
اسے وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ کے سرکاری وفد میں شامل نہی کیا اسے وزیر دفاع خواجہ خواجہ آصف نہی جانتا ، اس سے وزارت خارجہ نے بھی لاتعلقی کا اعلان کیا ہے مگر یہ پہلے سرکاری خرچ پہ پہلے لندن کے چرچل ہوٹل ٹھہری ، لوگوں نے سوال کیا کہ آپ تو لندن کی رہائشی ہیں تو سرکاری خرچ پہ ہوٹل اور وہ بھی مہنگے ترین ہوٹل میں تو یہ کہہ کر سرکار کے نیچے سے زمین کھسکا دی کہ حساس سرکاری فایلیں گھر لے کر تو نہی جاسکتی لہٰزا ہوٹل میں ہی رہ رہی ہوں ، یہ ایک بڑا دھماکہ تھا کہ ایک خاتون جو کسی سرکاری عہدے پہ فائز نہی وہ آخر کس حیثیت میں سرکاری حساس دستاویزات تک رسائی رکھتی ہیں اور کیوں ؟ اس انکشاف کے بعد حکومت کو چوکنا ہو جانا چاہئے تھا مگر یہ محترمہ جو اسرائیل پاکستان کی فوری دوستی کی خواہشیں میں پچھلے کئی سال سے مری جارہی ہیں اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد میں بڑے طمطراق سے شامل ہو گئیں اور وہ بھی بطور وزیراعظم کی ایڈوائزر کے ، سوال یہ ہے کہ ان کی اقوام متحدہ میں انٹری کے لئے وزارت خارجہ نے درخواست نہی دی تو یہ اندر کیسے گئیں
،صحافی اطہر کاظمی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سے سٹیفن ڈیو جیرک سے ای میلُ کر کے جواب مانگا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یو این مشن نیویارک کی درخواست پہ انہیں پاس جاری کیا گیا اب ہمارے یو این مشن والے اپنی مرضی سے تو کسی کو نا بلاتے ہیں اور نا ہی ان کا دائرہ اختیار ہے تو یہ نادر شاہی حکم صادر کس نے کیا ؟ یہ اہم سوال ہے جس کا جواب حکومت اور سفارت کاروں کے لئے وبال جان بنے گا ، سرکاری افسران اپنی ڈیوٹی کر رہے ہوتے ہیں انہیں جوُکہا جاتا ہے وہ ماننا پڑتا ہے تو سوال یہ ہے کہ کس نے سفارت کاروں کو کہا کہ انہیں اقوام متحدہ سے سرکاری پاس جاری کروایا جائے ؟ سوال اٹھنے کے بعد شمعہ جونیجو نامی اس خاتون نے بوکھلا کر ایک آدھ ٹویٹ نیتن یاہو کے خلاف بھی دے مارا مگر وہ بھول گئیں کہ ان کے دسیوں ٹویٹس ریکارڈ پہ 

موجود ہیں، میرے خیال میں تو حکومت کو اسے Disown نہی کرنا چاہئے تھا تاکہ اور ہزاروں خُبروں میں یہ بھی کہیں غائب ہو جاتی اور جان چھٹتی مگر نہی خواجہ آصف سمیت ہر کوئی اس سے ایسے دور بھاگا کہ سرخ بتیاں روشن ہوگئیں اور اب سازشی تھیوریوں کا طوفان تھم نہی رہا ، طوفان کیا تھمتھا ایک اور خاتون عایشہ فاروق جو اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ ہیں وہ بھی اقوام متحدہ کے اند بغیر کسی سرکاری عہدے اور فرض کے سرکاری طائفہ میں شامل ہو کہ جنرل اسمبلی میں تشریف رکھے ہوئے تھیں اب ان کی کیا سٹوری ہو وہ تو بعد میں پتہ چلے گی مگر اس مشہور فلم کا ڈائیلاگ یاد آگیا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟یہ کہاں سے آجاتے ہیں ؟ اور یہ کیوں آجاتے ہیں ؟ اس سوال کو جواب ہے مگر ہم صرف پوچھ سکتے ہیں جاننے کا حق ہمیں نہی ہے !























