عوام کس طرح وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے حالیہ بیانات پر یقین کریں

عوام کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ کس طرح وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے حالیہ بیانات پر یقین کریں، حقیقت یہ ہے کہ ان کے اور ان کی کابینہ کے اراکین کے تمام بیانات جن میں عوام کو ریلیف دینے کے وعدے کیے گئے تھے، ان تمام دعوئوں اور بیانات کی ضد ہیں جو وہ انتخابات سے قبل یا وزیراعظم بننے تک دیتے رہے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ حکومتی سطح پر آج ملک کے ہر شعبے کا سفر پستی کی جانب ہے۔

اگر یہی صورت برقرار رہی تو اس کے نتائج وہ نکلیں گے جو پاکستان کی تاریخ میں اب تک کسی عوامی احتجاج کے نہیں نکلے ہیں۔ عمران خان اپنی سالانہ چھٹیاں ایک بار اور لیں اور تعطیل کے ان دنوں میں صرف اپنی حکومتی کارکردگی پر غور کریں اور دیکھیں کہ انہوں نے اب تک عوام سے کتنے جھوٹ بولے ہیں اور کتنے جھوٹے دعوے کیے ہیں۔

دعوئوں کی ناکامی کے ذمہ دار کون ہیں؟ اس کے بعد وہ دوبارہ میدان میں اتریں۔ عوام کا پیمانۂ صبر لبریز ہو چکا ہے، صرف چھلکنے کی دیر ہے۔ اس مہلت سے فائدہ اٹھائیں، بھوکے ننگے عوام کو اس لالی پاپ سے نہیں بہلایا جا سکتا کہ میری تنخواہ دیگر ملکوں کے وزرائے اعظم سے کم ہے۔

یہ کہنا ریاستِ مدینہ کے قیام کے دعوے کرنے والے کو زیب نہیں دیتا چونکہ ریاستِ مدینہ میں خلیفہ کی گزر اوقات کا پیمانہ وہی تھا جو مدینہ کے کسی بھی عام آدمی کا تھا۔ صورتحال یہ ہے کہ ملک کی معیشت تنکے کے سہارے چل رہی ہے، آپ چاہے اعتراف نہ کریں، عالمی ادارے کر رہے ہیں۔

ہر بات کا جواز یہ نہیں ہو سکتا کہ گزشتہ حکومتوں نے ایسا کیا اور ویسا کیا، گزشتہ حکومتوں میں عوام کو ایسی مہنگائی کے طوفان کا سامنا ہرگز نہیں کرنا پڑا جس کا وہ آج کر رہے ہیں۔

آپ بیرونی قرضے گزشتہ حکومتوں سے زیادہ لے چکے ہیں۔ عوام کو جی بھر کے نت نئے ٹیکس لگا کر اور ٹیکسوں میں اضافہ کرکے نچوڑ لیا ہے، آپ کی کابینہ میں بھی 10پرسنٹ اور 50پرسنٹ موجود ہیں، آٹے، چینی کا بحران اس کی بہترین مثال ہے۔

آپ کی غلط پالیسیوں کے باعث ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ بےروزگار ہو چکے ہیں، آپ دعوے کرتے رہے ہیں کہ ہم ایک کروڑ افراد کو روزگار دیں گے، آپ 22لاکھ کو بےروزگار کر چکے ہیں، آپ یہ بھی کہتے ہیں کہ عوام نوکریوں کے لئے حکومت سے توقعات نہ رکھیں، سوال یہ ہے کہ پھر کس سے رکھیں، آپ بجلی، گیس، پیٹرول کے بلوں پر انہی عوام سے ٹیکس لیتے ہیں، آپ انہیں دے کیا رہے ہیں۔

آپ کی معاشی پالیسیوں کے باعث پرائیویٹ سیکٹر برباد ہو رہا ہے، فیکٹریاں اور ملز بند ہو رہی ہیں، آپ عوام کے ریلیف حاصل کرنے کا ہر دروازہ بند کر رہے ہیں، پیٹرول مصنوعات آپ کے قابو میں نہیں، ڈالر آپ کی دسترس میں نہیں، آپ کے اراکین پارلیمنٹ آپ کے قابو میں ہیں؟ دوسری حکومتوں اور آپ کی حکومت میں کیا فرق ہے؟ براہِ مہربانی مسٹر وزیراعظم!

ذرا اپنی کارکردگی پر غور کریں، آپ تو بین الاقوامی سطح پر وعدوں سے بھی انحراف کر لیتے ہیں جیسا کہ آپ نے کوالالمپور کانفرنس میں کیا؟ آپ کے وہ دوست جن پر آپ کا تکیہ ہے، کس طرح کا سلوک پاکستانیوں سے کر رہے ہیں۔ اب جبکہ یہ خبر راز نہیں رہی کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے، زرمبادلہ جو پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے، ذرا اس میں کمی کا اندازہ کریں۔

آپ نے سفارتی سطح پر کوئی کوشش نہیں کی، جبکہ اس جانب آپ کو فوری توجہ دینا چاہئے تھی۔ کئی ماہ سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ آپ نے اس سلسلے میں بھی لیپاپوتی سے کام لیا، جواز یہ بتایا کہ یہ غیر قانونی طور پر وہاں رہ رہے تھے، کیا بھارت، بنگلا دیش یا دوسرے کسی ملک کے ساتھ یہ رویہ کسی غیر ملک میں روا رکھا گیا؟ اگر نہیں تو پھر پاکستان کے ساتھ کیوں؟ یہ آپ کی ناکامی ہے۔

پاکستان کی مغربی و مشرقی سرحدوں کی صورت حال آپ کے سامنے ہے، افواج پاکستان نے عوام کی پریشانیوں کا اندازہ کرتے ہوئے از خود اپنے بجٹ میں کمی کر لی، بھارت جو جی چاہتا ہے، کر رہا ہے، کوئی ملک آپ کے ساتھ نہیں کھڑا، آپ کی اپیلیں اور فریادیں بھی کوئی نہیں سن رہا، جو 3اسلامی مضبوط ممالک کشمیر کے ایشو پر آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے، انہیں آپ نے کم حیثیت کیا، بھارت نے 8ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ کیا، مضبوط دفاع ملک کی اولین ترجیح ہے، کیا حکومت اس طرح چل سکتی ہے کہ نہ عوام خوش ہوں اور نہ ملک کا دفاع مضبوط ہو، ملک کی دفاعی قوت میں اضافہ صرف بیانات سے نہیں ہو سکتا۔

وزیراعظم صاحب کیا آپ کو معلوم ہے کہ پاکستان کا درآمد کردہ نمک، بھارت دنیا بھر میں فروخت کر رہا ہے۔ یہ بہترین نمک ہے، اگر نہیں معلوم تو تحقیقات کرائیں اور ایک دشمن ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے والوں کو سامنے لائیں اور ملک سے دشمنی کی سزا دیں۔

یوں تو حکومت کے ابھی 3سال باقی ہیں لیکن اگر ملک کی معاشی صورت حال اسی طرح رہی تو یہ مدت 3ہفتے بھی ہو سکتی ہے، وقت بہت کم ہے، فوری اقدامات ضروری ہیں۔ امید ہے وزیراعظم حزبِ اختلاف کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے ساتھ مل بیٹھ کر ملک کی معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے ان کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔
Zia-Abbas-Jang

اپنا تبصرہ بھیجیں