کورونا وائرس کا خدشہ، پاکستانی زائرین کے ایران جانے پر پابندی

پاکستان نے ایران میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد زائرین کے ہمسایہ ملک جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
متعلقہ حکام کو زمینی اور ہوائی راستے سے ایران جانے والوں کو روکنے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عام شہریوں پر بھی سفری پابندی عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان حکومت نے ایران سے ملحقہ اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ہمسایہ ملک میں موجود پاکستانی باشندوں کی وطن واپسی پر سکریننگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔
بلوچستان حکومت نے ایرانی سرحد کے قریب تفتان میں ایمرجنسی سنٹر قائم کر دیا ہے جبکہ 100 خیموں پر مشتمل خصوصی ہسپتال قائم کرنے کے لیے سامان اور ڈاکٹروں کی ٹیم روانہ کر دی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ و قبائلی امور بلوچستان کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ ایران میں کورونا وائرس پھیلنے اور ہلاکتیں رپورٹ ہونے کے بعد وائرس کی پاکستان منتقلی کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
ان کے مطابق فوری طور پر پاکستان سے زائرین کے ایران جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ تفتان میں موجود ان زائرین کو بھی واپس کوئٹہ لایا جا رہا ہے جو ایران جانے کے لیے یہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کی 900 کلومیٹر سے زائد لمبی سرحد لگتی ہے۔ دونوں ممالک کی سرحد پر روزانہ ہزاروں افراد ایک سے دوسرے ملک جاتے ہیں۔
پاکستان بھر سے ہر مہینے چار سے پانچ ہزار زائرین بلوچستان کے راستے ایران میں مختلف مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ہزاروں افراد مزدوری اور کاروبار کرنے جبکہ سرحدی اضلاع کے مکین اپنے رشتے داروں سے ملنے ایران آتے جاتے ہیں۔

محکمہ داخلہ کے ایک عہدیدار نے اردو نیوز کو بتایا کہ زائرین کو زمینی راستے کے علاوہ ہوائی راستے سے بھی ایران جانے سے منع کر دیا گیا ہے۔کوئٹہ، مستونگ، نوشکی اور چاغی کی انتظامیہ کو انفرادی طور پر ایران جانے والے زائرین کو روکنے کے لیے خصوصی چیک پوسٹیں قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
کمشنر کوئٹہ کی جانب سے ان اضلاع کی انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور اگر زائرین کی آمدو رفت دیکھی گئی تو اس سلسلے میں متعلقہ ضلعے کا ڈپٹی کمشنر، ضلعی پولیس کا سربراہ اور اسسٹنٹ کمشنر ذمہ دار ہوں گے۔
حکام کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے ہمسایہ ملک میں مہلک وائرس پھیلنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر اتوار کی صبح اسلام آباد میں ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں مزید اہم فیصلے کیے جائیں گے۔
بلوچستان شیعہ کانفرنس کے نائب صدر سید مسرت حسین آغا نے اردو نیوز کو ٹیلیفون پر بتایا کہ محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے مہینے میں صرف دو مرتبہ زائرین کو قافلے کی صورت میں ایران جانے کا اجازت نامہ ملتا ہے۔ قافلے میں 35 سے 40 بسیں شامل ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق اس وقت بھی 38 بسوں میں تقریباً 19 سو زائرین ایران گئے ہیں۔

زائرین تہران، عراق کی سرحد کے قریب واقع قم شہر اور مشہد میں مقدس مقامات کی زیارت کرتے ہیں۔
مسرت حسین آغا کے مطابق تہران اور قم شہر میں کورونا وائرس پھیلا ہے اس لیے زائرین کی وہاں آمدو رفت خطرے سے خالی نہیں۔ ’اگر پاکستانی حکومت اس سلسلے میں کوئی پابندی لگاتی ہے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘
دوسری جانب بلوچستان حکومت نے ایران سے منسلک سرحدی علاقوں میں طبی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے کورونا وائرس کی روک تھام کے اقدامات اور احتیاطی تدابیر کا آغاز کر دیا ہے۔
تفتان سرحد پر تعینات ایف آئی اے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ سرحد پر ہر روز تقریباً چار سو سے پانچ سو پاکستانی اور ایرانی باشندوں ایک سے دوسرے ملک آتے جاتے ہیں۔؎
ان کے بقول محکمہ صحت کی ٹیمیں ایران سے آنے والے تمام افراد کی سکریننگ کر رہی ہیں۔
محکمہ صحت بلوچستان کے ایک اعلامیے کے مطابق کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کنٹرول روم فعال اور تفتان میں ایمرجنسی سنٹر قائم کر دیا گیا ہے۔

محکمے کے مطابق تفتان سرحد پر پہلے سے دو ڈاکٹر تعینات ہیں جبکہ مزید سات ڈاکٹر آٹھ تھرمل گن کے ساتھ تفتان پہنچ گئے ہیں جبکہ ایران کے ساتھ آمدو رفت کے دیگر پانچ راستوں پر بھی مکمل احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
مزید یہ کہ اسلام آباد سے قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کی ٹیمیں بھی تفتان پہنچ رہی ہیں جو طبی عملے کو تربیت بھی دیں گی۔
محکمہ صحت کی جانب سے جنوری 2020 سے اب تک واپس آنے والے زائرین سے کہا گیا ہے کہ وہ کھانسی اور بخار کی صورت میں فوری طور پر قریبی ہسپتال میں اپنا طبی معائنہ کرائیں۔
ڈی جی پروینشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان عمران زرکون کے مطابق پی ڈی ایم اے کی معاونت سے محکمہ صحت تفتان میں 100 بیڈ پر مشتمل خیمہ ہسپتال اور موبائل دفتر قائم کیا جارہا ہے جس کے لیے خیمے، ہیوی ڈیوٹی جنریٹرز، واٹر سپلائی سسٹم، 10 ہزار ماسک، دو موبائل یونٹس، چار موبائل کنٹینرز، ڈاکٹروں کی ٹیمیں اور 10 ایمبولنسز تفتان روانہ کر دی گئی ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان اور وفاقی مشیر صحت ڈاکٹر ظفر اللہ سے ٹیلیفون رابطہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ جام کمال نے اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ وہ صوبے میں کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے تمام اقدامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
چیف سیکرٹری بلوچستان کے دفتر سے جاری ایک سرکلر میں تمام متعلقہ محکموں کو مستعد رہنے اور وائرس کی پاکستان منتقلی روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

سرکلر میں محکمہ داخلہ و قبائلی امور بلوچستان کو زائرین کو ایران جانے سے روکنے کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس سلسلے میں باقی صوبوں کی انتظامیہ سے بھی رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے کہ تاکہ زائرین کی بلوچستان آمد کو روکا جا سکے۔
سرکلر میں محکمہ صحت کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایران سے آنے والے افراد کو سکریننگ کے بغیر ملک میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔ زمینی اور ہوائی راستے سے ایران سے پاکستان میں داخل ہونے والے تمام افراد کا مکمل ریکارڈ رکھنے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس میں ان کے نام، پتہ، روانگی اور آمد کی تاریخ کے ساتھ ایران میں جن مقامات کا دورہ کیا، اس کی تفصیلات شامل ہوں گی۔
واضح رہے کہ ایران میں اب تک پانچ افراد کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ متعدد افراد اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔

زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ

اپنا تبصرہ بھیجیں