سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کا کراچی میں کامیاب انعقاد خوش آئند ہے

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ پی ایس ایل کا کراچی میں کامیاب انعقاد خوش آئند ہے اس سے نہ صرف کرکٹ بلکہ کراچی کی رونقیں بھی بحال ہوئی ہیں پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد پر تمام ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب کچھ اچھی ثابت نہیں ہوئی افتتاحی تقریب میں شہریوں کو بھی مزہ نہیں آیا لوگوں کو بڑی توقعات تھیں میری خواہش ہے کہ اس بار لاہور قلندر فائنل جیتے، فیاض الحسن چوہان اپنی بد زبانی کی وجہ سے مشہور ہیں انہیں پیپلزپارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری پر تنقید زیب نہیں دیتی وہ گزشتہ روز کراچی کے مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حلیم عادل شیخ کو سیکورٹی دینا پولیس کا کام ہے پی ٹی آئی کے مطابق تو آئی جی سندھ اچھا کام کررہے ہیں اگر آئی جی اچھا کام کررہے ہیں تو پھر سیکورٹی کی کیا ضرورت ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل کو اٹارنی جنرل تعینات کرنے سے ثابت ہوگیا کہ پی ٹی آئی حکومت سابق صدر آصف زرداری کے لوگوں سے مطمعن ہے اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ خرابی پیپلزپارٹی میں نہیں پی ٹی آئی کے دماغ میں ہے پی ٹی آئی کوئی جماعت نہیں بلکہ بے وقوف لوگوں کا مجمع ہے۔ قبل ازیں اپنے خطاب میں بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ نیشنل کمیشن کو فوری بننا چاہئیے، جس ملک میں تحریری طور پر آئین موجود ہو وہاں شخصیات نہیں بلکہ قانون برتر ہوتا ہے، ہمیں اپنے گورننس کے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے اب ہر انسانی مسئلہ عدالت میں لے جایا جارہا ہے ہیومن رائٹس کمیشن کے تحت مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ ہم شفافیت پر یقین رکھتے ہیں سندھ اسمبلی سے منظور کردہ ہر قانون اسمبلی کی ویب سائٹ پر موجود ہے قانون کو ہر شہری کو رسائی حاصل ہے ہم نے شہریوں کی آسانی کے لئے مختلف قوانین کے اردو اور سندھی زبان میں ترجمے کروائے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ ہمیں منفی چیزوں سے نکل کر مثبت چیزوں کو دیکھنا چاہئیے اگر کوئی اچھا کام ہورہا ہے تو اسکی تعریف بھی کرنا چاہئیے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ یہ ملک ہمارا اپنا ہے اسے مستحکم کرنے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا یہ سندھ حکومت ہی ہے جس نے قیدیوں کے حقوق سے متعلق ڈیڑھ سو سال پرانے قانون کو تبدیل کیا ہے قوانین پر اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے پولیس کا قانون بنایا ہے پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں حکومت کے ساتھ اپوزیشن کے ارکان بھی شامل ہیں۔ سندھ حکومت کے پروگراموں کو عالمی ادارے بھی سراہ رہے ہیں۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں