
ون پوائنٹ
نوید نقوی

==============
پاکستان اور سعودی عرب مسلم دنیا کی دو نامور طاقتیں ہیں۔ پاکستان واحد نیو کلیئر پاور اور سعودی عرب مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات کی وجہ سے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ان دونوں کے تعلقات قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہمیشہ گرم جوشی اور خلوص پر مبنی رہے ہیں۔ پاکستان جو آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا مسلم ملک ہے اور واحد ایٹمی طاقت بھی ہے ہمیشہ سعودیوں کی نظر میں دفاعی لحاظ سے امید کی کرن رہا ہے۔ سعودی عرب نے بھی پاکستان کے مشکل معاشی حالات میں ہمیشہ مدد کی ہے اور اس وقت بھی ستائیس لاکھ کے قریب پاکستانی سعودی عرب میں رہ رہے ہیں جن کی وجہ سے کروڑوں ڈالرز کا زرمبادلہ پاکستان آتا ہے۔ پاکستان میں زلزلہ ہو یا سیلاب جیسی آفات سعودی عرب نے ہمیشہ آگے بڑھ کر امداد کی ہے اور یوں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ دہائیوں سے برادرانہ تعلقات قائم رکھے ہیں۔ لیکن ان تعلقات میں نیا موڑ اس وقت آیا جب 17 ستمبر کو پاکستان اور سعودی عرب نے ” اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے” پر دستخط کیے۔ ڈاکٹر عبدالواجد خان صاحب ہیڈ آف میڈیا اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور رہے ہیں اور میرا استاد محترم کے ساتھ اب بھی رابطہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس معاہدے سے یقیناً مسلم دنیا میں اتحاد کی ایک امید پیدا ہوئی ہے کیونکہ ایران نے بھی اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ یہ معاہدہ خطے کی تقدیر بدل دے گا۔ اس وقت ریاض
اور اسلام آباد کے تعلقات اپنی بلندیوں پر ہیں اور پاکستان نے جب مئی 2025 میں تین روزہ جنگ میں بھارت کو شکست دی تھی تو سعودی عرب نے فیصلہ کر لیا تھا کہ امریکہ کے متبادل پاکستان ہماری سیکیورٹی کا ضامن بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں اس معاہدے میں درج ہے کہ ایک ملک پر ہونے والا حملہ دوسرے پر بھی حملہ تصور ہوگا، بظاہر یہ الفاظ اپنے معنوی اعتبار سے سخت یا گہرے نہیں ہیں لیکن اس کے اثرات دور رس اور دیرپا ہوں گے۔ پاکستان کی اہمیت میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ عرب دنیا کے ساتھ تاریخی رشتوں میں اب دفاع کا لفظ بھی آ گیا ہے جس سے یقیناً دونوں کے رشتوں میں ایک تجدید نو ہوئی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات روٹین کے دو دوست ممالک کے تعلقات سے بڑھ کر ہیں۔ ان کی بنیاد مشترکہ مذہب، تاریخ اور مسلم دنیا کے تئیں مشترکہ ذمہ داری اور فکر پر ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک سعودی عرب نے پاکستان کا مشکل وقتوں میں ساتھ دیا ہے، بالخصوص معاشی بحران میں تیل کی سہولت اور مالی امداد فراہم کی۔ اس کے بدلے میں پاکستان نے اپنی عسکری مہارت اور افرادی قوت مملکت کو فراہم کی ہے، سعودی افسران کی تربیت کی ہے، مشترکہ فوجی مشقیں کیں اور ارض مقدس کی سلامتی کے لیے اپنی افواج کو تعینات کیا ہے۔ 1967 سے اب تک پاکستان 10000 کے قریب سعودی افواج کے افسران و اہلکاروں کو جدید جنگی تربیت دے چکا ہے۔ بھارتی اور
مغربی میڈیا میں اس معاہدے کے ممکنہ جوہری پہلوؤں پر بہت قیاس آرائیاں کی گئی ہیں۔ بلکہ بھارت میں تو ہلچل مچی ہوئی ہے کہ پاکستان اب امریکہ کی جگہ عرب ریاستوں کی حفاظت کرے گا۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کا کل رقبہ 2,149,690 مربع کلومیٹر ہے اور اس کی مجموعی آبادی جولائی 2025 تک تقریباً 3 کروڑ 53 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جس میں سعودی شہریوں کی تعداد ایک کروڑ 88 لاکھ اور غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد تقریباً 1 کروڑ 65 لاکھ ہے۔ جبکہ اس کی فعال مسلح افواج کی تعداد دو لاکھ پچپن ہزار 255000 ہے۔ سعودی عرب دنیا میں فوجی طاقت کے لحاظ سے 24 ویں نمبر پر ہے۔ دوسری طرف پاکستان کا کل رقبہ 796096 مربع کلومیٹر ہے اور اس کی کل آبادی پچیس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ جدید ائیر فورس اور نیوی پر مشتمل جدید افواج بھی رکھتا ہے۔ پاکستان ملٹری لحاظ سے دنیا میں گلوبل فائر پاور 2024 کی رپورٹ کے مطابق، 9 ویں نمبر پر تھا۔ بھارتی میڈیا میں پاکستانی ایٹم بم کو لے کر ایک غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کا ایٹم بم اب سعودی عرب کا بھی ہے، یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں ذمہ دار ریاستیں ہیں جو جوہری عدم پھیلاؤ کے اصولوں کی پابند ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان بطور جوہری طاقت اس معاہدے کو قدرتی طور پر ایک سٹریٹجک وزن دیتا ہے۔ معاہدے میں تمام عسکری ذرائع استعمال کرنے کے عہد میں جو ابہام ہے، وہ کسی بھی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط ڈیٹرینس بھی فراہم کرتا ہے اور انہی الفاظ کو لے کر بھارتی میڈیا پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ اس معاہدے پر ویسے تو کافی عرصے سے کام جاری تھا لیکن دستخط ایسے وقت ہوئے جب مشرق وسطیٰ پر غیر یقینی اور جنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ غزہ میں اسرائیل کی بربریت سے انسانی المیہ جنم لے چکا ہے۔ اسرائیل اب شام، لبنان ، یمن اور ایران سے ہوتا ہوا ہے قطر جیسے ممالک پر بھی حملہ کر چکا ہے جو بطور ثالث اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ یہ بڑھتی ہوئی جرآت اور جارحیت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیل عالمی دباؤ سے بے نیاز ہو کر کارروائیاں کر رہا ہے اور پس پردہ امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے، اب ضرورت اس بات کی تھی کہ اسرائیل کو کہیں نہ کہیں نکیل ڈالی جائے۔ اس پس منظر میں پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ ایک اضافی سلامتی کی ضمانت فراہم کرتا ہے، یہ اسرائیل اور اس کے اتحادی امریکہ تک واضح پیغام بھی ہے کہ اسرائیل اپنی لمٹ کراس کر رہا ہے اور اب اس کو سخت جواب دیا جائے گا۔ اس معاہدے سے جہاں سعودی مملکت کو وسیع تر تحفظ کا احساس ہوا ہے وہیں پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت میں بہت اضافہ بھی ہوا ہے اور اب پاکستان عالمی و علاقائی فورمز میں زیادہ مؤثر طاقت بن چکا ہے۔ پاکستان کی انڈیا کے ساتھ مئی میں ہونے والی جنگ میں شاندار عسکری کارکردگی نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اس کی مسلح افواج ہر محاذ پر بے مثال ہیں۔ یہی جنگی مہارت اس دفاعی معاہدے کو مزید وزن اور طاقت دیتی ہے۔ اس معاہدے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ جبکہ پاکستان کی موجودہ قیادت ملکی سلامتی کے تقاضوں کو بہتر انداز میں سمجھتی ہے۔ وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف نے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں دن رات کام کیا اور یوں یہ تاریخی معاہدہ ہوا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اندرون اور بیرون ملک ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر سراہا جا رہا ہے۔























