سینئر تجزیہ کار راؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور مشیر خزانہ میں اختلافات شدت اختیار کرگئے

سینئر تجزیہ کار راؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور مشیر خزانہ میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیراعظم اور حفیظ شیخ دونوں کی جانب سے ایک دوسرے کے فیصلوں کو رد کیا جارہا ہے، تعجب ہے کہ وزیراعظم تو مشیرخزانہ کا فیصلہ ریورس کرسکتے ہیں لیکن مشیرخزانہ ایساکیسے کرسکتے ہیں؟ انہوں نے اپنے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے کچھ اہم فیصلوں کو مشیر خزانہ نے رد کیا ہے، وزیراعظم تو ایسا کرسکتے ہیں لیکن مشیرخزانہ کو تو کسی صورت وزیراعظم کے فیصلوں کو ریورس نہیں کرنا چاہیے۔
آئندہ دنوں دونوں میں سیاسی اختلافات کی شدت بڑھتی چلی جائے گی۔اگر معاشی معاملات پر ایسا ہی چلتے ہیں تو کیسے چیزیں چلیں گی؟ وزیراعظم عمران خان اور حفیظ شیخ کے درمیان سیاسی لڑائی شبر زیدی کے معاملے پر شروع ہوئے، شبر زیدی کی حفیظ شیخ نے بڑی کلاس لی تھی، جو کہ بلاوجہ تھی۔

وزیراعظم عمران خان اور شبرزیدی کے درمیان بڑے اچھے مراسم ہیں، عمران خان شبرزیدی پر بڑا اعتماد کرتے ہیں،جبکہ حفیظ شیخ شبر زیدی پر پہلے دن ہی پسند نہیں کرتے تھے۔

حفیظ شیخ ریونیو ٹارگٹ پر بڑی کلاس لی۔ شبر زیدی ناراض ہوکر چھٹی پر چلے گے، حفیظ شیخ کو یہ بات پسند نہیں کہ ان کے ماتحت ویراعظم سے رابطے میں رہیں ۔حفیظ شیخ نے فیصلہ کیا کہ اشیاء پر ڈیوٹی عائد کی ، تو وزیر اعظم نے اس کو اٹھا کر پھینک دیا، کہ ایسا نہیں ہوسکتا، بلکہ چینی ڈیوٹی فری منگوائی جاسکتی ہے۔وزیراعظم نے کابینہ کا اجلاس کیا، کہ ہمارے سوشل ورکر بیروزگار ہیں ان کو نوکریاں دینی ہیں،اس کیلئے ڈیجیٹل میڈیا ونگ بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس کیلئے چار کروڑ سے زائد بجٹ کی منظوری کیلئے وزارت خزانہ کو درخواست کی ، لیکن مشیرخزانہ نے کہا کہ ہمارے پاس بجٹ نہیں ہے۔کہا کہ آپ اس بجٹ کو ای سی سی سے منظور کروائیں۔اس طرح دونوں میں اس معاملے پر کافی اختلاف پیدا ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں