فلموں سے زیادہ ڈراموں کا شوق ہے : زارا انور عباس

انٹرویو: محمد ناصر
ہم دونوں میاں بیوی کی پہلی شادیاں ناکام ہوچکی ہیں،اسد اور میرے درمیان ذہنی ہم آہنگی ہے

ناظرین مجھے سپورٹ کرتے ہیں، میری چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی حوصلہ افزائی کرکے بہت بڑا بنا دیتے ہیں
میرے اندر سے بشریٰ انصاری یا اسما عباس کی جھلک نظر آئے تو یہ میرے لئے فخر کی بات ہے۔
زارا نور عباس نے پاکستانی شوبز میں بہت کم وقت میں بہت نام کما لیا ہے، اگرچہ ابھی اُنہیں کام کرتے ہوئے صرف تین برس ہوئے ہیں تاہم ان کے کردار شبّو، حیا اور رانی بہت مقبول ہیں۔گذشتہ برس اُنہوں نے دو فلموں میں کام کیا اور دونوں ہی باکس آفس پر بہترین بزنس کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ 2016 میں ڈراموں سے فنّی سفرکا آغاز کرنے والی زاران دنوں آئی ایس پی آر کے ڈرامہ ’عہد وفا‘ میں ”رانی“ کا کردار ادا کررہی ہیں، جو اپنے اَلَّھڑ اوربانکپن کی وجہ سے کافی مقبول ہے۔ زارا نور کی منفرد، چلبلی، دیسی اور جاندار ادکاری کے خوب چرچے ہیں ”رانی“ کے کردار نے اُنہیں مداحوں میں پہلے سے بہت زیادہ مقبول اور دل کے قریب کردیا ہے۔ زارا نور اداکاری کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی حصہ لے رہی ہیں، وہ پاکستان میں مقیم خواتین مہاجرین کو بااختیار بنانے کیلئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے ساتھ منسلک ہوکر کام کررہی ہیں۔ اداکارہ نے انسٹاگرام پر ان مہاجرین کی مشکل حالات میں بھی بہادری کا مظاہرہ کرنے پر تعریف کی۔ کچھ دِن قبل زارا نور عباس سے اُن کی نجی زندگی، فنی مصروفیات اور مستقبل کے حوالے سے بہت ہی دلچسپ سوال و جواب ہوئے جو نذرِ قارئین ہیں۔
٭…… فن کا سفر کیسے شروع ہوا اور کچھ اپنے بارے میں بھی قارئین کو بتائیں؟۔
زارا نور عباس…… کیا بتاؤں؟۔ سب کو معلوم ہے، آپ گوگل سرچ کرلیں (قہقہہ) لاہور میرا شہر ہے۔ اصل نام زارا نور صدیقی ہے۔ 2017؁ء میں ڈرامہ ”خاموشی“ میں کردار ملا اور اُسی سے پہچان ملی۔ میرا پہلا ڈرامہ ”دھڑکن“ ہے۔ آج کل میرا ڈرامہ ”عہد وفا“ آن ایئر ہے جو آئی ایس پی آر کا تیار کردہ ہے اور اس کے بعد سے مسلسل کام کررہی ہوں۔ مشہور ڈراموں میں دھڑکن، لمحے، قید، دیوار شب، فلم ”چھلاوا“، ”پرے ہٹ لو“ میرے ہاٹس ہیں۔ میں نے فلم ، ڈیزائننگ، ڈانسنگ، تھیٹر، فلم میکنگ کا کورس کیا ہے، گریجویٹ ہوں اور 2017 میں دوسری شادی کی۔ میرا تعلق مڈل کلاس سے ہے، اسکول کے دوران رقص کے مقابلوں اور مختلف ڈراموں میں کام کیا۔ اسی دوران ایران میں کسی ڈرامے کے حوالے سے پیشکش ہوئی، اپنے والد سے بات کی اور اُنہوں نے منع کردیا، پھر میں نے امی سے بات کی، اُنہوں نے کہا کہ پہلے تم حجاب کرو۔ میرے والد کو پردہ پسند ہے لہٰذا میں نے حجاب کیا اور والد سے دوبارہ بات کی اور وہ راضی ہوگئے۔ ایران سے واپسی پر مجھے ایک اور ڈرامے کی آفر ہوئی اور میں نے اپنے والد سے بات کرنے کی بجائے والدہ سے بات کی اور میری والدہ اور خالہ وہ ڈرامہ دیکھنے آئے اور میری خوب تعریف کی۔ پھر اندازہ ہوا کہ میں ایکٹنگ کرسکتی ہوں اور مواقع مل رہے ہیں تو پھر میں نے اپنے والدین سے بیٹھ کر بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ جان چھوڑ ہماری شادی کرلو اور پھر جو کرنا ہے کرو!۔ یہ بات سن کر میں ایک لمحے کیلئے سکتے میں آگئی پھر سوچا کیوں نہ اُن کی بات مان لی جائے۔ اِسی دوران میرا امریکا جانا ہوا وہاں ایک بندے سے ملاقات ہوئی جو مجھ سے شادی پر رضا مند تھا اور اسے میری ایکٹنگ کرنے پر کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ پھر ہم نے شادی کا فیصلہ کیا لیکن بعد میں مجھے یہ احساس ہوا کہ جن باتوں کی وجوہات کی بنا پر میں نے شادی کی وہ سب غلط تھیں۔ پھر میں نے ایکٹنگ کا فیصلہ کیا اور یوں میری طلاق ہوئی اور میرے گھر والوں کو بھی اس کا احساس ہوگیا تھا اور اُنہوں نے میرا فیصلہ بھی قبول کرلیا۔ اِسی دوران میری والدہ کو کینسر کا مرض تشخیص ہوا اور میری ساری توجہ امی کی طرف رہی،ڈاکٹروں نے اُن کی کیمیو تھراپی کی اور اللہ کے فضل سے وہ ٹھیک ہوگئیں اور اُنہوں نے بیماری کا بڑی ہمت سے مقابلہ کیا۔


٭…… دوسری شادی کیسے ہوئی؟۔
زارا نور عباس…… اسی دوران ایک فلم کے پریمیئر میں میری اور صدیقی سے ملاقات ہوئی جو عدنان صدیقی کے کزن بھی ہیں، اُنہوں نے بھی اپنی پہلی بیگم کو طلاق دے رکھی تھی، پھر ہم دونوں قریب آئے، ہمارے درمیان محبت کا رشتہ قائم ہوا اور ہم نے 2017 میں شادی کرلی۔ اسد نے کبھی میرے کام پر اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی وہ میرے کام میں مداخلت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں تم جس طرح چاہے کام کرو جو من چاہے وہ کرو۔
٭…… پہلی شادی کیوں ناکام ہوئی؟۔
زارا نور عباس…… والدین کہتے تھے کہ شادی ایک جوا ہے اور یاد رکھیں کہ رشتے عزت اور احساس پر بنتے ہیں، پیار محبت عشق مل جائیں تو زندگی کا مزہ دوبالا ہوجاتاہے لیکن پیار، محبت اور عشق میں عزت اور احساس نہ ہو تو وہ میاں بیوی کا رشتہ ہو یا کوئی بھی رشتہ تادیر قائم نہیں رہ سکتا۔
٭…… طلاق کے بعد گھر اور رشتہ داروں کا رویہ کیسا تھا؟۔
زارا نور عباس…… جاگیردار انہ گھرانے میں طلاق کا ہو جانا ہم سب کیلئے بہت بڑی بات تھی، میرے ابا فوج میں کرنل رہ چکے ہیں، میں گھر کی اکلوتی بیٹی اور تین بھائیوں کی بہن ہوں۔ایسے جاگیردارانہ اور قابل عزت گھرانے میں طلاق کا ہوجانا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ خیر! طلاق کے بعد شروع میں تھوڑا ڈپریشن ہوا لیکن وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو گیا۔ گھر والوں نے مجھے سپورٹ کیا اور کہیں بھی میرے حوصلے کو ٹوٹنے نہیں دیا۔والد اور والدہ دونوں ہی کینسر کا شکار ہونے کے بعد صحت مند ہوئے ہیں، میں ان دونوں بہادر کی بیٹی ہوں۔ میں نے گھر والوں سے اور اپنی زندگی سے یہی سیکھا ہے کہ کوئی مسئلہ آجائے تو اس کا سامنا کرو، اس سے باہر نکلنے کی بھر پور کوشش کرو اور پھر اُٹھ کر کھڑے ہو جاؤ۔
٭…… آپ کی دوسری شادی تقریب کیسی تھی؟۔
زارا نور عباس…… نکاح گھر پر ہوا تھا، ولیمے کی تقریب کیلئے ایک ڈیزائنر سے کپڑے مانگے کیونکہ میں لاکھوں کا جوڑا بنا کر لاکھوں روپے ضائع نہیں کرسکتی، شادی پر زیوارات بھی اپنی دوست سے لئے حالانکہ اس نے کہا تھا کہ یہ زیورات میں تمہیں تحفے میں دینا چاہتی ہوں لیکن میں نے منع کردیا کہ بہن! میں ایسے مہنگے تحفے لینا ہی نہیں چاہتی۔ دوست نے میرا ساتھ دیا اور تقریب کے بعد میں نے زیورات واپس کردیئے۔ اسد اور میرے گھر والوں نے چھوٹی سی تقریب رکھی تھی اس پر بھی آدھا آدھا خرچ دونوں نے ملکر کیا تھا۔
٭…… اب خاوند کے ساتھ پیار، عشق اور محبت سب قائم ہے؟۔
زارا نور عباس…… تقریباً سب ہی جانتے ہیں کہ ہم دونوں میاں بیوی کی پہلی شادیاں ناکام ہوچکی ہیں۔اسد اور میرے درمیان ہیلو جان، کیسی ہو کہاں ہو والا معاملہ نہیں ہے کیونکہ ہم دونوں نے ہی اپنا رومانس والا بچپنا گزار لیا ہے۔آج میرے خاوند اور میرے درمیان پیار اور محبت سے زیادہ عزت اور احترام کا رشتہ ہے۔


٭…… اسد کو اگر لڑکیاں وش کریں تو کیسا لگتا ہے؟۔
زارا نور عباس…… اس حقیقت ہے اس سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا اسد ہینڈ سم ہیں، جوان ہیں جبکہ لڑکیاں حسین لگتی ہیں تو لگتی ہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔ آپ کسی بھی انسان کو اپنے پاس زور سے پکڑ کر رکھیں گے تو اس کا دم گھٹ جائے گا، اس لئے میں اُنہیں پکڑکر نہیں رکھتی، میں اسد کو پٹری پر رکھتی ہی نہیں ہوں جو اُتریں گے، اُن کی مرضی ہے وہ جو کرنا چاہیں کریں۔ ایک سیٹ پر تو اُن کے منہ سے نکل گیا آئی لو گرلز۔ وہاں موجود سب لوگ اُنہیں دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے۔ ویسے اسد میرے ساتھ بہت تعاون کرتے ہیں جب میں کام پر جاتی ہوں تو اُن کا کوئی فون نہیں آتا۔
٭…… شوہرکے ساتھ کسی ڈرامہ میں کام کیا ہے؟۔
زارا نور عباس…… عثمان مختار میرے ساتھ ڈرامہ کرنے والے تھے لیکن پھر سنا کہ اُن کی ڈیٹس میچ نہیں ہوئیں تو عثمان یہ ڈرامہ نہیں کر پائے۔ خوش قسمتی سے اسد کی ڈیٹس اس سیریل کیلئے میچ ہوگئیں۔ لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اگر عثمان اس سیریل میں ہوتے تو وہ بھی بہت اچھا کام کرتے۔ ویسے ایک بات بتاؤں کہ اسد نے مجھے اس سیریل میں بہت بڑا سرپرائز دیا۔ جس دِن میں سیٹ پر گئی تو سامنے اسد کھڑے تھے، میں نے اُن سے کہا کہ یہاں تو عثمان کو ہونا تھا آپ یہاں کیسے؟۔ تو اُنہوں نے کہا کہ دیکھو! میں تمہارے لئے یہاں آگیا، تو اس طرح میرے شوہر اس سیریل میں شامل ہوئے۔ پہلے تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ناظرین ہم دونوں کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن لوگوں کی توقعات اور پیار کو دیکھ کر میں خود بھی حیران ہوں۔ آج اندازہ ہورہا ہے کہ ناظرین کو حقیقی جوڑوں کو ایک ساتھ دیکھنا کتنا اچھا لگتا ہے۔
٭…… شوبز کے حوالے سے خاوند کا رویہ کیسا ہے؟۔
زارا نور عباس…… میرے شوہر میرے بہت اچھے دوست ہیں، اُن سے میری ڈائیلاگ بازی نہیں چلتی لیکن ہم دونوں اپنے رشتے کو بہت زیادہ پریکٹیکل طریقے سے چلا رہے ہیں۔
٭…… یہ ”پکو“ کون ہے ؟۔
زارا نور عباس…… جب میں پیدا ہوئی تو کافی ”پنک“ تھی اسی لئے گھر والے پیار سے مجھے پکو کہنے لگے، آہستہ آہستہ یہ نام میری سہیلیوں کو پتہ چلا تو وہ بھی مجھے اِسی نام سے پکارنے لگ گئیں۔ انڈسٹری کی کچھ لڑکیاں بھی مجھے پکو ہی کہتی ہیں۔
٭…… حالیہ مشہور ڈرامہ میں انتخاب کیسے ہوا؟۔
زارا نور عباس…… دراصل میں ”پرے ہٹ لو“کی پروموشن میں مصروف تھی اس دوران ”مہیش وسوانی“ جوکہ میرے بہت پیارے دوست ہیں، اُنہوں نے کہا کہ ایک ڈرامہ ہے جس کے سیفی حسن ہدایتکار ہیں، مجھے ذاتی طور پر بھی سیفی حسن کے ساتھ کام کرنا تھا، بہرحال شہریار ”پرے ہٹ لو“ کے پروڈیوسر تھے میں نے اُن سے 4 دِن کی اجازت لی کہ میں اس ڈرامے کے سین مکمل کرکے چار دِن میں واپس فلم کی پروموشن کیلئے آجاؤں گی، شہریار بہت اچھے انسان ہیں جنہوں نے اپنی فلم کی پروموشن کے درمیان سے مجھے اس ڈرامے کے سین عکس بند کرنے کیلئے جانے کی اجازت دی۔ میں گئی اور ڈرامے کے کچھ سین عکس بند کراکے واپس آگئی، واپس پہنچ کر میں نے سوچا کہ یہ 4 لڑکوں کا ڈرامہ ہے، میں نے کیوں اس میں کام کرلیا لیکن جیسے جیسے یہ ڈرامہ چلتا رہا ویسے ویسے مجھے بہت زبردست فیڈ بیک ملنا شروع ہوا۔ میں  حیران ہوگئی آج میں اُن تمام ناظرین کی شکر گزار ہوں جو میرے کام کو سراہتے ہیں، میری سپورٹ کرتے ہیں، میری چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی حوصلہ افزائی کرکے بہت بڑا بنا دیتے ہیں اور ”رانی“ کے کردار کو بے انتہا پسند کررہے ہیں۔


٭…… کونساکردار ادا کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے؟۔
زارا نور عباس…… جی بالکل! میرا تعلق پنجاب سے ہے اس لئے مجھے دیسی لڑکی کا کردار ادا کرنے میں بہت مزہ آتا ہے، ویسے تو مجھے پٹھان اور سرائیکی لڑکی کا کردار اداکرنے کا بھی بہت شوق ہے، ایک دو کردار پہلے کر چکی ہوں لیکن دیسی لڑکی کے کردار نے مجھے مزید نکھار دیا ہے، میں ایسے کردار اِسی لئے کرنا چاہتی ہوں تاکہ کچھ نہ کچھ سیکھتی رہوں اور اب میرا شوق مزید بڑھ گیا ہے کہ میں دیہاتی، سرائیکی اور پٹھان لڑکیوں کے کردار کروں۔
٭…… کونسا کردار زیادہ پسند ہے؟۔
زارا نور عباس…… ”خوشبو“ کا کردار میرا پسندیدہ ہے کیونکہ وہ میری فلم کا پہلا کردار تھا۔ اسی طرح میں ”حیا“ کو بھی نہیں بھول سکتی اور یہ دونوں ہی کردار میرے دِل کے بہت قریب ہیں، اب تک میں اِن دونوں کرداروں کے ساتھ بہت خوش ہوں۔
ٓ٭…… آپ کی ایک نئی سیریل کا بھی کافی چرچہ سنا ہے؟
زارا نور عباس…… اس سیریل کا نام ہے ”زیبائش“ ہے،ابھی اس کی شوٹنگ چل رہی ہیں، یہ ڈرامہ میں نے اپنے خاوند اسد کے ساتھ ملکر کیا ہے، ویسے یہ پہلا ڈرامہ ہے جو میں اپنے شوہر کے ساتھ کررہی ہوں۔ یہ سیریل خالہ بشریٰ انصاری نے لکھا ہے جو میری والدہ کا کردار نبھا رہی ہیں، اس میں میری والدہ اسماء عباس بھی ہیں اور اِسے اقبال حسین نے ڈائریکٹ کیا ہے۔ بہت جلد یہ سیریل ناظرین کو ٹیلی ویژن اسکرین پر نظر آئے گا۔ اس میں بابر علی بھی میرے ساتھ کام کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ میرا کردار بھی بہت مختلف ہے۔ یعنی اس سیریل میں میرا کردار مثبت سے منفی کی طرف جائے گا، مجھ تو لگ رہا ہے کہ میرا یہ کردار بہت اچھا ثابت ہوگا کیونکہ اس سے پہلے میں نے ایسا کردار کبھی بھی نہیں کیا۔ اس لئے میں اپنے اس سیریل کے حوالے سے بہت پُر جوش ہوں اور اُمید کرتی ہوں کہ ناظرین کو بھی یہ ڈرامہ بہت پسند آئے گا۔ اس کے علاوہ یہ ڈرامہ میرے کامیڈی کام سے ذرا ہٹ کر ہے۔
٭…… 4 فلموں کی آفر ہوئی سب کو منع کیوں کیا؟۔
زارا نور عباس…… مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ فلموں کے جو کردار مجھے دیئے جارہے تھے وہ ویسے ہیں جو میں تقریباً کر چکی ہوں، یعنی وہ کردار شبو اور حیا کے آس پاس ہی تھے، بہرحال میں چاہتی ہوں کہ اب جو فلم بھی میں کروں اس میں خوشبو  اور حیا کی پرچھائی بھی نہ ہو۔ لہٰذا اس وقت تک تو میں ”پرے ہٹ لو“ اور ”چھلاوا“ کے ساتھ ہی بہت خوش ہوں۔ اس لئے 2020 میں مجھے فلموں کا نہیں البتہ ڈراموں کا مجھے بہت شوق چڑھا ہوا ہے۔ ”زیبائش“ اور ”عہد وفا“ کے علاوہ ایک اور ڈرامہ ہے جو ہم نے سرپرائز کے طور پر رکھا ہے اس حوالے سے جلد ہی میں اپنے پرستاروں کو آگاہ کروں گی۔
٭…… ”پرے ہٹ لو“ کی کاسٹ میں کیسے آگئیں؟۔
زارا نور عباس…… عاصم رضا نے ایک کمرشل کیلئے مجھ سے بات کی تھی، جس دِن میرا نکاح تھا وہ تقریب میں آگئے، اس کے بعد وہ کہنے لگے کہ مجھ اب تمہارے ساتھ کام کرنا ہے تم بہت اچھی لڑکی ہو، عاصم نے مجھ سے کہا کہ فلم میں تمہارا ایک سپورٹ رول ہے اور بہت چھوٹا رول ہے، بہت کم وقت میں میرا عاصم کے ساتھ بہت پیارا رشتہ بن گیا تھا۔ جیسے جیسے فلم بنتی گئی میر اکردار سپورٹ سے کچھ زیادہ ہوگیا اور میں فلم کے گانوں میں بھی آئی، کچھ سینز میں نہیں تھی وہاں بھی مجھے شامل کرلیا گیا۔


٭…… فلم ”چھلاوا“ کے حوالے سے کچھ بتائیں؟۔
زارا نور عباس…… میں نے اُس کردار کے حوالے سے اپنی خالہ بشریٰ انصاری سے کوئی مدد نہیں لی اب چونکہ وہ میری خالہ ہیں لہٰذا کردار میں کہیں نہ کہیں اُن کی جھلک تو نظر آئے گی ہے۔ اس کے علاوہ بشریٰ انصاری کامیڈی کوئن ہیں، اگر لوگ میرا موازنہ اُن کے ساتھ کررہے ہیں تو پھر یقین کریں میں بہت خوشی محسوس کررہی ہوں یہ سوچ کر کہ واقعی میں نے اداکاری میں کچھ کمال کر دکھایا ہے اور لوگ مجھے بشریٰ انصاری کے کام کے ساتھ ملا رہے ہیں۔ اس لئے میں کسی بھی تنقید کو منفی نہیں لیتی، اگر میرے اندر سے بشریٰ انصاری یا اسما عباس کی جھلک نظر آئے تو یہ میرے لئے فخر کی بات ہے کیونکہ اُنہیں اس انڈسٹری میں آئے ہوئے کئی برس ہوگئے ہیں اور مجھے اس انڈسٹری میں آئے صرف ڈھائی سال ہوئے ہیں، اب اِن دو ڈھائی سال میں، میں نے اُن جیسا کچھ کرلیا تو یہ ناصرف میرے لئے بلکہ میرے پرستاروں کیلئے بھی اچھی بات ہے جو مجھ میں اُن کی جھلک دینا چاہتے ہیں۔
٭…… فلم میں ڈانس کیسے کرلیا؟۔
زارا نور عباس…… ڈائریکٹر عاصم کی کئی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ وہ آرٹسٹ کو بہت زیادہ نکھارتے ہیں۔ میں ہر جگہ بیٹھ کر کہتی ہوں کہ عاصم میرے ”گاڈ فادر“ ہیں، میں اُن ہی کی ڈسکوری ہوں، اس کے علاوہ وجاہت رؤف ایسے شخص ہیں جو اداکار کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا بھر پور موقع دیتے ہیں، وہ ہدایتکار بن کر صرف ہدایت نہیں دیتے کہ تمہیں بس یہی کرنا ہے، وہ پوچھتے ہیں کہ اس سین کو آپ کیسے کرنا چاہتی ہو، آپ کس طرح اس سین کو مزید نکھار سکتی ہو،
کس انداز میں یہ لائن اچھی بول سکتی ہو لہٰذا یہ دونوں ہدایتکار بہت اچھے ہیں جن کا کام خود بولتا ہے اور ناظرین کو تو اِن کا کام اسکرین پر نظر آ ہی گیا ہے۔
٭…… مہوش حیات کے مقابلے میں ڈانس کرنا کیسالگا؟۔
زارا نور عباس…… میں نے کہیں بھی مہوش پر یا خود پر ہونے والی تنقید نہیں دیکھی اور سچ کہوں تو مہوش انڈسٹری کی وہ اداکارہ ہیں جو فلم میں اپنے ساتھ کام کرنے والی کسی بھی آرٹسٹ کو نظر نہیں آنے دیتیں کیونکہ وہ اتنی گلیمرس اور حسین ہیں کہ لوگوں کو اسکرین پر صرف اُن کا ہی چہرہ نظر آتا ہے، اب اُن کے ساتھ سیٹ پر رہ کر کام کرنا اُن کے ساتھ ڈانس کرنا میرے لئے تو بہت فخر کی بات تھی۔ اسی حوالے سے ایک بات میرے ذہن میں آگئی وہ بھی آپ لوگوں سے شیئر کرتی ہوں۔ مجھے یاد ہے ایک بار سیٹ پر ہماری پروڈیوسر شازیہ وجاہت کے ابو آئے اور اُنہوں نے آکر ہمیں دیکھتے ہوئے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے مادھوری اور ایشوریا ڈانس کررہے ہیں، میں پھر بتادوں کہ مادھوری اور ایشوریا بہت بڑے لوگ ہیں، اب ہماری پرفارمنس کو اُن سے ملایا گیا تو ہم دونوں بہت خوش ہوئیں۔ بات یہ ہے کہ ہم تربیت یافتہ ڈانسرز نہیں ہیں، ہمیں تو صرف بتا دیا جاتا ہے کہ فلاں گانے کا فلاں دِن شوٹ ہے، پھر ہمیں 6 دِن پہلے سے اس کی ریہرسل کرنا پڑتی ہے، اب اِن مختصر دِنوں میں بھی ہم اگر کچھ بہتر ڈانس کرلیتے ہیں تو میرے خیال سے ٹھیک ہی ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم کچھ بہتر ڈانس کرکے بہترین ڈانسر بن گئے ہیں، ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی صلاحیتیں مزید بڑھائیں، ہم اداکار ہیں تو ہمیں اپنی ہر چیز پر مزید کام کرنا چاہئے تاکہ جب وقت آئے تو وہاں ہم اپنا بہتر کام دے سکیں۔
٭…… ساتھی اداکارائیں کتنا تعاون کرتی ہیں؟۔
زارا نور عباس…… مہوش حیات کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے، ماہرہ جتنی بڑی سپر اسٹار ہیں اُن کا اتنا ہی بڑا دل ہے اور مایا کو تو میں بہت پہلے سے جانتی ہوں، جب میں ڈرامہ انڈسٹری میں نہیں آئی تھی اس وقت مایا میری والدہ کے ساتھ ایک ڈرامے میں کام کررہی تھیں، وہ میرے انڈسٹری میں آنے سے پہلے ہی میری صلاحیتوں سے کے بارے میں پراعتماد تھیں۔ ڈرامہ انڈسٹری میں قدم رکھنے سے پہلے ہی مایا نے میرے حوالے سے یہ شور مچانا شروع کردیا تھا کہ پکو کا ڈانس ایسا ہے، پکو کی اداکاری ویسی ہے، تو ڈرامہ انڈسٹری کے کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ اُن کی اتنی تعریف کررہی ہو تو پھر یقینا وہ اچھا ہی کام کرتی ہوں گی۔
٭…… آپ کو اپنی کونسی فلم پسند ہے؟۔
زارا نور عباس…… میری زندگی کا پہلا گانا میرا جی، مایا، ریچل اور احمد علی بٹ کے ساتھ شوٹ ہوا تھا اس کیلئے میں نے کافی ریہرسل بھی کی تھی اس گانے کا نام تھا ”اک پل بئی جانا“ وہ میرے دِل کے بہت قریب ہے۔ بلما بھگوڑا بھی پسندیدہ ہے لیکن ”اک پل بئی جانا“ کے ساتھ ایسوسی ایشن کچھ الگ قسم کی ہے۔ دراصل میرے لئے چیزوں میں جذباتی وابستگی ہمیشہ اہم رہی ہے۔ فلم ”پرے ہٹ لو“ میرے دِل کے ہمیشہ قریب رہے گی کیونکہ وہ میری پہلی فلم تھی چاہے وہ بعد میں منظر عام پر آئی ہو۔ عاصم رضا، وجاہت اور دیگر ہدایتکاروں کے ساتھ بھی میری جذباتی وابستگی ہے۔ میرے لئے وہی بیسٹ ہے۔ میرے لئے وہ اہم ہوتا ہے جس کے ساتھ میرا جذباتی لگاؤ ہوتا ہے۔
٭…… چھوٹا کردار ملا تو منع کردیں گی؟۔
زارا نور عباس…… اگر میرا کردار معاون اداکارہ کا ہے تو مجھے پہلے ہی آگاہ کردیا جاتا ہے، میں اُسی حساب سے سیٹ پر جاتی ہوں، اگر کوئی جگہ کسی دوسری ہیروئن مثلاً مایا یا ماہرہ کی ہے تو میں اس میں دخل اندازی نہیں کرتی نہ ہی مستقبل میں کروں گی۔ اس کے علاوہ مہوش کے ساتھ کام کرکے عدم تحفظ کا احساس نہیں ہوا۔ سیٹ پر پہنچ کر میں صرف اپنی ذات اور اداکاری پر توجہ دیتی ہوں پھر چاہے وہ کردار چھوٹا ہو یا بڑا۔
٭…… آپ نے کیٹ واک بھی کی، تجربہ کیسا رہا؟۔
زارا نور عباس…… کچھ ماڈلز نے مجھ پر کافی تنقید کی تھی، مجھے اس کا دُکھ بھی ہوا، میں نے اُن کی باتیں سوشل میڈیا پر شیئر بھی کی تھیں اور ساتھ ہی یہ لکھا تھا کہ آپ ماڈلز ہیں بہت اچھا کام کرتی ہیں لیکن ہم اداکار ہیں اور ہمیں اس طرح کے ایونٹ میں اداکاری کے پیسے ملتے ہیں۔ جس ماڈل نے مجھ پر تنقید کی کچھ دِن قبل وہ مجھے ایک جگہ ملیں ہم دونوں بہت پیار سے ملے ایک دوسرے کو گلے بھی لگایا۔ میں کسی کیلئے بھی دِل میں برائی نہیں رکھتی لیکن جھوٹ اور چیٹنگ بالکل برداشت نہیں کرسکتی۔


٭…… مزید پرفارمنس کا بھی ارادہ ہے کیا؟۔
زارا نور عباس…… ایک پرفارمنس ہے جو میں نے ”اسٹائل ایوارڈ“ کی تقریب میں دی ہے۔ اور وہ بہت جلد آنے والی ہے، وہ پرفارمنس میرے خیال سے میری سب سے بہترین پرفارمنس ہوگی۔
٭…… کس اداکار کے ساتھ کام کرنا چاھیں گی؟۔
زارا نور عباس…… ہمایوں سعید کے ساتھ کام نہیں کیا اور اِن کے حوالے سے تو میں ہر جگہ جاکر بول چکی ہوں کہ میں
اِن کے ساتھ ضرور کام کرنا چاہتی ہوں اور یہ بات میں نے اتنی جگہ کہی ہے کہ لوگ کہنے لگے ہیں کہ پہلے معلوم کرلو ہمایوں سعید تمہارے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ بہرحال وہ کام کرنا چاہتے ہیں یا نہیں لیکن میں اُن کے ساتھ ضرور کام کرنا چاہتی ہوں۔ پرے ہٹ لو“ کی پروموشن کے دوران ہی کسی نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ اب آپ کس کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہیں تو میں نے اسی وقت کہا تھا کہ میں ہمایوں سعید کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں اور اُن کیلئے میرا جواب ہر وقت تیار ہی رہتا۔ اس کے علاوہ علی ظفر اور فواد کے ساتھ بھی مجھے کام کرنا ہے۔
٭…… شاہ رخ خان کو پسند کرتی ہیں؟۔
زارا نور عباس…… شاہ رُخ خان اور اُن کا رومانس مجھے بچپن سے ہی پسند ہے۔
٭…… کام دلوانے میں خالہ کا کتنا ہاتھ ہوتا ہے ؟۔
زارا نور عباس…… کام صرف صلاحیتوں کی وجہ سے ملتا ہے، اور میں اچھا کام کرکے اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنا چاہتی ہوں۔ ہان ایک بات ہے کہ خالہ کے اداکارہ ہونے کے باعث لوگ سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں۔
٭…… بھانجی اور بیٹی ہونے کے نقصانات زیادہ ہیں یا فائدے؟۔
زارا نور عباس…… فائدہ اور نقصان دونوں ہیں، فائدہ یہ ہے کہ جس طرح انڈسٹری میں آنے والوں کو ہراسگی یا کسی قسم کے ناروا رویے کا ڈر ہوتا ہے تو یہ مجھے نہیں ہے، کوئی بھی ایسی ویسی بات کرنے سے پہلے سوچتا ہے کہ بات آگے ضرور جائے گی اور یہ بشریٰ خالہ کی وجہ سے ہے۔ بشری خالہ ہمیں بہت پیار کرتی ہیں اور ساتھ دیتی ہیں لیکن مجھے کام کبھی بشریٰ خالہ کی وجہ سے نہیں ملا۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں