محکمہ جنگلات کی بہترین پرفارمنس کے باعث ریزرو فاریسٹ کیٹگری میں گزشتہ تین ماہ کے دوران 4 لاکھ 21 ہزار ایکڑ زمینوں کے ریکارڈ کا اندراج کیا گیا ۔وزیر جنگلات سید ناصر حسین شاہ

ریونیو ڈپارٹمنٹ سندھ کے پاس جنگلات کی ریزرو فا ریسٹ کیٹگری کی زمینوں کا اندراج 10 لاکھ 21 ہزار ایکڑ ہوگیا۔ جلدڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا، وزیر جنگلات کا اجلاس سے خطاب
کرا چی : صوبائی وزیر جنگلات و بلدیا ت سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ محکمہ جنگلات کے افسران کی دن رات کاوشوں کے نتیجے میں محکمہ جنگلات کے ریزرو فا ریسٹ کیٹٹگری میں اضافہ کیا گیا ہے یعنی 1892 تا2019 تک محکمہ جنگلات سندھ ریزرو فا ریسٹ کیٹگری میں زمین کا محکمہ لینڈ یوٹالائزیشن کے ریکارڈ میں اندراج صرف چھ لاکھ ایکڑ تک تھا جبکہ محکمہ جنگلات کے افسران کی بہترین پرفارمنس اور کاوشوں کے نتیجے میں گزشتہ دو تین ماہ کے دوران 4 لاکھ 21 ہزار ایکڑ ارا ضی کا اندراج کیا گیا ہے۔اس طرح اندراج بڑھ کر کل دس لاکھ 21 ہزار ایکڑ ہوگیا ہے اور جسے تسلیم کرلیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے دفتر میں ایک اجلاس کی صدارت کے موقع پر کیا۔اس موقع پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہدپرویز چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ ریاض وگن،چیف کنزرویٹر اعجازاحمد نظامانی، ڈپٹی کمشنر جامشورو کیپٹن فرید الدین کے علاوہ دیگر افسران بھی موجود تھے۔وزیر جنگلات نے اس موقع پر کہا کہ بورڈ آف ریونیو میں اندراج کے بعد اب یہ زمینں کسی کو بھی الا ٹ نہیں ہوسکتی اور کسی اور کا حق ان پر قائم نہیں کیا جا سکتا۔سید ناصر حسین شاہ نے ہدایات کی کہ محکمہ جنگلات اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ مشترکہ طور پر پرو ٹیکٹیو فا ریسٹ کے پچیس لاکھ ایکڑ کے قریب نوٹیفائیڈ زمینوں کا بھی لینڈ رجسٹرڈ میں اندراج مکمل کرے تاکہ اس زمین کو بھی محفوظ کیا جا سکے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ محکمہ جنگلات کی تمام زمینوں کا ریکارڈ ڈیجیٹلا ئزڈ کیا جارہا ہے تاکہ جنگلات میں ہونے والے ہر قسم کی نقل و حرکت کو مانیٹر کیا جا سکے اور محکمے کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔وزیر جنگلات نے ہدایت کی کہ بورڈ آف ریونیو اور کمشنرز کے دفاتر میں محکمہ جنگلات کی جانب سے دائر کی گئیں درخواستوں کا فیصلہ بھی جلد از جلد کیا جائے تاکہ محکمہ جنگلات کی زمینوں کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق قابضین سے خالی کروا کر ان زمینوں پر جنگلات لگائے جائیں۔سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں