بلاول کی حیثیت ایک ڈمی کی ہے فیصلوں میں آل ان آل آصف زرداری ہیں پیپلز پارٹی سیلاب کے نام پر کشکول اٹھا کر جگہ جگہ پھرنا چاہتی ہے اور نون لیگ اس کے حق میں نہیں

بلاول کی حیثیت ایک ڈمی کی ہے فیصلوں میں آل ان آل آصف زرداری ہیں پیپلز پارٹی سیلاب کے نام پر کشکول اٹھا کر جگہ جگہ پھرنا چاہتی ہے اور نون لیگ اس کے حق میں نہیں ،مریم پنجاب میں پیپلز پارٹی کے سیاسی دروازے بند کر رہی ہے پیپلز پارٹی کی مجبوری ہے کہ حکومت کا ساتھ دے اس منیر کے ہوتے ہوئے پیپلز پارٹی نون لیگ کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی ۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار مزمل سہروردی کا اپنے ویلاگ پروگرام میں سیاسی صورتحال پر تجزیہ

ہر چیز کا علاج بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں، بھیک مانگنے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے، مریم نواز
30 ستمبر ، 2025
لاہور،فیصل آباد-وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ ہر چیز کا علاج بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں، بھیک مانگنے کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے ، مجھ پر تنقید کی گئی تو کچھ نہیں کہوں گی مگر پنجاب پر بات کریں گے اس کی ترقی پر بات کریں گے اور اس کے حق کے خلاف بات کریں گے تو مریم نواز آپ کو چھوڑے گی نہیں گھر تک پہنچا کر آئے گی ۔فیصل آباد میں الیکٹرک بسیں لانچ کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصل آباد واپس پی ایم ایل میں آنے لگا ہے، یہاں بیٹھے سینئر لیگی رہنما میرے والد کے ساتھ مشکل وقت میں بنیان مرصوص سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہے، گرفتاری اور جیل جانے پر رانا ثنا نے کہا تھا کہ اگر میں نواز شریف کے ساتھ سو فیصد کھڑا تھا تو آج ہزار فیصد کھڑا ہوں۔

پیپلز پارٹی ایوان کے اندر و باہر ضرور احتجاج کرے گی، شیری رحمان
تازہ ترینقومی خبریں30 ستمبر ، 2025
پیپلز پارٹی ایوان کے اندر و باہر ضرور احتجاج کرے گی، شیری رحمان
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ہر اہم مسئلے پر ایوان کے اندر اور باہر ضرور احتجاج کرے گی۔

ایک بیان میں شیری رہنما نے کہا کہ جب کبھی سیلاب آیا یا ہمارے کینال کا ایشو ہو یا آبی ذخائر کا، ہم نے پنجاب سے کبھی ایسا رویہ نہیں رکھا، جس پر کوئی انگلی اٹھا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اپنے اتحادیوں سے تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کی ہے، سیلاب زدگان اس وقت بہت تکلیف سے گزر رہے ہیں۔

پی پی نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ تمام صوبے پاکستان کے ہیں نہ کے کسی کی جاگیر ہیں، بہتری اس میں ہے کہ ہم ایک دوسرے کی بات کو سن لیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر اتحادیوں کا یہ رویہ رہے گا تو پیپلز پارٹی کا حکومت کا ساتھ دینے کا کیا فائدہ ہے؟ ٹی وی یا جلسوں میں الفاظ کی جنگ چھیڑنا ٹھیک نہیں ہے، عوام ہم سب کو دیکھ رہی ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ اگر صورتحال ایسی ہی رہتی ہے تو ہمارے لیے مشکل ہو جا تا ہے کہ ہم حکومت کا مستقل مزاجی سے ساتھ دیں جو ہم نے دیا ہے۔
=====================

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان پر پیپلز پارٹی کا سینیٹ سے واک آؤٹ
تازہ ترینقومی خبریں30 ستمبر ، 2025
FacebookTwitterWhatsapp
لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ
—فائل فوٹو
—فائل فوٹو
پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے بیان پر پیپلز پارٹی نے سینیٹ کے ایوان سے واک آؤٹ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر ضمیر گھمروکا کہنا ہے کہ جب تک وزیرِ اعلیٰ پنجاب معافی نہیں مانگتیں، ہم کسی قانون سازی میں حصہ نہیں لیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ کینال کے مسئلے پر ہم نے اپنے اعتراضات سی سی آئی میں دیے، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کینال منصوبے کا افتتاح کیا۔

مانگنے والا سلسلہ اب بند ہوجانا چاہیے، وزیر اعلیٰ پنجاب

دوسری جانب سینیٹ اجلاس میں وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ ایسا نہیں ہے، وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے ایسی بات نہیں کی، سارے ملک کا پانی ایک فارمولے کے تحت تقسیم کیا گیا، جو پانی کا حصہ کے پی یا سندھ کا ہے اس پر وہ فیصلہ کر سکتے ہیں، وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا مطلب ہے جو پانی کا حصہ پنجاب کا ہے اسے استعمال کرنے کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کو ہمیشہ گالی دی گئی، پانی چور کہا گیا، پنجاب نے کبھی کسی صوبے کا پانی نہیں چرایا اور نہ بات کی، وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کوئی دھمکی نہیں دی، پنجاب کو بلا وجہ برا بھلا کہا جاتا ہے، وزیرِ اعلیٰ پنجاب جواب نہیں دیں گی تو کون دے گا؟ یہ ان کا حق ہے۔

رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمارے ساتھ مل کر 2018ء سے 2022ء تک فاشسٹ حکومت کے خلاف جدوجہد کی، پیپلز پارٹی ہماری اتحادی جماعت ہے، پیپلز پارٹی صرف حکومت میں نہیں جدوجہد میں بھی ہماری ساتھی ہے، پیپلز پارٹی کے ساتھ یہ ساتھ ہمیشہ چلے گا، وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا جو سی سی آئی میں مؤقف تھا انہوں نے وہی بات دہرائی۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ارکان ایوان میں واپس آ گئے۔