
شمع جونیجو کا تعلق شہر کوٹری سے ھے ۔
کہتے ہیں کہ بچپن سے شمع جونیجو کا ڈراموں میں کام کرنے کا جنون تھا اور وہ اس جنون میں پاکستان ٹیلی ویژن پرپہنچ گئیں اور اور چھوٹے سے کردار سے اپنے فن کہ ابتتدا کی ۔
شمع جونیجو کا فن ابھی ابتدائی مرحلہ پر تھا کہ جمشید قاضی کی نظر شمع جونیجو پر ٹھر گئی اور وہ اس کے عشق میں مبتلا ہوگئے ۔
جمشید قاضی اسٹیٹ بینک کےسابق گورنر کی فیملی سے تھا یعنی اے جی این قاضی کے بھائی بی جی این قاضی کا پوتہ ھے ۔
جمشید قاضی کے والد سندھ یونیورسٹی میں پروفیسر تھے ۔
جمشید قاضی نے ٹی وی پر شمع جونیجو کا کیا دیکھا وہ تو اس کے ساتھ شادی پر اصرار کرنے لگا اور پھر عشق نے منزل پائی اور دونوں کی فیملی کے درمیان یہ شادی طے ھوگئی ۔
اسی درمیان جمشید قاضی جو پولیس کے اعلی عہدہ پر تھے انہیں یو این مشن پر سوڈان میں تعینات کیاگیا ۔
جمشید قاضی پیس کیمپنگ میں ملک سے باھر رھے جہاں سے وہ فیملی سمیت لندن منتقل ھوگئے اور وہ اپنی فیملی سمیت لندن میں رھائش پذیر ہیں ۔
شمع جونیجو نے لندن میں رہتے ھوئے سفارتی سطح پر مضبوط تعلقات قائم کرلئے اور پھر وہ اقوم متحدہ میں سفارتکاروں سے اپنے باھمی تعلقات کو مزید وسعت دیتے ھوئے اسرائیل کے ساتھ اپنے نئے تعلقات کو بروئے کار لاتے ھوئے پاکستان کے ان سیاسی پارٹیوں کی قیادت تک رسائی حاصل کرلی جو خفیہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حامی ھیئں ۔
شمع جونیجو اس وقت تک یہ سب کام ہیڈن کررھی تھیئن لیکن بعض حلقوں کے نزدیک وہ اس مشن پر مامور تھیں اور اس کو جو ٹاسک سونپا گیا تھا وہ اس پر کام کر رھیئن تھیں ۔
شمع جونیجو اسوقت منظر پر آئیں جب وہ وزیراعظم شہباز شریف کے خصوصی طیارہ میں لندن سے نیویارک پہنچی
شمع جونیجو کو طیارہ می کیا سوجھا کہ انہوں نے طیارہ سے جو ٹوئیٹ کیا اس نے تو جیسے بھونچال پیدا کردیا لیکن جلدی اس ٹوئیٹ کو ڈیلیٹ بھی کروا دیا گیا لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا سوشل میڈیا ایکٹو ھوچکا تھا اور اب شمع کو بہت سی ان دیکھی نگاہیں اس،کے پیچھے لگ چکی تھی ۔
شمع جونیجو بغیر پاس اور پرمیشن کے کس ملک کے ڈیلیگیسن کا حصہ کبھی نہیں بن سکتی وزارت خارجہ کے اس بھونڈی وضاحت کو کوئی شخص تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ۔
اور پھر وزیر دفاع خواجہ آصف کے پیچھے شمع جونیجو کی موجودگی اور تصویر نے جنگل میں آگ بھر کا دی
شمع جونیجو کو جس مقام تک پہچنا تھا وہ پہنچ گئی ۔

“مجھے وزیراعظم نے خود اقوام متحدہ کے وفد کا حصہ بنایا، اُن کے ساتھ سفر کیا، ایک ہی ہوٹل میں قیام کیا، بِل گیٹس ملاقات ماور کلائمیٹ کانفرنس میں بھی شریک رہی۔ شمع جنیجو کا ٹویٹ

خواجہ آصف صاحب! آپ کو پھر استعفیٰ دینا چاہیے، آپ مسلسل جھوٹ سے کام لے رہے ہیں۔ اگر آپ کو علم نہیں تو اتنی بڑی ذمہ داری والی وزارت کی کرسی کے آپ اہل نہیں۔”























