کراچی یونیورسٹی کی زمین پر مبینہ قبضے کے حوالے سے رپورٹ طلب

سندھ ہائیکورٹ نےکراچی یونیورسٹی کے ریسرچ سنٹر کی زمین پر مبینہ قبضے کے حوالے سے ممبربورڈ آف ریونیو سے رپورٹ طلب کرلی۔ جامعہ کراچی کے ریسرچ سینٹر کی زمین پر قبضہ سے متعلق سماعت سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت عدالت کا کہنا تھا کہ ریسرچ سینٹر کی زمین پر قبضہ ہوا ہے۔ مفاد عامہ کا معاملہ ہے رپورٹ پیش کریں،یہاں جو قبضہ مافیا ہے ان کو کوئی کچھ نہیں بولتا،لیکن جو عوام کےمفاد پر کام کرتا ہے ان پر مقدمات دائر ہوتے ہیں،کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ظفر سعید نے ریسرچ کے لیے زمین مختص کی تھی،سالوں سے درخواست گزار کو قبضہ نہیں ملا،اب تو ظفر سعید رٹائرڈ بھی ہوگئے ہیں،زمین کا قبضہ یونیورسٹی کو دلاکر ان کی خواہش پوری کی جائے،اب وہ عدالت میں آنے کی حالت میں بھی نہیں، بورڈ آف ریونیو کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا حکم امتناع ہے کہ متبادل زمین کسیکو نہیں دے سکتے، عدالت کا کہنا تھا کہ آپ سپریم کورٹ کا حکم اور بورڈ آف ریونیو کی

رپورٹ پیش کریں،درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ملیر میں 6 ایکڑ زمین کراچی یونیورسٹی ریسرچ کے لئے الاٹہوئی تھی،سندھ حکومت نے وہ زمین کسیاور کو الاٹ کردی ،عدالت نے وہ زمین بعد میں یونیورسٹی کو الاٹ کی،عدالتی احکامات پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا

اپنا تبصرہ بھیجیں