شہباز کی اونچی اڑان

نواز رضا
05 اکتوبر ، 2025
==============

پاکستان میں رات کی تاریکی ہو تو امریکہ اور یورپ کے بعض ممالک میں دن کا اجا لا ہوتا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں سیشن سے خطاب کرنے کیلئے نیویارک گئے ہوئے تھے انہوں نے جہاںنیویارک میں دو غیر رسمی ملاقاتوں کے بعد واشنگٹن میں وائٹ ہائوس کے ’’اوول آفس‘‘ میں ( امریکی صدر کا سرکاری دفتر ) ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی وہاں انہیں عالمی لیڈروں بالخصوص اسلامی ممالک کے رہنمائوں سے ملاقاتوں کا موقع ملا۔ امریکی صدر سے ’’اوول آفس ‘‘ میں ملاقات کی خواہش بیشتر ممالک کے سربراہان کی خو ا ہش ہوتی ہے اور وہ اس مقصد کیلئے بڑے پاپڑ بیلتے ہیں ۔ اگرچہ وزیر اعظم شہباز شریف کا سرکاری دورہ امریکہ نہیں تھا لیکن وزیر اعظم شہباز شریف کی واشنگٹن میں وائٹ ہائوس آمد پر جس طرح آئو بھگت کی گئی اس سے یہی تاثر ملتا ہے جیسےوزیر اعظم شہباز شریف سرکاری دورے پرہی آئے تھے اور امریکی صدر نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی’’ اوول آفس‘‘ آمد سے کچھ دیر قبل جس اشتیاق کا اظہار کیا وہ غیر معمولی نوعیت کاتھا۔امریکی صدر نے وزیر اعظم اور آرمی چیف سے ملاقات سے قبل اخبار نویسوںسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ فیلڈ مارشل عاصم منیر بہترین شخصیت کے مالک ہیں، وزیر اعظم پاکستان بھی شاندار شخص ہیں دونوں ان سے آج ملاقات کیلئے آرہے ہیں ‘‘۔اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف واشنگٹن ڈی سی ایئرپورٹ پہنچے جہاں ان کا امریکی حکام نے ریڈکارپٹ استقبال کیا۔پاکستان میں پچھلے ایک سال سے مسلسل یہ پراپیگنڈا کیا جا رہا تھا ٹرمپ مسند صدارت سنبھالتے ہی پاکستان ایک ٹیلی فون کریں گے اور اڈیالہ جیل کے دروازے کھل جائیں گے۔ اس مقصد کیلئےامریکہ میں پی ٹی آئی کے مفرور لیڈروں نے امریکی انتظامیہ کو عمران خان کی رہائی کیلئے اپنا کر دار ادا کرنےکیلئے ہر ممکن دبائو ڈالا، لابیسٹ کے ذریعے ہر فورم کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن امریکہ سے عمران خان کی رہائی کیلئے کوئی سندیسہ آیا اور نہ ہی ٹرمپ کو یاد آیا ان کاکوئی دوست جیل میں ہے ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی کی قیادت نے امریکہ سے جو آخری امید قائم کر رکھی تھی وہ دم توڑ گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان میں کسی خاص شخصیت کی رہائی اور اقتدار سے کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی بلکہ انکے پیش نظر قومی مفادا ت ہیں جنکی تکمیل کیلئے وہ دوسرے ممالک سے تعلقات استوار کرتےہیں۔ جی ایچ کیو اور پینٹا گان کے درمیان دوستی کا مطلب یہ کہ دونوں ملکوں کی عسکری قیادت خطے کے حوالے سے معاملات پر یکساں سوچ رکھتی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ امریکی حکام بلاوجہ کسی کو’’ اوول آفس‘‘ میں لنچ نہیں کراتےوہ یہ سب کچھ اپنے قومی مفادات کے پیش نظر کرتے ہیں جن کی تکمیل کیلئے اس ملک کی قیادت سے تعاون کا تقاضا کرتے ہیں ۔ امریکی صدر سے وزیر اعظم شہباز شریف کیـ’’اوول آفس‘‘ میں پہلی باضابطہ ملاقات پر پاکستان میں خوشی کے شادیانے اس لئےبجائے جا رہے ہیں کہ ٹرمپ نے نہ صرف وزیر اعظم اور آرمی چیف کو عظیم لیڈر قرار دیابلکہ شہباز شریف کی’’ اوول آفس‘‘میں ملاقات سے ان کی حکومت کو سند قبولیت مل گئی ہے شہباز شریف کی حکومت کو امریکیوں کی نظر میں گرانے کی پی ٹی آئی اسپانسرڈ مہم دم توڑ گئی ہے ۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ نواز شریف بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ لیڈر ہیں شہباز شریف کو ان کا مقام حاصل کرنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن بین الاقوامی فورمز پر شہباز شریف کے لچکدار طرز عمل کو جو پذیرائی مل رہی ہے اس سےان کی اڑان اونچی ہو گئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تو آرمی چیف فیلڈ مار شل عاصم منیر سے بہت متاثر دکھائی دیتے ہیں انہوں نےامریکی فوجی جنرلزسے خطاب کے دوران فیلڈمارشل عاصم منیر کی خوب تعریف کی اور دعویٰ کیا کہ ’’ میں نے سات جنگیں ختم کرائیں، کل ایک جنگ کا تصفیہ بھی کیا ہے، ان جنگوں میں پاکستان اور بھارت کی جنگ بڑی تھی جوایٹمی جنگ ہو سکتی تھی، بھارت پاکستان جنگ میں 7 طیارے گرائے گئے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنگ روکنے پر شکریہ ادا کرنے کیلئے مدعو کیا گیاتھا،پاکستانی فیلڈ مارشل نے کہا کہ ’’ ٹرمپ نے جنگ رکوا کر لاکھوں جانیں بچائیں، جنگ ہو جاتی تو بہت زیادہ برا ہوتا‘‘۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ تبصرہ مجھے بہت اچھا لگا، فیلڈ مارشل کی تعریف کومیں نے اپنے لئے اعزاز محسوس کیا، فیلڈ مارشل نے یہ سب ہمارے ساتھ موجود لوگوں سے کہا جن میں 2 جنرلز بھی موجودتھے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کو ’’امن کا علمبردار‘‘ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر میں تنازعات کے خاتمےکیلئے ان کی کوششوں کو سراہا ۔ شہبازشریف نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان طویل المدت شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں دونوں ممالک کے باہمی مفاد میں پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہماری بہادر مسلح افواج نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں بے مثال پیشہ ورانہ صلاحیت، بہادری اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے ، ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو کی قیادت میں ہمارے شاہینوں نے فضائوں میں دشمن کے حملے کو پسپا کرتے ہوئے سات بھارتی طیاروں کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا‘ ہم طاقت میں ہونے کے باوجود جنگ بندی پر آمادہ ہوئے جو صدر ٹرمپ کی جراتمند اور بصیرت افروز قیادت سے ممکن ہوئی‘‘۔ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان اور آرمی چیف کی ملاقات نے امریکی صدر کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے ’’اوول آفس‘‘ میں ہونے والی ملاقات کے بعد کوئی پریس کانفرنس کی گئی اور نہ ہی کوئی اعلامیہ جاری ہوا ۔قابل ذکر بات یہ ہے پاکستان کی طرف آرمی چیف کے سوا کوئی مذاکرات میں شریک نہ تھا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی معاونت امریکی نائب صدر اور وزیر خارجہ کر رہے تھے لیکن سوا گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات کی کچھ باتیں منظر عام پر آنا شروع ہو گئی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ پاکستان نے دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ انکےغزہ کے تنازع کے حل کیلئے 20نکاتی منصوبےکی حمایت کی ہے،اس منصوبے پر شہباز شریف کو پاکستان کے عوام کی تائید حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی کیونکہ پاکستانی عوام کو مسئلہ فلسطین سے جذباتی وابستگی ہے۔ امریکی صدر کے20 نکاتی غزہ منصوبہ کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔ پاکستان نے امریکہ کو معدنیات کی دریافت میں دلچسپی لینے پر آمادہ کیا ہے سر دست یہ پیشکش ابتدائی نوعیت کی ہے لیکن اگر واقعی امریکی کمپنیاں معدنیات کی دریافت کیلئے پاکستان آئیں تو قوم پرستوں کی جانب سے شدید مخالفت کاسامنا کرنا پڑے گا ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں سیشن میں شہباز شریف کی سب سے زیادہ دیکھی اور سنی جانے والی تقریر بھی ایک ریکارڈ ہے ۔
https://e.jang.com.pk/detail/968123

وزیراعظم کا یو این میں خطاب
محمد نوید نواز
05 اکتوبر ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
نیو یارک میں دیگر مسلمان ممالک کے لیڈرز کے ساتھ اور اگلے روز واشنگٹن میں علیحدہ ا پنے coas کو ساتھ لے کر شہباز شریف کی ٹرمپ سے ملاقات بہت اہمیت کی حامل ہے۔ لیکن تفصیلی گفتگو کیا ہوئی اس کے بارے محدود اطلاعات ہیں۔ ہمارے تجزیے کے مطابق پہلی گروپ میٹنگ میںمین ٹاپک غزہ ہی رہا ہو گا۔ دوسری ملاقات میں غزہ اور مقبوضہ کشمیر موضوعات گفتگو ہوں گے۔ یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ صدر ٹرمپ جو کچھ بھی کر رہےہیں۔ اس کے مقاصد صرف 2ہیں پہلا غزہ کی زمین کا ٹکڑا حاصل کرنا، دوسرا فلسطینیوں کے ساتھ اس ناجائز سلوک کے باوجود نوبل پرائز کی کمپین چلائے رکھنا۔ واضح رہے کہ اسرائیل ہر روز تقریباً 100فلسطینی غزہ میں شہید کر رہا ہے۔ اسی طرح وزیر اعظم شہباز شریف کے ذہن میں 2مقاصد ہوں گے۔ پہلا غزہ کو بچانے کے لیے امریکہ کو کچھ کرنے پر آمادہ کرنا اور دوسرا انڈیا کی طرف سے پاکستان پر حملے کی بجائے انڈیا سے مقبوضہ کشمیر کو حقوق دلوانا۔ پاکستان کی خوش نصیبی ہے کہ دو باتیں same وقت موجود ہیں۔ پہلی چیز صدر ٹرمپ کا نوبل پرائز حاصل کرنے کا شوق اور دوسری چیز پاک انڈیا جنگ رکوانے میں ٹرمپ کا کردار قبول کرنے سے انڈیا کا انکار۔ ہم جنگ رکوانے پر جتنا شکریہ ادا کریں گے انڈیا اتنا ہی ٹرمپ کے کسی قسم کے کردار سے انکاری ہوگا۔ نتیجتاً ٹرمپ کے دل میں ہمارے لیے اچھے جذبات جبکہ انڈیا کے لیے منفی جذبات پیدا ہوتے جائیں گے۔
بروز جمعہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں دیگر کے علاوہ 4ایشوز کو بہت خوبصورتی سے اجاگر کیا۔ پاک بھارت ٹینشن، غزہ، پاک افغانستان مسائل اور موسمیاتی تبدیلی۔ اس حوالے سے ان کی یہ بہترین تقریر تھی کیونکہ ماضی میں اس طرح کی تقاریر میں وہ جھنجھلائے ہوئے لگتے تھے۔ اس دفعہ باڈی لینگویج بھی بہت مناسب تھی۔ یقیناً یہ ایک well-rehearsed تقریر تھی۔ ان ٹیکنیکل حوالوں سے ان کے سیاسی کیریئر کی یہ نمبر ون تقریر قرار دی جا سکتی ہے۔ شہباز شریف نے پہلگام واقعہ کی غیر جانب دار تحقیق کا ذکر کر کے ایک بار پھر گیند انڈیا کی کورٹ میں پھینک دی ہے۔ ان کا لب و لہجہ اور ادائیگی بالکل سو فیصدیہ تاثر دے رہی تھی کہ وہ حقیقت بیان کر رہے ہیں اور پاکستان کا کیس سچائی پر مبنی ہے۔ اسی طرح انہوں نے کشمیر کا کیس بھی بڑی خوبصورتی سے پیش کیا کہ self determination کشمیریوں کا حق ہے۔ سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے انڈیا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انڈیا کے ساتھ ہر معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہونےکا کہہ کر ڈپلومیسی کے حوالے سے شہباز نے اپنا اپر ہینڈ قائم کر لیا۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستانی افواج اور صدر ٹرمپ کی خوب تعریف کی۔ ان کی تقریر کا نقطہ عروج یہ تھا ’’جنگ جیت چکے ہیں، امن جیتنے کے خواہاں ہیں‘‘۔ فلسطین کے حوالے سے شہباز شریف نے خوب کہا کہ اسرائیل کو 1967 سے پہلے والے بارڈرز قبول کرنا ہونگے۔1988ء میں پاکستان فلسطینی ریاست کو recognize کرنیوالا پہلا ملک تھا اور اب بھی ہم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس طرح کی سچی باتیں دہرا کر شہبازشریف نے فلسطینیوں، پاکستانی عوام اور ایرانی بھائیوں کے دل میں مزید جگہ بنا لی ہے۔
انہوں نے مغربی جمہوریتوں کو پسند آنے والی بات بڑے واضح طریقے سے کہہ دی کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے۔ ساتھ ہی افغانستان کی طرف سے پاکستان کو تکلیفیں پہنچنے کا ذکر کر دیا اور ttp اور مجید بریگیڈ وغیرہ کو بڑی خوبصورتی سے بے نقاب کیا اور جائز طور پر اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی حکومت اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ اسرائیل کے حوالے سے انہوں نے اس بین الاقوامی پلیٹ فارم سے بہت بڑی بات کہہ دی کہ فلسطین کو آزاد ہونا چاہیے۔ اس سے قبل پاکستان کی پالیسی رہی ہے کہ 2ریاستی حل پر عمل کیا جائے۔ مگر اس دفعہ وزیر اعظم پاکستان نے پورے فلسطین کی آزادی کی بات کر دی ہے اور کہا کہ اسرائیل نے بے شرمی سے غزہ کے معصوموں کے خلاف کمپین چلا رکھی ہے۔ شہباز شریف نے غزہ میں جنگ بندی پر زور دیا البتہ میرا نظریہ یہ ہے کہ جنگ تو دو طرفہ ہوتی ہے۔ موجودہ صورت حال میں اسرائیل کی مسلح افواج نہتے اور بے یار و مددگار فلسطینیوں کے خلاف یکطرفہ قتلِ عام کر رہی ہیں۔ اس لیے اسے جنگ کی بجائے نسل کشی قرار دیا جانا چاہیے۔ میرے علم کے مطابق بین الاقوامی لیول پر ایک اور تجویز گردش کر رہی ہے کہ غزہ میں the gaza international transitional authority قائم کر کے سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو اس کا سربراہ بنایا جائے۔ ایسی صورت میں فلسطینیوں کی آزادی کا کیا بنے گا؟
شہباز شریف نے بجا کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان کو بڑے نقصان کا سامنا ہے۔ اس وجہ سے لیے گئے قرضے ہماری معیشت کے لیے تباہ کن ہیں۔ ماحولیاتی بحران کا سامنا ساری دنیا مل کر کر سکتی ہے۔ تمام ممالک تعاون کریں۔ وزیر اعظم پرامید نظر آئے کہ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں پاک امریکہ تعلقات زیادہ مستحکم ہوں گے اور ٹرمپ کو امن کا داعی قرار دیا۔ اگرچہ ایسا کہنا پاکستان کی سفارتکاری ہے۔ تاہم ہم وزیر اعظم کویاد دلائے دیتے ہیں کہ کچھ پتہ نہیں کب ٹرمپ کا موڈ تبدیل ہو جائے اور وہ کسی اور کی طرف رخ کر لیں۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ امریکی اندرونی ملکی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں صدر ٹرمپ دوست تبدیل کرنے میں دیر نہیں کرتے۔ تاہم پاکستان کو عظیم ملک بنانے کا شہباز شریف کا عزم ہم سب کو بہت اچھا لگا۔