اسلام پور: پاکستان کا وہ گاؤں جہاں کوئی بے روزگار نہیں

پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث نوجوان روزگار اور کاروبار کے مواقع کے حوالے سے شدید پریشان ہیں۔ لیکن سوات کے ایک گاؤں “اسلام پور” نے پورے ملک کے لیے ایک مثال قائم کر رکھی ہے، جہاں 17 ہزار کی آبادی میں سے کوئی بھی فرد بے روزگار نہیں۔

اسلام پور، مینگورہ شہر سے تقریباً 13 کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ اس گاؤں کی خاص پہچان اون سے بننے والی مصنوعات ہیں، جن کی بدولت یہاں کے باسی نہ صرف اپنے روزگار کے مسائل حل کر رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

گاؤں کے ہر گھر میں کھڈیوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں جہاں مرد گرم شالیں بُنتے ہیں، جبکہ خواتین دھاگہ بنانے یا چادروں کے جھالر تیار کرنے میں مصروف رہتی ہیں۔ ان مصنوعات کی قیمت کے مطابق مزدوروں کو اجرت دی جاتی ہے، جس سے وہ باعزت روزگار کما رہے ہیں۔

اسلام پور میں تیار ہونے والی شالیں اور چادریں اعلیٰ معیار کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے سرد ترین خطوں میں بھی مقبول ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ چھوٹا سا گاؤں سالانہ تقریباً تین ارب روپے کا کاروبار کرتا ہے۔

کھڈی پر شال بُننے کا ہنر نسل در نسل منتقل ہورہا ہے اور یہاں کی نئی نسل بھی اسی صنعت سے وابستہ ہے، جس نے اسلام پور کو بے روزگاری سے پاک ایک منفرد گاؤں بنا دیا ہے۔