جیو نیوز کے ملازمین کا تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ہڑتال ، کے یو جے دستور کا مکمل حمایت کا اعلان

اب تک نیوز ، کیپیٹل ٹی وی ،چینل 24، نوائے وقت گروپ اور دیگر چینلز و اخبارات میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی کی بھی مذمت
ٹی وی ون میں معاہدے کے باوجود تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر بھی تشویش کا اظہار
کراچی(پریس ریلیز ) کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے جیو نیوز میں انتظامیہ کی جانب سے وعدوں کے باوجود تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف صحافیوں اور دیگر ملازمین کی پر امن ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے ، کے یو جے دستور کے رہنماؤں نے ایک بیان میں جیو نیوز کی ورکرز کمیٹی کو پر امن اور مثبت انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیو نیوز کے ملازمین نے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ بہترین انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کر کے ایک اچھی روایت قائم کی ہے ۔
کے یو جے دستور کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ کئی کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور اس پر انتظامیہ کا رویہ انتہائی افسوس ناک ہے ، امید ہے کہ ملازمین کے پر امن احتجاج کے نتیجے میں میڈیا مالکان پر دباو بڑھے گا اور انکے مسائل حل ہو نگے ۔

جیو نیوز کے سی ای او میر ابراہیم الرحمن،ایم ڈی نیوز اظہر عباس اور ڈائریکٹر نیوز رانا جواد کی موجودگی میں گروپ ایم ڈی فنانس کامران حفیظ نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ ہر ملازم کو ہر 30 دن میں ایک تنخواہ ادا کی جائے گی اور 50 ہزار تک کی تنخواہ کی ادائیگی کے لیے ہر ماہ کی 10 تاریخ دی گئی تھی ۔جبکہ باقی بیجز کی تنخواہیں 20 سے 28 تاریخ کے دوران ادا کی جانا تھیں لیکن معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔
کے یو جے دستور کے رہنماوں نے اب تک نیوز ، کیپیٹل ٹی وی ،چینل 24، نوائے وقت گروپ اور دیگر چینلز و اخبارات میں بھی کئی کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر تحفضات کا اظہار کیا جبکہ ٹی ون انتظامیہ کی جانب سے ملازمین کو تنخواہوں اور بقایا جات کی ادائیگی کے معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے کی بھی شدید مذمت کی ہے ۔
رہنماوں کا کہنا تھا کہ تنخواہوں اور واجبات کی عدم ادائیگی نے صحافیوں اور میڈیا کے دیگر ورکرز کو بد ترین ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے جو صحافیوں کی اموات کا سبب بھی بن رہا ہے ، رہنماوں نے صورتحال پر وفاقی و صوبائی حکومتوں کی پر اسرا خاموشی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تنخواہیں ادا نہ کرنے والے صحافتی اداروں کے خلاف فوری طور پر ایکشن لیا جائے تاکہ صحافی اور میڈیا ہاوسز سے جڑے دیگر ملازمین اس زہنی و مالی پریشانی سے چھٹکارا پا سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں