طاہرہ سید۔ ادھورے پن کا لفظ ان کی ڈکشنری میں نہیں

سہیل دانش ا
یہ 1984کی بات ہے پاکستان اور بھارت کے مابین لاہور میں ٹیسٹ کی کوریج کے سلسلے میں وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ بہت ہی ہر دلعزیز ساتھی اسد جعفری اس دورے میں ہم سفر تھے اس زمانے میں وہ اخبار جہاں کے لئے میڈم نورجہاں کی سوانح لکھ رہے تھے میڈم اس وقت لبرٹی چوک کے سامنے اپنے وسیع و عریض بنگلے میں رہا کرتی تھیں جو آج کل ایک کمرشل پلازہ میں تبدیل ہو چکا ہے پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کا قیام آواری ہوٹل میں تھا جہاں ہم نے بھارت کے کپتان سنیل گواسکر اور ان کی اہلیہ مارشیل گواسکر کے علاوہ متعدد بھارتی کھلاڑیوں کے بڑے تفصیلی اور دلچسپ انٹرویز کئے اس وقت آج کی طرح دونوں روایتی حریفوں میں محاذ آرائی کی کیفیت نہ تھی۔ اس دورے کے دوران جنگ لاہور میں ہماری ساتھی رپورٹر زرین صاحبہ نے ہمیں ملکہ پکھراج سے ملنے کا موقع فراہم کیا۔ کلاسیکی موسیقی کی مایہ ناز گلوکارہ سے زریں کے دیرینہ تعلقات تھے اس دور میں ملکہ پکھراج کی گائیکی کا ڈنکا بج رہا تھا یہ ایک یادگار ملاقات تھی وہ ایک متمول انتہائی نفیس اور بڑی رکھ رکھاﺅ والی خاتون تھیں وہ اپنے فن کی استاد تھیں۔وہاں پر پہلی بار ان کی صاحبزادی طاہرہ سید سے بھی ملاقات کا موقع ملا بہت پرتکلف ڈنر کی میز پر مختلف قسم کی ڈشز کی طرح بہت سی باتیں ہوئیں۔

طاہرہ سید ایک پرکشش اور دلنشین شخصیت کی مالک تھیں اور ان کے شوہر نعیم بخاری جو اپنی توانا پرسنیلٹی کی طرح ہر دم حاضر جوابی اور سب کو محظوظ کرنے والی گفتگو میں لاجواب تھے یوں سمجھ لیں کہ اگر طاہرہ سید ہیر تھیں اور نعیم بخاری بھی کسی رانجھا سے کم نہ تھے۔ نعیم بخاری کی پیدائش لاہور کے سید گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد الطاف حسین بخاری ڈاکٹر تھے۔ ان سے پہلے اس گھرانے کی وجہ شہرت ان کے بڑے بھائی نسیم الطاف بخاری رہے جو مشہور کرکٹر تھے۔نعیم بخاری نے کہا تھا کہ ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ ڈاکٹر بنیں لیکن وہ نہیں بنے۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ فوج میں جائیں لیکن فوج نے انھیں مسترد کر دیا تھا۔’بی اے کیا تو والد کا خیال تھا کہ ماسٹرز کر کے سی ایس ایس کا امتحان دوں۔‘ مگر انھوں نے وہ بھی نہیں کیا۔’جب میں نے لا (قانون کی تعلیم) کر لیا، میری وکالت نہیں چلتی تھی تو میں نے سوچا میں ایکٹر بن جاو¿ں اور میں چھ مہینے ایور نیو سٹوڈیو کے گیٹ پر کھڑا رہا جب تک میں ایس ایم ظفر کے ساتھ نہیں لگا۔ میں مسلسل والد کو مایوس کرتا رہا۔
چار دہائیوں سے زیادہ وقت گزر گیا اس فیملی کے ساتھ متعدد ملاقاتیں رہیں ہمیشہ اپنے سروں اور انوکھی آواز کے ساتھ یادیں بکھیرنے والی ملکہ پکھراج اب اس دنیا میں نہیں ہیں ان کے بڑے داماد اور ملک کے نامور قانون دان ایس ایم ظفر سے اپنے لاہور میں قیام کے دوران میری کئی ملاقاتیں رہیں۔وہ ایک انتہائی ذہین اور شریف النفس شخصیت کے مالک تھے قانون اور اپنی یادداشتوں کے حوالے سے ان کی کئی تصنیفات بھی ہیں یہ عجیب اتفاق ہے کہ یہ ایس ایم ظفر کا دفتر ہی تھا جہاں آج سے 50سال قبل طاہرہ سید اور نعیم بخاری نے انڈر سٹینڈنگ چاہت محبت اور شادی تک کا سفر طے کیا تھا۔ دونوں ہی ابھرتے ہوئے قانون دان تھے طاہرہ سید زندگی میں خواب دیکھنے کی عادی تھیں۔ اداکار محمد علی جیسی وجیہہ شخصیت سے وہ متاثر تھیں یوں سمجھ لیں کہ وہ ان کا پہلا کرش تھے۔

ذہانت اور جاذب انداز تکلم ان کی ہمیشہ کمزوری رہا اس اعتبار سے نعیم بخاری ان کی پرفیکٹ چوائس تھے لیکن محبتوں کا یہ رواں سمندر نہ جانے کیوں تھم گیا۔12سالہ رفاقت یوں ختم ہوئی کہ ابتدا میں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی آج بھی طاہرہ سید اس مہک کو ضرور محسوس کرتی ہیں لیکن زندگی میں کہیں ادھورے پن کا شکوہ نہیں کرتیں اور سب سے دلچسپ اور حیران کن ان کا یہ تاثر ہے کہ ہاتھ تھامنے کا فیصلہ بھی درست تھا اور راستہ بدلنے کا بھی کوئی پچھتاوا نہیں۔ شاید وہ زندگی کے ان خوشگوار لمحات کی پوٹلیاں پیچھے چھوڑ آئی ہیں وہ شاید اس فلسفے کی فائل ہیں کہ جو سانس مل رہی ہے اور جو دن دیکھنا نصیب ہو رہا ہے اسے قدرت کا آخری انعام سمجھ کر شکر ادا کرنا چاہیے۔ ادھورے پن کا لفظ ان کی زندگی کی ڈکشنری میں نہیں ہے۔ اب وہ اس زندگی میں خوش ہیں جس میں ان کے بیٹے حسنین اور بیٹی کرن کی محبت کی مہک اور رفاقت ان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے وہ کبھی نعیم بخاری کے لئے اور نعیم بخاری ان کے لئے کوئی منفی بات نہیں کرتے۔ اسی لئے نعیم بخاری نے اپنی زندگی میں ایسی شریک حیات کا انتخاب کر لیا جنہیں وہ دلہن ہی کہتے ہیں طاہرہ سید اپنی موسیقی میں اپنی والدہ کو اپنا استاد اور سب کچھ مانتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ میری گائیکی کا کوئی کمال نہیں ہے میں نے اپنی والدہ کی گائیکی کو اپنی آواز اور انہی کی سر میں گایا ہے وہ کہتی ہیں کہ میری والدہ کلاسیکی موسیقی کی بہت بڑی فنکارہ تھیں طاہرہ سید سمجھتی ہیں کہ ان کے بچوں میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو کسی کامیاب اور اچھے انسان میں ہو سکتی ہیں۔ ان کے دونوں بچے صاحب اولاد بھی اور اپنی زندگیوں میں خوش ہیں۔
انہوں نے اپنے لائف پارٹنرز کا بھی خود ہی انتخاب کیا جب نعیم سے علیحدگی ہوئی تو یہ بچے چھوٹے تھے اور پھر مجھے حقیقی زندگی میں ڈبل رول نبھانا پڑا وہ یہ تسلیم کرتی ہیں کہ آدمی یا عورت کے الگ ہونے سے گھر نہیں ٹوٹتا ہاں جب تک شادی برقرار رہتی ہے شوہر کپتان ہوتا ہے میری بیٹی اور بیٹے نے لاءکی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے بیٹی نیو یارک میں رہتی ہے اور بیٹا مسقط میں پریکٹس کرتا ہے میں ان دونوں کے پاس وقت گزارتی ہوں اور زندگی انجوائے کرتی ہوں دوسری طرف نعیم بخاری ہیں جو اب ایک نامور قانون دان ہیں لیکن بڑی دلچسپ باتیں کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ زندگی ہنس بول کر گزارنی چاہیے میں کبھی کسی کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں کرتا مسکرا کر بات کرنے سے ہمارا ٹکہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے ازراہ تفنن کہا کہ اگر ضیاءالحق کا جہاز نہ گرتا تو وہ آج بھی چھاتی پر ہاتھ رکھ کر ہماری چھترول کر رہے ہوتے وہ کہتے ہیں کتاب میری زندگی ہے اور یہ مجھے زندگی میں کبھی بور نہیں ہونے دیتی۔