نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکہ میں اپنی رسوائی کا بدلہ قومی اسمبلی میں لے لیا ، وزیراعظم شہباز شریف کی خفیہ فائلیں شمع جونیجو تک کیسے پہنچیں؟

پاکستان کے سینیئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار عبداللہ طارق سہیل نے اپنے وی لاگ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھا دیے ہیں اور لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ امریکی صدر سے ہونے والی ملاقات میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار شامل کیوں نہیں تھے کیا ان کا نام لسٹ میں شامل کرنے کے بعد نکالا گیا اور اگر ایسا ہوا تو لسٹ سے یہ نام کس نے نکالا ؟ کیا شمع جونیجو کا حکم تھا ؟ وہ طاقتور شخصیت کون تھی جس نے اسحاق ڈار کو امریکی صدر سے ملاقات سے روک دیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو تو اپ وفد کے ارکان کے جو نام بھی بھیجتے انہوں نے انہیں ویلکم کرنا تھا لیکن عین وقت پر اسحاق ڈار کا نام شامل نہیں تھا تو ان کی کافی رسوائی ہوئی اور
اس کا بدلہ انہوں نے قومی اسمبلی میں لے لیا ہے جہاں انہوں نے تقریر کے دوران کہہ دیا کہ بجلی کے کھمبے بھی لگے ہوئے ہیں لیکن لوگوں کی نظریں شمع پر جا رہی ہیں اور انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ جو 20 نکاتی تفصیلات ٹرمپ نے پیش کی ہیں یہ وہ نہیں ہیں جو ہمیں دکھائی گئی تھیں اس میں ہماری تجاویز شامل نہیں ہے یعنی اسحاق ڈار نے سارا وزن سارا بوجھ وزیراعظم پر ڈال دیا جنہوں نے فوری طور پر صدر ٹرمپ کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا تھا سینیر تجزیہ کار عبداللہ طارق سہیل نے اپنے پروگرام میں کافی سوالات اٹھائے ہیں اور پروگرام میں پاکستان کی سیاسی صورتحال اور عالمی حالات پر تفصیلی تبصرہ اور تجزیہ کیا ہے جسے اپ ان کی ویڈیو میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں























