے کو بے نقاب بھی کرنا چاہیئے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان جوہری جنگ کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے اور کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جس کی ذمہ داری یقیناً بھارتی قیادت بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی پر ہوگی۔























