سڑکوں پر نئی کار ہائبرڈ ٹیکنالوجی …… کارکردگی زیادہ قابل اعتماد

اثر
اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ ہائبرڈ کاروں کے کیا فوائد ہیں، پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہماری عام گاڑیاں ماحول کے لیے کتنی مضر ہیں۔ ہماری سڑکوں پر دوڑنے والی زیادہ تر گاڑیاں انٹرنل کمبسشن انجن (ICE) پر چلتی ہیں، جو پٹرول یا ڈیزل کو جلا کر توانائی پیدا کرتی ہیں۔ یہ عمل ہوا میں زہریلی گیسیں خارج کرتا ہے، جن میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2)، کاربن مونوآکسائیڈ (CO)، نائٹروجن آکسائیڈز (NOx) اور دیگر پارٹیکولیٹ میٹر (PM) شامل ہیں۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2): یہ ایک گرین ہاؤس گیس ہے جو زمین کے درجہ حرارت میں اضافے (گلوبل وارمنگ) کی سب سے بڑی ذمہ دار ہے۔ گاڑیوں سے نکلنے والی CO2 موسمیاتی تبدیلیوں کا اہم سبب بن رہی ہے، جس کی وجہ سے سیلاب، خشک سالی اور غیر معموری موسم جیسی تباہیوں کا سامنا ہے۔

نائٹروجن آکسائیڈز (NOx): یہ گیسیں سموگ (دھند) اور ایسڈ بارش (تیزابی بارش) کا باعث بنتی ہیں۔ یہ انسانی پھیپھڑوں کے لیے انتہائی مضر ہیں اور دمہ جیسی سانس کی بیماریوں کو بڑھاوا دیتی ہیں۔

پارٹیکولیٹ میٹر (PM): یہ باریک ذرات ہوا میں شامل ہو کر سانس کے ذریعے ہمارے پھیپھڑوں میں پہنچ جاتے ہیں، جس سے سانس کی شدید بیماریاں، دل کے دورے اور یہاں تک کہ کینسر جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ان تمام آلودگیوں کا مجموعہ ہمارے شہروں کی ہوا کو زہریلا بنا رہا ہے، جس کا براہ راست اثر ہماری صحت اور کرہ ارض کی مجموعی صحت پر پڑ رہا ہے۔

ہائبرڈ کار: ایک بہتر متبادل
ہائبرڈ کاریں درحقیقت ایک “ٹرانزیشنل ٹیکنالوجی” ہیں۔ یعنی یہ روایتی گاڑیوں سے مکمل طور پر بجلی سے چلنے والی گاڑیوں (الیکٹرک وہیکلز یا EVs) کی طرف ایک پل کا کام کرتی ہیں۔ ہائبرڈ کاروں میں دو طرح کے انجن لگے ہوتے ہیں: ایک روایتی پٹرول یا ڈیزل انجن اور ایک یا ایک سے زیادہ الیکٹرک موٹریں۔ ان دونوں نظاموں کو ایک ہائبرڈ کنٹرول یونٹ ملاتا ہے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کس وقت کون سا انجن استعمال ہوگا۔

ہائبرڈ کاریں بنیادی طور پر تین اقسام کی ہوتی ہیں:

فُل ہائبرڈ (FHEV): یہ کار کچھ فاصلہ صرف بجلی پر چل سکتی ہے۔ یہ شہر میں رکاوٹوں والی ٹریفک میں زیادہ موثر ہوتی ہے۔

مِلڈ ہائبرڈ (MHEV): اس میں الیکٹرک موٹر پٹرول انجن کی مدد کرتی ہے لیکن کار کو صرف بجلی پر نہیں چلا سکتی۔ اس کا مقصد ایندھن کی کھپت کو کم کرنا ہے۔

پلگ ان ہائبرڈ (PHEV): یہ سب سے زیادہ جدید قسم ہے۔ اسے بجلی کے پلگ سے چارج کیا جا سکتا ہے اور یہ طویل فاصلہ صرف بجلی پر طے کر سکتی ہے۔

ہائبرڈ کار کس طرح ماحول کو بہتر بناتی ہے؟
ہائبرڈ کاروں کا پورا ڈیزائن ہی ایسے ہے جو ماحول پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ آئیے ان فوائد کو تفصیل سے دیکھتے ہیں:

1۔ ایندھن کی کفالت اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہونا
ہائبرڈ کاروں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں کم پٹرول استعمال کرتی ہیں۔ جب کار چل رہی ہوتی ہے تو ہائبرڈ سسٹم درج ذیل موقعوں پر پٹرول انجن کو بند کر کے الیکٹرک موٹر سے کار چلاتا ہے:

رکنے یا سست روی کے وقت: ٹریفک سگنل پر یا جام میں جب کار رکتی ہے، تو ہائبرڈ کار کا پٹرول انجن مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے۔ اس سے بے کار میں ایندھن جلنے اور آلودگی پھیلنے کا عمل رک جاتا ہے۔

آہستہ چلنے پر: شہر کی ٹریفک میں جب کار 20-50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہوتی ہے، تو ہائبرڈ کار اکثر صرف بجلی پر چلتی ہے، جس سے پٹرول کی کھپت صفر ہو جاتی ہے۔

بریک لگانے پر: جب آپ بریک لگاتے ہیں، تو ہائبرڈ کار میں “ریجنریٹو بریکنگ” سسٹم موجود ہوتا ہے۔ یہ سسٹم بریک لگانے سے پیدا ہونے والی ضائع ہونے والی حرکی توانائی (کائنٹک انرجی) کو بجلی میں تبدیل کر کے بیٹری میں ذخیرہ کر لیتا ہے۔ اس طرح کار کو مفت میں توانائی مل جاتی ہے۔

ان تمام عوامل کی وجہ سے ایک ہائبرڈ کار اپنی روایتی ہم منصب کے مقابلے میں 25% سے 40% تک کم ایندھن استعمال کرتی ہے۔ کم ایندھن جلنے کا مطلب ہے کم کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر زہریلی گیسیں کا اخراج۔ اس طرح ہائبرڈ کار گلوبل وارمنگ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

2۔ شہری آلودگی میں نمایاں کمی
شہروں میں گاڑیوں کا دھواں فضائی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہائبرڈ کاریں خاص طور پر شہری ماحول کے لیے بہترین ہیں جہاں گاڑیاں بار بار رکتی چلتی ہیں۔ جب ہائبرڈ کار الیکٹرک موٹر پر چلتی ہے تو اس سے کوئی دھواں یا زہریلی گیس خارج نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب ہے کہ سڑکوں پر ہائبرڈ گاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے شہر کی ہوا میں نائٹروجن آکسائیڈز اور پارٹیکولیٹ میٹر کی مقدار میں واضح کمی آئے گی۔ اس سے نہ صرف شہر کی فضا صاف ہوگی بلکہ لوگوں میں سانس اور دل کی بیماریوں میں بھی کمی واقع ہوگی۔

3۔ شور کی آلودگی میں کمی
روایتی گاڑیوں کا شور بھی ایک قسم کی آلودگی ہے جو انسانی صحت پر منفی اثرات ڈالتا ہے۔ ہائبرڈ کاریں جب الیکٹرک موٹر پر چلتی ہیں تو تقریباً خاموش ہوتی ہیں۔ اس سے شہروں کے شور کے سطح (نوائز پولوشن) میں نمایاں کمی آتی ہے، جس سے رہائشی علاقوں میں پر سکون ماحول فراہم ہوتا ہے۔

4۔ قابل تجدید توانائی سے ربط
پلگ ان ہائبرڈ کاریں (PHEVs) تو اس سے بھی آگے کی بات ہیں۔ انہیں گھر پر یا چارجنگ اسٹیشنز پر بجلی کے ذریعے چارج کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ بجلی شمسی توانائی (سولر انرجی) یا ہوائی توانائی (ونڈ انرجی) جیسے صاف ستھرے ذرائع سے حاصل کی جائے، تو ہائبرڈ کار کا کاربن فٹ پرنٹ (کاربن کے اخراج کا پیمانہ) تقریباً صفر ہو سکتا ہے۔ اس طرح ہائبرڈ کاریں صاف توانائی کے مستقبل میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔

ہائبرڈ کاروں کے کچھ چیلنجز
اگرچہ ہائبرڈ کاروں کے ماحولیاتی فوائد واضح ہیں، لیکن کچھ چیلنجز بھی ہیں جن کا ذکر ضروری ہے:

بیٹری کا مسئلہ: ہائبرڈ کاروں میں لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں، جن کی تیاری میں نایاب دھاتوں (Rare Earth Metals) کی کان کنی ماحول پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ نیز، استعمال ختم ہونے پر ان بیٹریوں کے فضلے کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ تاہم، بیٹری ری سائیکلنگ کی ٹیکنالوجیز تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، جس سے امید ہے کہ یہ مسئلہ مستقبل میں کم ہو جائے گا۔

لاگت: ہائبرڈ کاریں عام گاڑیوں کے مقابلے میں مہنگی ہوتی ہیں، جس کی وجہ ان کا پیچیدہ نظام ہے۔ تاہم، ایندھن کی بچت کی وجہ سے طویل مدت میں یہ لاگت پوری ہو سکتی ہے۔

مکمل صفائی کا نہ ہونا: ہائبرڈ کاریں اب بھی جزوی طور پر پٹرول یا ڈیزل پر انحصار کرتی ہیں، اس لیے یہ ماحول کو صاف کرنے کا حتمی حل نہیں ہیں۔ مکمل طور پر بجلی سے چلنے والی گاڑیاں (EVs) اور ہائیڈروجن فیول سیل کارز ماحول دوست نقل و حمل کا حتمی ہدف ہیں