ناصر بٹ پر 24 برس پرانا قتل کا مقدمہ کھل گیا

پاکستان مسلم لیگ ن لندن کے رہنما اور جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کے مدعی ناصر بٹ کے خلاف 24 سال پران قتل کیس ری اوپن کر دیا گیا ہے۔ راولپنڈی کی مقامی عدالت میں 27 فروری کو سماعت ہو گی۔

ناصر بٹ کے خلاف قتل کیس کی ابتدائی سماعت ماڈل کورٹ کے جج راجہ شاہد ضمیر نے کی۔ سماعت کے دوران فاضل عدالت تھانہ صادق اباد کے ایس ایچ او کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 27 فروری کو ریکارڈسمیت عدالت طلب کرلیا۔

راولپنڈی سے صحافی یاسر حکیم کے مطابق فاضل جج نے پراسیکیوشن برانچ اور ریکارڈ روم سےبھی مقدمہ کی فائلیں آئندہ سماعت پر طلب کیں۔

ملزم ناصر بٹ کے خلاف قتل کیس اکتوبر 1996 میں تھانہ صادق اباد میں درج کیا گیا تھا، جس کے مدعی اسرارالحق ملک ایڈووکیٹ ہیں۔

ناصر بٹ پر الزام ہے کہ اس نے فائرنگ کرکے دو سگے بھائیوں بیرسٹر انوار الحق، اکرام الحق اور انکے ملازم گلفراز عباسی کو قتل کیا تھا، مدعی مقدمہ کے مطابق ملزم ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بیرون ملک چلا گیا تھا۔

مدعی کے مطابق گزشتہ دور حکومت میں ملزم کو تفتیش میں بے گناہ ثابت کیا گیا تاہم چالان اب عدالت پیش کیا گیا، اسرار ملک ایڈووکیٹ کے مطابق ملزم کے خلاف پرائیویٹ استغاثہ بھی زیر سماعت ہے ملزم اس میں بھی عدالت پیش نہیں ہوا۔
Pakistan24.tv-report

nasir butt along with ex pm nawaz sharif

اپنا تبصرہ بھیجیں