غزہ، صمود فلوٹیلا , اسرائیلی بربریت اور گرفتاریاں!!

غزہ، صمود فلوٹیلا , اسرائیلی
بربریت اور گرفتاریاں!!

نقطہ نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍️ نعیم اختر

دنیا کے نقشے پر فلسطین ایک ایسا ناسور ہے جو صدیوں سے انسانی ضمیر کو للکار رہا ہے۔ اسرائیلی ریاست کی بربریت اور قابضانہ پالیسیوں نے نہ صرف فلسطینی عوام کو اپنی ہی سرزمین پر قید کر رکھا ہے بلکہ عالمی قوانین، انسانی حقوق اور اخلاقیات کے ہر ضابطے کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔ تازہ مثال “گلوبل صمود فلوٹیلا” پر اسرائیلی حملہ ہے، جس میں نہتے انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ اقدام کھلا جنگی جرم اور عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انسانیت کے نام پر نکلا قافلہ
فلوٹیلا کسی فوجی قافلے کا حصہ نہیں تھا بلکہ انسانیت کے لیے ایک پُرامن سفر تھا۔ اس میں شامل افراد کا مقصد صرف اور صرف غزہ کے محصور عوام تک خوراک، ادویات اور زندگی کی بنیادی ضروریات پہنچانا تھا۔ مگر اسرائیل نے ان نہتے، بہادر اور انسانیت دوست لوگوں کو نشانہ بنایا۔ دراصل اسرائیل کی طاقت کا سرچشمہ اس کی اپنی قوت نہیں بلکہ وہ عالمی سرپرستی ہے جو اسے مسلسل میسر ہے۔
یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ امریکہ اسرائیل کا سب سے بڑا پشت پناہ ہے۔ انسانی حقوق کی بات جب یوکرین یا تائیوان کے لیے ہو تو مغربی دنیا آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے، لیکن جب فلسطین کے بےگناہ بچے ملبے تلے دم توڑتے ہیں تو عالمی طاقتوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یہی نہیں بلکہ یورپ کی “مہذب دنیا” بھی اسرائیل کے مظالم کو نظر انداز کرتی ہے، گویا فلسطینی انسان نہیں بلکہ اعداد و شمار ہیں۔ یہ منافقت انسانی تاریخ پر ایک بدنما داغ ہے۔
مزید دکھ کی بات یہ ہے کہ مسلم دنیا بھی محض بیانات اور قراردادوں تک محدود ہے۔ او آئی سی جیسی بڑی تنظیم بھی آج تک فلسطینی عوام کے لیے کوئی عملی حکمتِ عملی دینے میں ناکام رہی ہے۔ چند ممالک کے استثنا کے ساتھ مجموعی طور پر مسلم قیادت نے اپنی سیاسی و معاشی مفادات کے آگے امتِ مسلمہ کے اجتماعی مسئلے کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ یہ خاموشی دراصل مظلوموں کے ساتھ نہیں بلکہ ظالموں کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔
اس موقع پر پاکستان کی ذمہ داری پہلے سے بڑھ کر ہے۔ پاکستانی عوام دل کی گہرائیوں سے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، مگر حکومتِ پاکستان کو بھی اپنی روایتی جرات کو عملی اقدامات میں ڈھالنا ہوگا۔ سفارتی سطح پر اقوامِ متحدہ اور او آئی سی میں آواز بلند کرنا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک کو قائل کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ یہ مسئلہ صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے۔
یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، بلکہ دنیا کو باور کرانے کا ہے کہ فلسطین محض ایک خطہ نہیں بلکہ انسانیت کا امتحان ہے۔ جو آواز آج اس ظلم کے خلاف بلند ہوگی وہ تاریخ میں امر ہوگی، اور جو خاموش رہا وہ تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا ہوگا۔
قوی امید ہے کہ حکومت پاکستان اس معاملے کو محض بیان بازی تک محدود نہیں رکھے گی، بلکہ سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت تمام گرفتار شدگان کی رہائی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے گی۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان دنیا کو دکھائے کہ وہ انسانی حقوق کے معاملے میں کسی دباؤ یا مفاہمت کا شکار نہیں ہوگا۔