بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی تمام تر کوششوں میں ناکام ہوگیا

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے اپنے بیان میں کہا افغانستان کےمسئلےکاپُرامن حل آسان تھااورنہ ہے، طالبان کومذاکرات کی میزپرلاناآسان نہیں تھا، مذاکرات کی بحالی کےلئےپاکستان نےہرممکن کوشش کی اور امریکاسمیت عالمی برادری نےپاکستان کےکردارکوسراہا۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ دنیاکوباورکراناتھاکہ افغان مسئلےکاحل طاقت کااستعمال نہیں، افغانستان میں فریقین کہہ رہےہیں معاہدےکےقریب پہنچ گئے، جامع مذاکرات کےذریعےافغان مسئلےکاسیاسی حل تلاش کیاجائے، فریقین میں مذاکرات کیلئےجامع وفدتشکیل دینےکی کوشش کریں گے۔

شاہ محمودقریشی نے کہا پاکستان کوبلیک لسٹ میں دھکیلنےکیلئے بھارت نےبہت زورلگایا ،تمام ترکوششوں کےباوجودناکام ہوگیا، ایف اےٹی ایف اجلاس میں پاکستانی کوششوں کی تعریف کی گئی، امید ہے پاکستان جلدگرے لسٹ سے نکل کر وائٹ لسٹ میں آجائےگا ،منی لانڈرنگ کیخلاف پاکستانی اقدامات کی دنیاقائل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان قیام امن سےپاکستان سمیت پوراخطہ مستفیدہوگا، افغانستان کی تعمیرنومیں پاکستان کوکردار ادا کرنے کا موقع میسر آئےگا، پاکستان ، افغانستان میں دو طرفہ تجارت کوفروغ ملےگا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ ماضی میں ہماری زیادہ توجہ مغربی سرحدپرمرکوزرہی، سب جانتے ہیں مشرقی سرحد پر بھی صورتحال خاصی نازک ہے، کسی کوتوقع تھی افغان طالبان ، امریکا ایک میز پر بیٹھیں گے؟ اور رخنہ اندازی میں پاکستان مصالحانہ کردار ادا کر پائےگا؟

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ جب ہماری حکومت آئی تو ساری خرابی کاموجب ہمیں قراردیا جارہا تھا، پاکستان پر انگلیاں اٹھائی جا رہی تھیں، جنوب ایشیائی حکمت عملی آپ کےسامنےہے، آج اس کے برعکس پاکستان کے کردار کو سراہا جارہا ہے، پاکستان نے بڑی ذمہ داری قبول کی اور نبھائی ۔

انھوں نے مزید کہا کہ ساری ذمہ داری توہم نہیں اٹھاسکتے، افغانستان کےلوگوں اوروہاں کی قیادت نےفیصلہ کرنا ہے، وہاں کےلوگ فیصلہ کرینگےکہ وہ کیسے اسے آگے لے کر چلیں گے، مصالحانہ کردار اداکرنےکی حامی بھری اس میں اللہ نے سرخرو کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں