ان ہاؤس تبدیلی کے حق میں نہیں، نوازشریف کا اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام

سینئر تجزیہ کار راؤف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ نوازشریف نے اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام دیا کہ ہم ان ہاؤس تبدیلی کے حق میں نہیں، آپ عمران خان کو اپنا وزیراعظم رکھیں، ہم ان ہاؤس تبدیلی میں کسی کا ساتھ نہیں دیں گے، بس مریم نواز اور حمزہ کو لندن بھجوانے میں ریلیف دیں۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک محاورہ ہے جب سمندر میں طوفان آتا ہے اس سے پہلے مکمل خاموشی ہوتی ہے لگتا ہے سب کچھ بالکل ٹھیک ہے، لیکن یکدم طوفان آتا ہے اور سب کچھ پلٹ دیتا ہے ، عمران خان کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے، عمران خان کی اپنی حکومت ، پارٹی اور وزراء پر گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
البتہ عمران خان نے بڑے سخت پیغام دیے ہیں پنجاب خیبرپختونخواہ میں کچھ بغاوتیں ہوئیں توعمران خان نے ان کو کچل دیا، اس کے باوجود ہمیں لگ رہا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں بڑی خاموشی ہے ، لوگ فی الحال چپ کرگئے ہیں۔
کچھ لوگوں نے پنڈی میں جاکر کچھ لوگوں سے ملنے کی کوشش کی تھی، اس میں کچھ بااثر لوگ ، وفاقی وزراء بھی تھے ، عاطف خان سمیت تین لوگوں کو توسزادی گئی لیکن وفاقی وزراء کو کوئی سزا نہیں دی گئی، ایک وفاقی اور ایک پنجاب کے وزیربھی عاطف خان کے ساتھ گئے تھے، پنجاب کے رکن کو اے ٹی ایم کا درجہ حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری اطلاعات یہ ہیں کہ ابھی طوفان تھما نہیں ہے، بس ایک دوماہ کی خاموشی ہے، چودھری شجاعت بھی عمران خان کو مشورے دے رہے ہیں، عمران خان کے لیے بری خبر یہ ہے کہ بیک ڈور رابطے ابھی جاری ہیں، نوازشریف ، آصف زرداری کے ابھی بھی رابطے ہیں۔نوازشریف نے سے اسٹیبلشمنٹ کو واضح کہا کہ ہم ان ہاؤس تبدیلی کے حق میں نہیں ہیں، مطلب ان کے کہنے کا یہ ہے کہ نوازشریف یا شہبازشریف نے تو وزیراعظم بننا نہیں، اگر ایسے ہی چیزیں چلنی ہیں تو آپ اپنے وزیراعظم عمران خان کو رکھیں، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے،ہم کوئی مسائل پیدا نہیں کریں گے۔
نہ ہی کسی دوسری جماعت کے ساتھ ملکر ان ہاؤس تبدیلی میں ساتھ دیں گے۔نوازلیگ کا بس ایک مطالبہ ہے کہ حمزہ شہبازاور مریم نواز دونوں کو رہا کریں اور لندن بھیجیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں