
اعتصام الحق
موجودہ دور میں جب دنیا کے بیشتر ممالک امیگریشن کے قوانین سخت کر رہے ہیں، چین ایک انوکھے اقدام کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ یکم اکتوبر 2025 سے نافذ ہونے والا نیا Kوِیزا نہ صرف ویزا کی دنیا میں ایک نیا حرف ہے، بلکہ یہ چین کی عالمی سطح پر ہنرمندوں کو راغب کرنے کی بڑی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ اس ویزا کے ذریعے چین بین الاقوامی نوجوان سائنس دانوں، ٹیکنالوجسٹ اور محققین کے لیے اپنے دروازے کھول رہا ہے۔
عام ویزا اقسام کے برعکسK وِیزا کی خاص بات اس کی فلیکسبلٹی اور سہولت ہے۔ موجودہ 12 ویزا اقسام کے مقابلے میں یہ نوجوان ہنرمندوں کو داخلے کی زیادہ تعداد، طویل میعاد اور قیام کی زیادہ مدت جیسی سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اس کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ درخواست دینے والوں کے لیے کسی چینی آجر (Employer )یا ادارے کی طرف سے دعوت نامہ لازمی نہیں ہے۔ یہ خصوصیت اسے روایتی ورک ویزا سے الگ کرتی ہے۔
K وِیزا ہولڈرز کو تعلیم، تحقیق، ثقافتی تبادلے، انٹرپرینیورشپ اور کاروباری سرگرمیوں کی اجازت ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک نوجوان محقق چین آکر نہ صرف علمی کام کر سکتا ہے، بلکہ اپنی تحقیق کی بنیاد پر اسٹارٹ اپ بھی شروع کر سکتا ہے۔
K وِیزا کے لیے اہل ہونے کے لیے درخواست دہندگان کے پاس سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں میں کم از کم بیچلر ڈگری ہونی چا ہئیے اور یہ ڈگری دنیا بھر کی تسلیم شدہ جامعات یا تحقیقی اداروں سے حاصل کی گئی ہو۔ متبادل کے طور پر، ایسے اداروں میں متعلقہ تعلیم یا تحقیق کے شعبے میں مصروف نوجوان پیشہ ور افراد بھی درخواست دے سکتے ہیں۔
K وِیزا نوجوان ہنرمندوں کے لیے متعدد فوائد لے کر آیا ہے۔ سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ اب انہیں چین آنے اور کام کرنے کے لیے پہلے سے ملازمت کا آفر لیٹر حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ خصوصیت فریش گریجویٹس یا آزاد محققین کے لیے خصوصی طور پر مفید ہے، جو چین کے انوویشن ایکو سسٹم سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں لیکن ان کے پاس فوری ملازمت کا کوئی موقع نہیں ہے۔
یہ سوال اکثر پوچھا جا رہا ہے کہ یہ ویزا امریکی H1B مے متبادل سمجھا جا سکتا ہے اور یہ بھی کہ ایک ایسے وقت میں یہ منصوبہ سامنے آیا ہے جب امریکی ویزے کی مالیت میں اضافہ کر دیا گیا ہے تو کیا اس عمل میں کسی قسم کی مسابقت ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ K وِیزا کو H-1B ویزا کا براہ راست متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکی H-1B ویزا بنیادی طور پر ایک ملازمت پر مبنی ویزا ہے جس کے لیے امریکی آجر کی طرف سے سپانسرشپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، چین کا Kوِیزا ایک غیر ملازمت پر مبنی ویزا ہے، جس کا بنیادی مقصد اہل نوجوان ہنرمندوں کو چین کے انوویشن ایکو سسٹم سے جوڑنا ہے۔دوسرا یہ کہ یہ منصوبہ چین کے طویل منصوبوں کا حصہ ہے جہاں چین کافی عرصہ سے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے بھی کوششیں کرتا رہا ہے اور اس ضمن میں اس وقت تک 75 ممالک کو ویزا فری پالیسی میں شامل کیا جا چکا ہے۔سو یہ کہنا کہ مذکورہ ویزے کا تعلق کسی مسابقت سے ہے غلط ہو گا Kوِیزا محض ایک امیگریشن پالیسی نہیں، بلکہ چین کی طویل المدتی ترقی کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سائنسی و تکنیکی قیادت کی عالمی دوڑ میں، چین اس کے ذریعے نوجوان ہنرمندوں کو اپنی طرف متوجہ کرکے اہم اسٹریٹجک فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔
نوجوان ہنرمندوں کو ان کے کیریئر کے آغاز میں ہی راغب کرنا چین کے ساتھ طویل المدتی تعلقات استوار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ حکمت عملی “برین ڈرین” کو “برین گین” میں تبدیل کرنے کا اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر بیرون ملک مقیم چینی نژاد ہنرمندوں کے لیے یہ ویزا واپس آکر اپنا حصہ ڈالنے کا آسان ذریعہ ہے۔
یہ پالیسی صرف بیجنگ اور شنگھائی جیسے بڑے شہروں تک محدود نہیں ہے۔ چین کے چھوٹے شہر اور انوویشن ہبز بھی اس کے ذریعے عالمی ہنرمندوں کو راغب کر سکیں گے، جس سے علاقائی ترقی کو متوازن کرنے میں مدد ملے گی۔
Kوِیزا چین کے کھلے پن اور عالمی تعاون کے عزم کا واضح اظہار ہے۔ یہ نہ صرف بین الاقوامی ہنرمندوں کے لیے نئے مواقع کا دروازہ کھولتا ہے، بلکہ چین کی معاشی و سائنسی ترقی کے نئے دور کا بھی اشارہ دیتا ہے۔ آنے والے سالوں میں دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ حکمت عملی کس طرح عالمی براد ری میں چین کی پوزیشن کو مضبوط کرتی ہے اور یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ دنیا بھر کے نوجوان اس موقع سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔
Load/Hide Comments























