GREEN TV ایک بھول……نئی کہانی نئی شروعات؟

کستانی ڈرامہ انڈسٹری اپنے معیار، کہانیوں کی گہرائی اور سماجی مسائل کو بے لاگ پیش کرنے کے حوالے سے ہمیشہ سے منفرد مقام رکھتی ہے۔ ایسے میں جب کوئی ڈرامہ نہ صرف انٹرٹینمنٹ کے معیار پر پورا اترے بلکہ نفسیات، انسانی تعلقات اور اخلاقیات کے ایسے پہلوؤں کو چھوئے جو عام طور پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں، تو وہ ایک شاہکار بن جاتا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں ہم ٹی وی پر نشر ہونے والے شاہکار ڈرامے “ایک بھول” کی، جس نے نہ صرف ناظرین کے دل جیتے بلکہ ایک “سبز ڈرامے” کے طور پر اپنی ایک الگ پہچان قائم کی۔

“سبز ڈرامہ” کی اصطلاح شاید بہت سے قارئین کے لیے نئی ہو۔ یہ وہ ڈرامہ ہوتا ہے جو نہ صرف ماحول دوست پیغامات پر مبنی ہو، بلکہ جس کی کہانی، کردار اور مرکزی خیال خود انسانی ذہن اور دل کی کھیتی کو سرسبز و شاداب رکھنے کی بات کرے۔ یہ ڈرامہ نفرت، کینہ، انتقام اور منفی جذبات کی زمین کو ہرا کرنے، معاف کرنے، سمجھنے اور انسانی غلطیوں کو برداشت کرنے کے پانی سے سیراب کرنے کا درس دیتا ہے۔ اور “ایک بھول” اس تعریف کا عملی نمونہ ہے۔

کہانی کا خلاصہ: ایک ناگوار حادثہ اور اس کے اثرات
“ایک بھول” کی کہانی ایک ایسے خاندان کے گرد گھومتی ہے جس کی زندگی ایک حادثاتی موت کے بعد مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ مرکزی کردار “عنبرین” (جسے بیٹا بازی نے زبردست اداکاری سے پیش کیا) ایک ایسی لڑکی ہے جو اپنے بہنوئی “عمیر” (احسن خان) کی موت کا باعث بن جاتی ہے۔ یہ موت کسی سازش یا ارادے کا نتیجہ نہیں، بلکہ غصے اور غلط فہمی کے لمحے میں ہونے والا ایک المناک حادثہ ہے۔ یہی وہ “بھول” ہے جو ڈرامے کے مرکز میں ہے۔

عنبرین سے یہ غلطی اس وقت سرزد ہوتی ہے جب وہ عمیر کو اپنی بہن “مہک” (سدرہ بٹ) کے ساتھ بدکاری کا مرتکب سمجھ بیٹھتی ہے۔ درحقیقت، مہک اور عمیر ایک دوسرے سے شادی شدہ ہیں اور وہ اپنے ازدواجی تعلق میں ہیں، لیکن عنبرین کے لیے یہ منظر ایک شدید صدمے کا باعث بنتا ہے۔ اس غلط فہمی، شدید غصے اور بہن کے وقار کے تحفظ کے جذبے میں وہ عمیر کو دھکا دے دیتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ سیڑھیوں سے گر کر ہلاک ہو جاتا ہے۔

یہ ایک لمحہ ہے جو عنبرین کی زندگی کے ساتھ ساتھ پورے خاندان کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ یہاں سے “ایک بھول” کا وہ سفر شروع ہوتا ہے جو نہ صرف ایک جرم اور اس کی سزا کا احاطہ کرتا ہے، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر توبہ، ندامت، معافی اور انسانی نفسیات کی گہری کھدائی کرتا ہے۔

کرداروں کی گہرائی: نفسیاتی تجزیہ
“ایک بھول” کی سب سے بڑی طاقت اس کے کرداروں کی غیر معمولی گہرائی اور حقیقت پسندی ہے۔

عنبرین (بیٹا بازی): عنبرین کا کردار ڈرامے کا دل و دماغ ہے۔ وہ ایک ایسی لڑکی ہے جو ایک لمحے کی بھول کا بھاری تاوان اپنی پوری جوانی کی قیمت پر چکاتی ہے۔ اس کے اندر کی کشمکش، اس کی ندامت، اس کا احساسِ جرم، اور پھر اس کے باوجود اپنے آپ کو معاف کرنے کی جدوجہد بیٹا بازی نے ایسی پراثر انداز میں پیش کی کہ ناظر خود کو عنبرین کے جذبات میں گم محسوس کرتا ہے۔ وہ ایک مجرمہ بھی ہے، ایک شکار بھی ہے، اور ایک ایسی روح بھی ہے جو نجات کی تلاش میں ہے۔

عمیر (احسن خان): اگرچہ عمیر کا کردار ڈرامے کے آغاز ہی میں ختم ہو جاتا ہے، لیکن وہ پورے ڈرامے پر اپنی چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ وہ ایک مثالی شوہر اور بہنوئی کے طور پر سامنے آتا ہے، جس کی بے وقت موت نہ صرف اس کے خاندان بلکہ ناظرین کے دل پر بھی کاری ضرب لگاتی ہے۔

مہک (سدرہ بٹ): مہک کا کردار ایک بیوہ عورت کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے۔ اس کا غم، اس کا غصہ، اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے دل میں آنے والی نرمی، یہ سب ایک ایسا سفر ہے جو بہت ہی حساسیت سے دکھایا گیا ہے۔ وہ عنبرین کو معاف کرنے کے عمل سے گزرتی ہے، جو خود ایک بہت بڑا سبق ہے۔

عنبرین کے والدین: ان کا کردار اس المیے میں ایک والدین کے دکھ، کشمکش اور پھر اپنی بیٹی کے لیے ان کی محبت اور حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ اس مشکل وقت میں عنبرین کا سہارا بنتے ہیں، یہ دکھاتے ہوئے کہ خاندانی رشتے کسی بھی مشکل سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔

“سبز ڈرامہ” ہونے کے حوالے سے اہم پہلو
“ایک بھول” کو ایک “سبز ڈرامہ” اس لیے کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ انسانی جذبات کی اس باغیچے کی آبیاری کرتا ہے جو اکثر ڈراموں میں زہر آلود ہو جاتا ہے۔

1۔ معافی اور درگزر کا سبق:
یہ ڈرامہ انتقام کو نہیں، معافی کو مرکز میں رکھتا ہے۔ عام ڈراموں میں ایسے واقعے کے بعد انتقام کی ایسی کہانی بنائی جاتی جو نسلوں تک چلتی۔ لیکن “ایک بھول” ہمیں سکھاتا ہے کہ معافی، انتقام سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ یہ مہک کا عنبرین کو معاف کرنا ہو یا خاندان کا ایک دوسرے کو سہارا دینا، ڈرامہ درگزر کے انمول تحفے کو پیش کرتا ہے۔

2۔ توبہ اور ندامت کا تصور:
عنبرین کا کردار توبہ اور ندامت کے جذبات سے لبریز ہے۔ وہ اپنی غلطی کو تسلیم کرتی ہے، اس پر شرمندہ ہوتی ہے، اور معافی کے لیے تڑپتی ہے۔ یہ مذہبی اور اخلاقی طور پر ایک بہت ہی صحت مند اور “سبز” پیغام ہے کہ انسان سے بھول ہو سکتی ہے، لیکن اس کے بعد توبہ اور اصلاح کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

3۔ خاندانی یکجہتی:
ایسے حادثے کے بعد خاندان کا �وٹ جانا فطری بات ہے۔ لیکن “ایک بھول” میں ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے یہ خاندان ایک دوسرے کا سہارا بن کر اس طوفان سے نکلتا ہے۔ یہ خاندانی رشتوں کی مضبوطی اور ان کی سبز بیل کو ہرا رکھنے کا خوبصورت اظہار ہے۔

4۔ انسانی نفسیات کی عکاسی:
ڈرامہ انسانی ذہن کی ان گہرائیوں میں اترتا ہے جہاں جرم، شرم اور ندامت کے جذبات جنم لیتے ہیں۔ یہ ناظر کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہر مجرم کے پیچھے ایک کہانی ہو سکتی ہے، اور ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ۔ یہ تفہیم و ہمدردی کا جذبہ پیدا کرتا ہے، جو ایک پرسکون اور ہرا بھرا معاشرہ تعمیر کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔

تکنیکی پہلو: ہدایت کاری، اسکرین پلے اور موسیقی
ڈرامے کی ہدایت کاری شعیب خان نے کی، جنہوں نے کہانی کے ہر پہلو کو نہایت مہارت اور حساسیت سے برتا۔ انہوں نے کرداروں کے جذبات کو قریب سے کیمرے میں قید کیا، خاص طور پر بیٹا بازی کے چہرے کے تاثرات اس کی پوری کہانی آپ کو خود بتا دیتے ہیں۔ اسکرین پلے نگار نے کہانی کو اس طرح سے لکھا کہ ہر ڈائیلاگ وزنی اور معنی خیز تھا۔ موسیقی نے ڈرامے کے المناک ماحول کو چار چاند لگا دیے اور جذبات کو چھو لینے کا کام کیا۔

اختتامیہ: ایک سبز پیغام
“ایک بھول” محض ایک ڈرامہ نہیں، ایک تحریک ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی میں ہم سے بھول ہو سکتی ہے، ہماری ایک حرکت کسی کی زندگی تباہ کر سکتی ہے، لیکن اس کے بعد امید کی کرن باقی ہے۔ یہ معافی، درگزر، توبہ اور اصلاح کا سبق دیتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ خاندانی رشتے ہر مشکل کا مقابلہ کر سکتے ہیں اگر ہم میں برداشت اور ہمدردی ہو۔

ایسے دور میں جب ٹی وی چینلز زیادہ تر منفی کہانیاں، حسد و نفرت اور لڑائی جھگڑے پر مبنی ڈرامے دکھا رہے ہیں، “ایک بھول” ایک سبز اور پرسکون چھاؤں کی مانند ہے۔ یہ وہ ڈرامہ ہے جو آپ کے دل و دماغ پر ایک گہرا اور مثبت اثر چھوڑ جاتا ہے۔ یہ نہ صرف پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا ایک شاہکار ہے، بلکہ انسانی اقدار کو پروان چڑھانے والا ایک “سبز