این پی سی بڑی کاوش، داؤد یونیورسٹی نمایاں تعلیمی ادارہ بن کر اُبھر رہی ہے، گورنر سندھ عمران اسماعیل

داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کے نیشنل پروجیکٹ کمپی ٹیشن میں 35سے زائد یونیورسٹیز کے 141پروجیکٹس ، 104پوسٹرز پیش
طلباء بہت ہنر مند ہیں ، کراچی سے چترال تک جامعات حصہ لے رہی ہیں، ہم ٹرینڈ سیٹر بن گئے ، وائس چانسلر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی
کراچی :  داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام اور داؤد فاؤنڈیشن کے تعاون سے تمام جامعات میں اس سال کے سب سے بڑے ایونٹ ’نیشنل پروجیکٹ کمپی ٹیشن (NPC’2020)کا آغاز ہفتے کو ہوگیا جس کا افتتاح جامعہ داؤد کے چانسلر اور گورنر سندھ جناب عمران اسماعیل نے کیا ۔ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی گورنر سندھ جناب عمران اسماعیل جبکہ داؤد فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مس سبرینہ داؤد اعزازی مہمان تھیں۔ فیکلٹی ممبرز، المنائی اور طلباء کی بڑی تعداد تقریب میں شریک تھی۔ ہفتہ اور اتوار (22اور 23؍ فروری) کے روز جاری رہنے والے نیشنل پروجیکٹ مقابلوں میں ملک بھر سے 35؍ سے زائد یونیورسٹیز کے طلباء نے7مختلف کیٹیگریز میں 141؍ پروجیکٹس اور 104؍ پوسٹرز پیش کئے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سی ای او داؤد فاؤنڈیشن سبرینہ داؤد اور وائس چانسلر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی کے ہمراہ تمام پروجیکٹس اسٹالز کا دورہ کیا اور طلباء سے ان کے پروجیکٹس کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ طالبعلم ہمارا اثاثہ اور مستقبل ہیں ان کی صلاحیتوں کو سامنے لانا اور حوصلہ افزائی کرنا ملکی تعمیر و ترقی کے لئے اشد ضروری ہے کیونکہ ہمارے ملک میں نوجوان آبادی کا 60؍ فیصد کے قریب ہیں، وائس چانسلر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی، فیکلٹی اور طلباء کے باعث یہ جامعہ ایک نمایاں تعلیمی ادارہ بن کر اُبھر رہی ہے، داؤد یونیورسٹی سے فارغ التحصیل پروفیشنلز کئی شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں اور آج یہاں پر موجودگی اور جامعہ کی مدد لائق تحسین ہے۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ تکنیکی تعلیم کے فروغ سے ہی ملک تعمیر و ترقی کی نئی منازل طے کرسکتا ہےلیکن فارغ التحصیل پروفیشنلز کی ایک بڑی تعداد بیرون ملک جاکر قسمت آزمانے کی خواہش رکھتی ہے کیونکہ ان کے ذہن میں پاکستان میں آگے بڑھنے کے مواقع نہ ہونے کا تصور موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے قومی پروجیکٹ مقابلہ میں شریک طلباء سے کہا کہ وہ اپنے آئیڈیاز کو مزید بہتر بنانے اور پروفیشنل طریقے سے آگے بڑھانے کے لئے وزیراعظم کے کامیاب جوان پروگرام سے بھرپور استفادہ کریں۔ انہوں کہا کہ بڑے خواب دیکھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن صحیح وقت پر درست فیصلہ ضروری ہے ۔

قبل ازیں اپنے استقبالیہ خطاب میں وائس چانسلر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے کہا کہ نیشنل پروجیکٹ مقابلوں کے انعقاد کا تمام تر کریڈٹ طلباء کو جاتا ہے جنہوں نے شب و روز محنت کی ،ہمارے طلباء بہت ہنر مند ہیں اور گزشتہ 7 سال میں جامعہ میں کئی نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ این پی سی ایک گیم چینجر ثابت ہوگی ، مقابلوں میں کراچی سے چترال تک جامعات حصہ لے رہی ہیں جس میں صنفی توازن بھی ہے ، داؤد یونیورسٹی کی سوچ ہمیشہ کچھ الگ کرنےکی رہی ہے تاکہ ہم کسی یونیورسٹی کو کاپی نہ کریں بلکہ لوگ ہمیں کاپی کریں ، تخلیقی سوچ اور عمل کے باعث ہم ٹرینڈر سیٹر بن گئے ہیں۔
مقابلوں میں حصہ لینے والی جامعات میں نسٹ ، بحریہ ، نیشنل کالج آف آرٹس لاہور، این ای ڈی ، مہران یونیورسٹی ، کیوسٹ ، ہمدرد ، یو آئی ٹی ، جامعہ کراچی ، آغا خان ، ضیاء الدین ، جناح یونیورسٹی برائے خواتین ، چترال یونیورسٹی ،ماجو ، آئی آئی ای ای ، ڈاؤ یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز ، آئی بی اے سکھر ، پاکستان ائیرفورس کراچی انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس، خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان ، اقراء یونیورسٹی ، فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد ، ڈی ایچ اے صوفا یونیورسٹی ، لیاقت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز ، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا اور دیگر شامل ہیں ۔ پروجیکٹس اور پوسٹرز کے فاتحین کے بار ے میں اکیڈمیا اور انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی جیوری اتوار کو اختتامی تقریب سے قبل فیصلہ کریگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں