پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ اگر بھارتی کھلاڑی ہاتھ ملانے سے گریز کر رہے ہیں تو گرین شرٹس کو چاہیے کہ فائنل جیت کر خود دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔
کراچی میں نیپا اسپورٹس کمپلیکس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یونس خان نے کہا کہ کھلاڑیوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر کھیل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کو ملک و قوم کے لیے کھیلنا ہے، ذاتی مقاصد کے لیے نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر شاہین شاہ آفریدی ایشیا کپ میں بیٹنگ کر سکتے ہیں تو باقی کھلاڑیوں کو بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ شاہین میں آل راؤنڈر بننے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت فائنل میں آمنے سامنے آئے تو شائقین کے لیے یہ یادگار مقابلہ ہوگا، اور جیت کر کھلاڑیوں کو ثابت کرنا چاہیے کہ وہ بہترین اسپورٹس مین ہیں۔
یونس خان نے اعتراف کیا کہ پاکستانی ٹیم میں مستقل مزاجی کی کمی ہے، جیت کے لیے اچھی کارکردگی کے ساتھ منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی ایک بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ بار بار ٹیم میں تبدیلیاں نہیں کرتا جبکہ پاکستان کو بھی کمبی نیشن کو خراب کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
سابق کپتان نے کہا کہ بھارتی کھلاڑی ہاتھ نہ ملا کر اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف کام کر رہے ہیں، لیکن وہ اپنی حکومت کی ہدایات کے مطابق چلتے ہیں۔ اگر پاکستانی حکومت بھی ایسی ہدایت دے تو گرین شرٹس کو بھی اس پر عمل کرنا ہوگا۔
انہوں نے بابر اعظم اور محمد رضوان کو باصلاحیت کھلاڑی قرار دیا اور کہا کہ افغانستان کے ساتھ بطور بیٹنگ کنسلٹنٹ کام کرنے کا تجربہ شاندار رہا جہاں انہیں بہت عزت ملی۔ یونس خان کے مطابق افغانستان کے زیادہ تر کھلاڑی ان کے سامنے بڑے ہوئے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کوئی بھی ایشیائی ٹیم مستقل طور پر نمبر ون یا ٹو نہیں ہوتی، جس روز جو ٹیم اچھا کھیل دکھائے وہی سبقت حاصل کرتی ہے۔























