پاک–سعودیہ دفاعی معاہدہ ایک سنگ میل!

نقطہ نظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نعیم اختر

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا حالیہ اسٹریٹیجک دفاعی تاریخ ساز معاہدہ نہ صرف دونوں برادر اسلامی ممالک کے تعلقات میں نئی جہت کا آغاز ہے بلکہ پورے خطے کے تزویراتی منظرنامے (Strategic Landscape) میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بھی ہے۔ یہ معاہدہ اس لحاظ سے تاریخی ہے کہ اس کے تحت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس ترین مقامات کے دفاع کی ذمہ داری براہِ راست پاک فوج کو سونپی گئی ہے۔ اس سے بڑھ کر کسی اعزاز اور اعتماد کا مظاہرہ ممکن ہی نہیں کہ امتِ مسلمہ کے روحانی مرکز کا تحفظ پاکستان کے سپاہی کریں گے۔
پاکستان کی 50 ہزار فوجی نفری سعودی عرب میں تعینات کی جائے گی۔
پانچ میزائل رجمنٹس قائم ہوں گی جن میں بیلسٹک، کروز اور بیک وقت 13 اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا ابابیل میزائل شامل ہوگا۔
جدید ترین ائر ڈیفنس اور کمیونیکیشن سسٹمز کی تنصیب ہوگی، جس کے لیے پاکستان نے چین سے 406 ملین ڈالرز کی لاگت سے بیس سیٹلائٹس خریدے ہیں۔
نئی ائر بیسز بھی قائم ہوں گی اور جے ایف 17 تھنڈر اور سی-10 طیارے سعودی فضائیہ میں شامل کیے جائیں گے۔
ایک مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تشکیل دیا جائے گا، جس کے ذریعے کسی ایک ملک پر حملہ دراصل دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا، اور افواج بلا تاخیر حرکت میں آ سکیں گی۔
سعودی تیل سپلائی روٹس کا تحفظ بھی براہِ راست پاک فوج کی ذمہ داری ہوگا۔
یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو نئی سمت دے گا۔ اسرائیل اور اس کے پشت پناہ مغربی ممالک جو ہمیشہ سے مسلم دنیا کے وسائل اور حرمین شریفین کی حفاظت کے بارے میں سازشوں میں مصروف رہتے ہیں، اب انہیں یہ پیغام صاف طور پر مل گیا ہے کہ حرمین کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ اس شراکت داری کے نتیجے میں نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے خلیج خطے کے دفاعی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئے گی۔
ایران، یمن اور خلیجی تنازعات کے تناظر میں یہ معاہدہ ایک ڈیٹرنس (Deterrence) کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی بھی بیرونی طاقت کو اب یہ سوچنا ہوگا کہ سعودی عرب پر حملہ دراصل پاکستان پر حملہ ہوگا، جس کے جواب میں ایک ایٹمی صلاحیت رکھنے والی فوج حرکت میں آئے گی۔
اس تاریخی معاہدے کےعالمی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے یہ معاہدہ مغربی دنیا اور بڑی طاقتوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ امریکہ اور یورپی اتحادی جہاں اپنی موجودگی کو خطے میں اجارہ داری کی ضمانت سمجھتے تھے، اب انہیں ایک نئی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسلامی دنیا اپنے دفاع کے لیے خودمختار فیصلے کر رہی ہے۔
چین کے ساتھ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور ائر کمیونیکیشن سسٹمز کی شراکت داری یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب، امریکی اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر ایک نیا دفاعی بلاک تشکیل دے رہے ہیں۔ اس سے روس اور دیگر طاقتیں بھی اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی پر مجبور ہوں گی۔
یہ دفاعی معاہدہ مسلم امہ کے لیے امید کی کرن ہے
سب سے بڑھ کر اس معاہدے نے مسلم دنیا میں ایک نئی اُمید جگا دی ہے۔ دہائیوں سے امتِ مسلمہ ایک ایسے اتحاد کی متلاشی تھی جو محض بیانات تک محدود نہ ہو بلکہ عملی صورت اختیار کرے۔ اب جب کہ پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب کی طرح کھڑے ہیں، دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس صف میں شامل ہونا چاہیے تاکہ عالمی سیاست میں مسلم بلاک کی طاقت کو محسوس کیا جا سکے۔
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے جس بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ یہ معاہدہ نہ صرف حرمین شریفین کے تحفظ کی ضمانت ہے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور طاقت کے نئے توازن کا آغاز بھی ہے۔
الحمدللہ! پاکستان اور سعودی عرب کا یہ دفاعی اتحاد مستقبل میں ایک اسلامی نیٹو (Islamic NATO) کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ اب وقت ہے کہ مسلم دنیا خواب غفلت سے بیدار ہو اور اپنے مشترکہ دفاع، وسائل اور مقدسات کا تحفظ یقینی بنایا جائے ۔