“اے آئی ٹیکنالوجی کے بعد فلم انڈسٹری نئی تبدیلیوں کی زد میں”

مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی زندگی کے ہر شعبے پر غلبہ حاصل کر رہی ہے اور اب فلم انڈسٹری اس کا اگلا ہدف ہے۔

ٹلی نورووڈ ایک آئی اے اداکارہ ہیں جو اپنے اداکاری کے کیریئر کا آغاز کرنے کیلیے تیار ہیں۔ میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ کئی فلمساز اسے آنے والے پروجیکٹس میں کاسٹ کرنے کے خواہشمند ہیں۔

ٹلی نورووڈ کو اگلی اسکارلیٹ جوہانسن قرار دیا جا رہا ہے جو ہالی وڈ کی بڑی اداکارہ و گلوکارہ ہیں۔ اے آئی اداکارہ حال ہی میں شروع کی گئی ایکسکویا (Xicoia) نامی ایک اے آئی ٹیلنٹ اسٹوڈیو کی پہلی پروڈکٹ ہے۔

پارٹیکل 6 پروڈکشنز کے بانی وان ڈیر ویلڈن نئے پروجیکٹس کے اعلانات کیلیے تیاری کر رہے ہیں۔ یہ ٹلی نورووڈ کا پہلا اداکاری کا پروجیکٹ نہیں کیونکہ اس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اس نے ایک کامیڈی اسکیچ ’اے آئی کمشنر‘ میں ڈیبیو کیا تھا۔

تاہم ایک تخلیق کردہ اداکارہ کے تعارف نے آن لائن دنیا میں بحث چھیڑ دی ہے جہاں کئی لوگ اسے کسی پروجیکٹ میں کردار ملنے کے خلاف ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف نے لکھا کہ یہ جدت فلمی صنعت کا خاتمہ ہوگا، ایسی اداکاروں کو الوداع کہیں، کسی کو اس کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔

ایک اور صارف نے اس خبر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کسی ایسی چیز کے ساتھ معاہدہ کیسے کر سکتے ہیں جو نہ تو قانونی شخصیت ہے اور نہ ہی انسان؟ اسی طرح آپ ونڈوز آفس یا فوٹوشاپ کے ساتھ معاہدہ کر سکتے ہیں۔

فلمی صنعت سے وابستہ افراد نے ابھی تک اس اعلان پر ردعمل ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ یہ ان کے طویل عرصے سے قائم کیریئرز کو کس طرح متاثر کرے گا۔