ایک اچھا پروگرام غلط منصوبہ بندی کے سبب ناکام ہوسکتا ہے۔ معاشی ماہرین کی ٹیم عارضی اسکورنگ کی بجائے مستقل بنیادوں پر کامیابی کیلئے کام کرے۔ حبیب جان

کراچی سٹی الائنس کے مرکزی کنوینئر حبیب جان نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے گاؤں گاؤں غریب خاندانوں میں بھینس، بکری اور مرغیوں کی تقسیم کے پروگرام کو کمزور اور نامکمل پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک اچھا پروگرام غلط منصوبہ بندی کے سبب ناکامی کا شکار ہوسکتا ہے۔ حبیب جان نے کہا کہ ہوشربا مہنگائی میں غریبوں کا اپنے خاندان کی کفالت کرنا مشکل نظر آتا ہے ایسے میں بھینس اور بکری کی دیکھ بھال اور چارہ فراہم کرنا مشکل ترین کام ہوگا۔ دوسری طرف گاؤں کے ہر گھر میں بھینس دینے کا مطلب کہ دودھ کی طلب اور رسد میں عدم توازن پیدا کرنا ہے جہاں سب کے گھروں میں بھینسیں ہوں گی وہاں دودھ کا خریدار کہاں سے آئے گا۔ حبیب جان نے حکومتی معاشی ماہرین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈیری، پولٹری اور فشریز کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دیتے ہوئے آسان شرائط پر عام کسانوں اور کم آمدنی والے دیہات کے رہنے والوں کو قرضے دئیے جائیں اور ساتھ ساتھ ہر چھوٹے بڑے گاؤں میں جدید بنیادوں پر دودھ پروسیسنگ پلانٹ، جدید مزبح خانے اور پولٹری فارمز اور مچھلیوں کے پونڈز تعمیر کئے جائیں تاکہ مقامی پیداواری پروڈکٹ کو پروسیسنگ کرکے مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اچھی قیمت پر کھپایا جاسکے۔ حبیب جان نے کہا کہ اس وقت دنیا کی اکثریت حلال فوڈ کی طرف راغب ہوچکی ہیں اور افسوس یہ ہے کہ پاکستان ابھی تک حلال فوڈ کی مارکیٹ کا مجموعی٪2 فیصد بھی برآمد نہیں کر رہا ہے۔ آخر میں حبیب جان نے وزیراعظم سے درخواست کرتے ہوئے کہا حکومت جلد بازی سے اجتناب کرتے ہوئے مکمل ہوم ورکنگ کے بعد منصوبہ جاری کرے۔
جاری کردہ
حبیب جان

اپنا تبصرہ بھیجیں