مستعفی اٹارنی جنرل، وزیرقانون آمنے سامنے

پاکستان میں اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کے استعفے کے بعد وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم اور انور منصور خان کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔ صورتحال اس وقت ڈرامائی شکل اختیار کرگئی جب وزیر قانون نے انور منصور کے اس موقف کو جھوٹ قرار دیا کہ جسٹس قاضی فائزعیسی کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے بارے میں ان کے بیان سے متعلق حکومت کو علم تھا۔
جیو ٹیلی ویژن کے پروگرام شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت اٹارنی جنرل کے بیان سے مکمل لاعلم تھی۔ اٹارنی جنرل کیس کی تیاری کرکے نہیں آئے تھے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ بغیر تیاری کے آئے ہیں اور عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے مکمل جھوٹ بولا کہ ان کا بیان دراصل حکومت کا موقف تھا۔
اس سے قبل مستعفی اٹارنی جنرل انور منصور خان نے ڈان ٹی وی پر مہر بخاری کے پروگرام میں کہا تھا کہ انہوں نے عدالت میں بینچ سے متعلق جو بیان دیا وہ ان کا ذاتی موقف نہیں۔
18 فروری کو جسٹس قاضی فائز عیسی کیس کی سماعت کے دوران جب اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل کا آغاز کیا تو انہوں نے بحث سے متعلق بیان دیا جس پر بینچ کی جانب سے ردعمل سامنے آنے پر اور ایک مکالمہ کے بعد اٹارنی جنرل نے اپنا بیان واپس لے لیا تھا اور عدالت کی جانب سے اس صورتحال کو ناقابل اشاعت قرار دے کر رپورٹ کرنے سے منع کر دیا تھا۔
تاہم اس سے اگلے ہی دن کے اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں ججز کے ضابطہ اخلاق پر طویل دلائل دیئے جس کے بعد عدالت نے کہا کہ کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیس پر بات کریں۔ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نے گزشتہ روز جو بات کی اس پر عدالت میں تحریری شواہد جمع کرائیں یا پھر بینچ سے معافی مانگے۔


اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت میں کہا تھا کہ وہ اس حوالے سے تحریری شواہد جمع نہیں کرا سکتے۔
اس صورتحال پر سماعت کے فوری بعد اردو نیوز نے کمرہ عدالت سے باہر نکلتے ہوئے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم سے بات کرنا چاہیے اور پوچھا کہ عدالت میں جو کچھ ہوا اس پر ان کا کیا موقف ہے اس پر انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔
جسٹس قاضی فائز کیس میں اٹارنی جنرل نے دو دن دلائل اور دونوں دن وزیرقانون ان کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود رہے۔ سماعت سے قبل اور بعد میں بھی وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کے درمیان مشاورت ہوتی رہتی تھی۔
اٹارنی جنرل نے جمعرات کے روز صدر مملکت کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں موقف اختیار کیا تھا کہ کہ پاکستان بار کونسل نے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے اس لئے وہ مستعفی ہو رہے ہیں اور ان کا استعفی منظور کیا جائے۔
اس کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں تحریری جواب جمع کرا دیا ہے جس میں آیا ہے کہ اٹارنی جنرل نے جسٹس قاضی فائز کی سماعت کے دوران بینک سے متعلق جو بیان دیا یا حکومت اس سے لاتعلقی اختیار کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں